Daily Mashriq


پاک امریکہ زوال پذیر فوجی تعلقات

پاک امریکہ زوال پذیر فوجی تعلقات

یہ خبر قطعی کسی حیرت کا باعث نہیں بنی ہوگی کہ امریکہ نے پاکستان کو اپنے انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام کے دائرے سے خارج کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اس سال چھیاسٹھ پاکستانی فوجی افسروں کو تربیت کیلئے امریکہ جانا تھا، اس فیصلے کے بعد کوئی بھی پاکستانی فوجی امریکہ نہیں جائے گا۔ اب پاکستان کی جگہ کسی دوسرے ملک کے فوجی افسر اس تربیت سے استفادہ کریں گے۔ اس منسوخ شدہ پروگرام کی مالیت چوبیس لاکھ ڈالر ہے۔ اس پروگرام کے تحت مجموعی طور پر پاکستان کے تین ہزار سات سو چھیاسٹھ فوجی افسروں نے تربیت حاصل کرنا تھی۔ پاکستانی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی نے اس فیصلے کو ظالمانہ قرار دیا ہے جبکہ سابق امریکی نمائندے ڈین فیلڈمین نے اسے تنگ نظری قرار دیا ہے۔ دونوں طرف کے فوجی حکام نے تاحال اس فیصلے پر تبصرہ نہیں کیا۔ امریکہ کی طرف سے پاکستانی فوج کو تربیت کی حاصل سہولت اچانک ختم نہیں ہوئی اس کے پیچھے دہائیوں کی کشمکش، کشیدگی، رنجش، دوری اور ڈومور اور نومور کی تکرار ہے۔ پاکستان سے امریکہ کا جی اسی وقت بھر گیا تھا جب سوویت یونین افغانستان میں اپنے فوجی مقاصد میں ناکام ہوکر واپس لوٹ گیا تھا اور یہ دیوہیکل ریاست کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی تھی۔ اس سے امریکہ کیلئے پاکستان کی فوری اور اہم ترین ضرورت ختم ہو گئی تھی۔ امریکہ نے افغان جنگ کے اثرات بھگتنے کیلئے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔ سرد جنگ کے بعد امریکہ کی خطے میں نئی ضرورتیں اور نئے مقاصد تھے۔ اب سوویت یونین کا سرخ لاوے کے پھٹ پڑنے کا خطرہ ٹل گیا تھا اور اس کی جگہ امریکہ کو ایک خاموش خطرے کی بو محسوس ہو رہی تھی۔ یہ خطرہ چین سے تھا اور اس کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ کو جنوبی ایشیاء میں ایک طاقتور اتحادی کی ضرورت تھی۔ پاکستان چین کا روایتی دوست تھا اس لئے شاید وہ یہ ضرورت پوری کرنے سے قاصر تھا اس لئے امریکہ کی نظرِانتخاب بھارت پر جا ٹھہری۔ امریکہ نے جنوبی ایشیا میں اپنے انڈے اور ڈنڈے بھارت کی ٹوکری میں ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کو بھارت کیساتھ نتھی کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ یہ حکمت عملی بیک فائر کر گئی اور یہی پاک امریکہ تعلقات کو لاحق بیماری کی بنیاد بنی۔ بھارت کیساتھ پاکستان کے سنجیدہ اور گہرے اختلافات تھے جن کی جڑیں تاریخ میں بہت دور تک پیوست تھیں۔ ان اختلافات کو باوقار انداز میں ختم کئے بغیر دونوں ملکوں کا قریب آنا ممکن نہ تھا۔ نائن الیون نے ایک نئی صورتحال کو جنم دیا۔ امریکہ نے پاکستان کیلئے ’’ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں‘‘ کی لکیر کھینچ دی اور یوں ایک کھینچا تانی کا آغاز ہوگیا۔ افغانستان میں بھارت کا اثر ورسوخ پاک امریکہ تعلقات کو گھن کی طرح اندر ہی اندر چاٹتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ دونوں ملکوں کے فوجی اور سیاسی تعلقات میں تضاد پیدا ہوگیا۔ دہشتگردی اور دہشتگرد، ہیرو اور ولن کے تصورات بدل گئے۔ اس سے یہ تصور بھی بدل گیا کہ امریکہ پاکستان میں فوج کا اتحادی ہے اور جرنیل امریکہ کے اشارے پر مارشل لاء لگاتے رہے ہیں۔ امریکہ نے فوج سے اپنا ناطہ توڑ کر سویلین حکمرانوں اور بڑی سیاسی جماعتوں کو شیشے میں اُتارنے کی حکمت عملی اختیار کی اور یوں پاکستان میں سویلین ملٹری کشمکش تیز ہوگئی۔

امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر ناگواریت کا مسلسل اظہار جاری رکھا اور دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان سلالہ کا ایسا واقعہ ہوا جس نے اشتراک اور اتحادی کا رہا سہا بھرم ختم کر دیا۔ یہ پاک افغان سرحد پر امریکی فوج کا فضائی حملہ تھا جس میں دو درجن سے زیادہ فوجی جاں بحق ہوئے تھے۔ اب فوجی افسروں کی تربیت کا خاتمہ دونوں ملکوں کے تعلقات کا دائرہ سکڑنے کی انتہا ہے۔ امریکہ اب کرۂ ارض کی واحد طاقت نہیں رہا۔ یونی پولر نظام کا عارضی سورج اب ڈھلنے کی طرف رواں ہے، اس کے باوجود امریکہ کی اہمیت مسلمہ ہے۔ ہمارے لئے یہ کسی طور بھی اچھا نہیں کہ ایک عالمی طاقت ہم سے اور ہم اس سے قطع تعلق کرتے جا رہے ہیں۔ ماضی میں بھی ہم سوویت یونین سے کلی طور پر کٹ کر امریکہ کے پلڑے میں جھولتے رہے اور اس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی عدم توازن کا شکار رہی۔ سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدات میں ہماری شمولیت سے سوویت یونین درپہ آزار رہا اور حسب ضرورت امریکہ بھی مدد کو نہ آیا۔

امریکہ کا ساتواں بحری بیڑہ اس کی توتا چشمی کا محاورہ بن کر رہ گیا۔ کئی دہائیاں گزر چکی ہیں اور آج بھی مشکل وقت میں وعدہ فردا پر ٹرخانے کی بات ہو تو امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے کی مثال دی جاتی ہے۔ ایک بڑی عالمی طاقت کیساتھ پاکستان کے فوجی تعلقات میں روکھا پن ایک المیہ ہے مگر امریکہ نے یہ ناگزیر بنا دیا ہے۔ بات عسکری تربیت کی نہیں، افغانستان میں امریکی فوج کا حال دیکھیں تو ان سے تربیت لینے کی کوئی صورت ہی باقی نہیں رہتی مگر کچھ چیزیں علامتی ہوتی ہیں جو جرنیل امریکہ سے تربیت حاصل کرکے آتے تھے وہ بلاشبہ ذہنی طور پر امریکہ سے متاثر اور مغلوب ہوتے تھے۔ یہی لوگ پاکستان اور امریکہ کی فوجی پارٹنرشپ کو اچھے طریقے سے چلاتے تھے۔ اب شاید امریکی بھارت کی قیمت پر پاکستان کیساتھ تعلقات قائم رکھنے کے قائل ہی نہیں رہے۔ باالخصوص امریکہ میں جس پاکستان مخالف لابی کے مشورے سے پاکستان پالیسی بن رہی ہے اس کی سوچ وفکر یہی ہے کہ پاکستان کی کلائی مروڑ دی جائے اور اگر اس سے کام نہیں چلتا تو پاکستان سے قطع تعلق کر دیا جائے۔ پاکستان کے پاس چین اور روس جیسے علاقائی اتحادیوں کی شکل میں متبادل موجود ہے اور امریکہ بھی اس حقیقت سے غافل نہیں۔

متعلقہ خبریں