Daily Mashriq


شکوے شکایات اور مسائل

شکوے شکایات اور مسائل

چونکہ یہ سطور عین یوم آزادی کے موقع پر تحریر ہورہی ہیں اسلئے خیال آیا کہ اس موقع پر میڈیا کی آزادی کا بھی جائزہ لیا جائے۔ میڈیا پر پابندیوں اور ٹی وی پروگرام روکے جانے پر دھیرے دھیرے احتجاج ہونے لگا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد حزب اختلاف بھی تڑکا لگانے کیلئے میڈیا کی آزادی کا معاملہ اُٹھا کر ملک میں سیاسی معاملات کیساتھ میڈیا پر قدغن کی راگ بھی چھیڑ دے گی۔ عین متوقع حکومت کے عمال تو پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان جیسے سرکاری ترجمان اداروں کو بھی متوازن پالیسی دینے کے عزائم کا اظہار کر رہے ہیں وہ پہلے سے آزاد میڈیا پر قدغنوں کا کیا کریں گے۔ یہ ان کا امتحان ہوگا جس سے قطع نظر بنظر طائر دیکھا جائے تو میری دانست میں ٹی وی چیلنز پر آزادی کا جس طرح غلط استعمال حادثاتی اینکر پرسنز نے کیا اس کے بعد قدغن بندشیں تو آنی تھیں کیونکہ جو حدود وقیود انہوں نے ریٹنگ بڑھانے کیلئے، مالکان کی خواہش پر یا کسی ذاتی ایجنڈے کے طور پر پامال کیں اس کی سزا فطرت کی طرف سے ملنی ہی تھی۔ آزادی کا ذمہ دارانہ استعمال ہی آزادی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ کالم کے قارئین کی تعداد اور تبصروں سے لگتا ہے کہ اسے ہفتہ وار کرنے کی بجائے سہ روزہ کرنا پڑے گا مگر ایسا ممکن نہیں۔

قارئین میں اسلامیہ کالج کے طالب عبدالحکیم تواتر کیساتھ کالم کے حوالے سے اپنی رائے دیتے رہتے ہیں۔ اکثر ان کو کوئی شکایت نہیں ہوتی مگر اس ہفتہ وارکالم کے علاوہ ایک کالم کو انہوں نے سخت ناپسند کرنے کا برقی پیغام دیا ہے۔ کالم پڑھ کر جو بھی کھلے دل سے رائے دی جائے اس کا خیر مقدم۔

ایک قاری نے برقی پیغام میں لکھا ہے کہ رشتوں کے بازار میں آج کل وہ لوگ ہمیشہ اکیلے رہ پاتے ہیں جو دل اور زبان کے سچے ہوتے ہیں۔ مجھے آپ کی رائے سے بڑی حد تک اتفاق ہے۔ تجربات سے یہی سامنے آتا ہے لیکن میں پھر بھی مصر ہوں کہ سچ ہی ذریعہ نجات ہے۔ سچ کہنے اور سچائی پر مبنی مؤقف سے وقتی طور پر تعلقات میں دراڑ آ بھی جائے تو وقت کا مرہم دھیرے دھیرے اسے ختم کردیتا ہے اور جب حقیقت سامنے آتی ہے تو پھر ناراض فریق ہی نظریں جھکا لیتا ہے۔ آپ بھی اپنے اردگرد دیکھئے جو لوگ صاف گو ہوں گے ان کی خاندان، دفتر اور معاشرے میں زیادہ قدر نہیں ہوگی مگر مطمئن اور کامیاب لوگ ہوں گے پھر بھی حق گو، جن کے ضمیر پر جھوٹ اور مکاری کا بوجھ لادا ہوتا ہے وہ کبھی سکھی نہیں رہ سکتے۔

ملاکنڈ سے دیرینہ قاری نیک خان بڑے دکھی دل سے ضلع ملاکنڈ میں یونیورسٹی یا کسی یونیورسٹی کا کیمپس نہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تھانہ الہ ڈھنڈ، بٹ خیلہ اور تحصیل تخت بھائی کے طالب علم چکدرہ دیر میں واقع ملاکنڈ یونیورسٹی سے استفادہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلع ملاکنڈ کیلئے درگئی میں یونیورسٹی کے قیام کی ضرورت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملاکنڈ یونیورسٹی کے ہوتے ہوئے ضلع ملاکنڈ کے ایک نوجوان کو اعتراض ہے، بہرحال یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ ایسا نہیں کہ اس میں کوئی مفاد تلاش کیا جائے۔ کم ازکم یونیورسٹی کا کیمپس درگئی میں فوری کھولا جانا چاہئے۔ میرے دل گرفتہ قاری کو اب خوش ہوجانا چاہئے کہ عین متوقع وزیراعلیٰ محمود خان کا تعلق ان کے ڈویژن سے ہے۔ وہ اس جائز مطالبے کو ضرور پورا کریں گے۔

میرے ایک بھائی نے اپنے ایک ذاتی اور خاندانی مسئلے میں میری مدد طلب کی ہے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے سسرال والوں نے ان کے بیوی بچوں کو اپنے پاس روک رکھا ہے اور معاملات متنازعہ ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ کوئی بھی خوشی سے اس قسم کی حرکت نہیں کرتا کچھ غلط فہمیاں اور معاملات ہوتے ہیں بعض اوقات واقعی سسرال والے معمولی بات لیکر بیٹھ جاتے ہیں اور ضد کے مار ے اپنی ہی بیٹی کا گھر اُجاڑنے پر تل جاتے ہیں۔ ان کو اپنی ضد اور انا عزیز ہوتی ہے۔ اپنی بیٹی، ان کے میاں اور بچوں کی ان کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اس معاملے میں دعا ہی کر سکتی ہوں اور قارئین سے بھی دعاؤں کی اپیل کہ اس بھائی کا خاندانی تنازعہ جلد حل ہو جائے۔ ویسے عزیز بھائی اس ضمن میں بڑی دلچسپ بات کیا کرتے ہیں ان کو کسی نے نصیحت کی تھی کہ میاں بیوی کے جھگڑے میں کبھی مت بولنا، وہ صبح روٹھیں گے تو شام کو مان جائیں گے تم اگر کسی ایک فریق کی حمایت اور دوسرے کی مخالفت کرو تو دونوں ہی کی خفگی مول لوگے۔ میاں بیوی کے معاملے میں تو قاضی کی بھی نہیں چلتی بس دنوں میں ذہنی ہم آہنگی اور پیار ہونا چاہئے۔

میرے ایک قاری نے تہکال پولیس کے حوالے سے گزشتہ کالم کے مندرجات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی قربانیوں کا تذکرہ کیا ہے۔ میرے بھائی میں نے پورے خیبر پختونخوا پولیس کی بات نہیں کی تھی بلکہ تھانہ تہکال کی پولیس گردی کی بات کی تھی۔ مجھے پولیس کی قربانیوں اور مشکلات دونوں کے بارے میں قدرے زیادہ تفصیلات کا علم ہے، پولیس شہداء کے بہت سے کرداروں کے بارے میں علم ہے، بہت سے پولیس افسران میرے اکیڈمی کے ساتھی ہیں، مجھے شکایت صرف ان پولیس اہکاروں سے ہے جو لوگوں کو بے جا تنگ کرتے ہیں اور رشوت لیتے ہیں۔ باقی پولیس ہمارے بھائی اور محافظ ہیں، بھلا اپنے محافظین سے بھی کوئی بیر رکھتا ہے۔ صرف پولیس نہیں ہر شعبے میں جو لوگ بھی اپنے فرائض سے جی چرانے اور بدعنوانیوں میں ملوث ہوتے ہیں سب کی مذمت ہونی چاہئے۔ کسی ایک یا چند کا تذکرہ پورے ادارے کا تذکرہ تو نہیں ہوتا لیکن بہرحال جن پر تنقید کی جائے وہ اس ادارے کے نمائندہ افراد ضرور ہوتے ہیں اسلئے یہ ہر ادارے کے سربراہوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں پر نظر رکھیں اور تنقید وتنقیع کا موقع نہ دیں۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں