Daily Mashriq


چاہ یوسف سے مجھے اپنی صدا آئی ہے

چاہ یوسف سے مجھے اپنی صدا آئی ہے

فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے اس قسم کی ردی میں پکوڑے فروخت ہوتے تھے مگر اب کی بار نانبائیوں نے بھی اس سے استفادہ شروع کر دیا ہے، ویسے یہ نانبائی اسلام آباد والے ہیں پشاور کے نانبائی اب بھی اخباری کاغذ ہی کا استعمال کرتے ہیں اور اس میں بھی اس قدر احتیاط ضرورکرتے ہیں کہ جن صفحات پر مقدس نام ہوتے ہیں انہیں احتیاط سے ایک جانب رکھ دیتے ہیں، جبکہ فلم اور شوبز والے صفحات کو پہلے بڑے غور سے دیکھتے ہیں اور جب یا تو دل بھر جاتا ہے یا رش کی وجہ سے گاہک شور مچانا شروع کر دیتے ہیں تو ان کاغذوں کو بھی ضرورت کے مطابق پھاڑ کر ان میں روٹیاں گاہکوں کو تمھا دیتے ہیں مگر جب سے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں تندور والوں کو یہ ردی ملی ہے وہ بلاخوف وخطر انہی کاغذوں میں گرم گرم روٹیاں لپیٹ کر گاہکوں کو دے دیتے ہیں۔ یوں جن لوگوں نے ان کاغذات کو ردی کے بھاؤ فروخت کیا ہے ان کے نقطۂ نظر سے تو صورتحال وہی ہو رہی ہے کہ ہینگ لگے نہ پھٹکری، رنگ بھی چوکھا آئے۔ ہمارے ایک ریڈیو کے ساتھی اور خاندانی طور پر پشاور سے تعلق رکھنے والے ساتھی صفدر ہمدانی نے شاید ایسی ہی صورتحال کے بارے میں کہا ہے

مجھ کو بھی اپنوں نے نیلام کیا ہے صفدر

چاہ یوسف سے مجھے اپنی صدا آئی ہے

مجھے یاد ہے کہ ریڈیو کی ملازمت کے دور میں اکثر وبیشتر سرکاری مراسلے آتے رہتے تھے، ان میں سے بعض تو ایسے ہوتے جنہیں محفوظ کرنا ضروری ہوتا، ان کیلئے ہر آفیسر نے ایک فائل رکھی ہوتی، تاہم بعض ایسے بھی تھے جنہیں وقتی طور پر قابل توجہ قرار دیا جاتا اور جیسے ہی اس کا مصرف ختم ہوجاتا ان کو فیئر اینڈ فری ڈسپوزل کے تحت ردی کی ٹوکری میں ڈال کر گلوخلاصی کرلی جاتی۔ اب یہ جو ردی کے بھاؤ اسلام آباد کے بعض سیکٹروں میں تندور والوں کو کاغذوں کے انبار تھما دیئے گئے ہیں، ان کی حیثیت کا تعین کیسے کیا جائے کہ الیکشن میں ہار جانے والوں نے انہی کی تو دہائی دینا شروع کر رکھی ہے، یعنی فارم46 کی پولنگ ایجنٹوں کو تصدیق شدہ کاپیوں کی عدم فراہمی کو جواز بناکر شور مچایا جا رہا ہے اور پورے الیکشن کو رگنگ کا شاخسانہ قرار دیکر مسترد کیا گیا ہے۔ سیاسی قائدین کے نقطۂ نظر سے فارم46 کی اہمیت سب سے جدا جبکہ الیکشن کمیشن کے نزدیک اس کی قدر بس اتنی کہ پولنگ ایجنٹوں کو اس پر تفصیل بھر کر، دستخط کر کے اور پولنگ ایجنٹوں سے فارم پر انگوٹھے لگوا کر ایک ایک کاپی انہیں تھمانے میں چونکہ وقت کا ضیاع ہوتا تھا اسلئے اسے فری اینڈ فیئر ڈسپوزل کے اصول کے تحت ردی میں کیوں نہ فروخت کر دیا جائے اور اس قدر نادر سوچ کے اُبھرتے ہی متعلقہ حکام نے یقیناً خود کو داد بھی دی ہوگی، ایسے اچھوتے نظریئے کے حامل افراد کیلئے بھی تو کہا گیا ہے کہ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنے خاکستر میں ’’ہے‘‘۔ اب جو لوگ فارم46 کی عدم فراہمی اور الیکشن نتائج پر جو کچھ فرما رہے ہیں کیا ان سے افتخار عارف کے اس شعر کے مطابق اتفاق کیا جا سکتا ہے؟ کہ

شکست وفتح کے سب فیصلے ہوئے کہیں اور

مثال مال غنیمت لٹا دیئے گئے لوگ

کیا ہم موضوع سے تھوڑا سا بھٹک نہیں گئے؟ یعنی بات تو ہو رہی تھی فارم46 کی ردی کے طور پر فروخت اور اس کی اسلام آباد کے تندوروں پر رونمائی کے حوالے سے، مگر جاتے جاتے دھاندلی کے شور میں پھنس گئے، ویسے خدا لگتی کہئے تو فارم46 کو جو عزت اسے ردی میں فروخت کرنیوالوں نے دی ہے اس پر فارم46 کو اپنے فروخت کنندوں کا شکر گزار ہونا چاہئے کیونکہ وہ چاہتے تو ان کو بھی اسی طرح کسی گٹر میں پھینک سکتے تھے، کسی کوڑے کے ڈھیر کو اس کا ٹھکانہ بنا سکتے تھے جیسے کہ بیلٹ پیپرز کا حشر دیکھنے میں آیا اور کئی ہارنے والوں کو ان کے ووٹ ایسے ہی مقامات سے دستیاب ہوئے، ان کی تصویریں اخبارات میں چھپیں، ویڈیو ٹی وی چینلز پر عوام نے دیکھی اور سوشل میڈیا پر وائرل شدہ صورت میں اب بھی دستیاب ہے حالانکہ فارم46 کو ردی کے بھاؤ فروخت کرنے والوں نے یہ سوچ کر اسے ٹھکانے لگایا کہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری، مگر ان کی بدقسمتی کہ نہ صرف بانس بھی موجود ہے اور بانسری بھی بج رہی ہے اور اس میں سے دیپک راگ کے سر اُبھر رہے ہیں جس نے ہر جانب آگ لگانا شروع کر دی ہے اور چاروں جانب احتجاج کی جو صدائیں مختلف راگ راگنیوں کی صورت اُبھر رہی ہیں ان کے بارے میں قتیل شفائی نے کہا تھا

کبھی سارے، کبھی گاما، کبھی پادھا، کبھی نی سا

مسالہ جان کر اس نے سدا ہر گیت کو پیسا

اب کچے پکے راگوں سے مزین موسیقی کی یہ تانیں کہاں جا کر اثر کرتی ہیں کہ احتجاج کرنے والوں نے سات سروں کا بہتا دریا، تیرے نام، تیرے نام کی جگالی کرتے ہوئے قوالی کے انداز میں گانا شروع کردیا ہے، جس کی ایک جھلک گزشتہ روز کے پی اسمبلی میں پہلے سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج ریکارڈ کروایا، پھر پی ٹی آئی ارکان سے الگ حلف اٹھا کر اپنے ہونے کا احساس دلایا یعنی

اپے ہونے کا پتہ دیتے ہیں

ہم بھی زنجیر ہلا دیتے ہیں

تو پھر دیکھتے ہیں کہ یہ کہانی آگے جاکر کتنے نئے رخ اختیار کرتی ہے، احتجاج کرنیوالے اپنی تھاں پہ واپس آتے ہیں یا پھر ان کا شور شرابہ رنگ لاتا ہے اور انہیں میر تقی میر سمجھ کر یوں آواز دی جاتی ہے کہ

یوں پکارے ہے مجھے کوچۂ جاناں والے

ادھر آبے، ابے او چاک گریباں والے

متعلقہ خبریں