Daily Mashriq


عاطف خان کیوں وزیراعلیٰ نامزد نہ ہو سکے؟

عاطف خان کیوں وزیراعلیٰ نامزد نہ ہو سکے؟

پاکستان تحریک انصاف نے سوات سے منتخب ہونیوالے رکن صوبائی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر محمود خان کو صوبہ خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ نامزد کیا ہے۔ 45 سالہ محمود خان کا تعلق سوات کے علاقے مٹہ سے ہے اور وہ پہلی مرتبہ2013میں سوات سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور بعد میں صوبائی کابینہ میں وزیر کھیل وثقافت اور آبپاشی کے عہدے پر فائض رہے۔ حالیہ انتخابات میں سوات کے حلقہ پی کے نو سے صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ نرم لہجے کے حامل پی ٹی آئی رہنما 2013 کے الیکشن سے پہلے پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔ اس سے قبل وہ کچھ عرصے کیلئے پیپلز پارٹی کا حصہ بھی رہے اور اس دوران وہ مٹہ کے علاقے سے یونین کونسل کے ناظم بھی منتخب ہوئے تھے۔ محمود خان نے اپنی ابتدائی تعلیم سوات اور پشاور کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی اور بعد میں زرعی یونیورسٹی پشاور سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ بتایا جاتا ہے کہ کچھ دنوں سے پی ٹی آئی میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے عہدے کیلئے واضح طور پر دو گروپ سامنے آئے تھے اور ابتدا میں اس اہم عہدے کیلئے دو نام لئے جا رہے تھے جن میں سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور سابق وزیر تعلیم عاطف خان شامل تھے جبکہ محمود خان کا نام امیدواروں میں شامل نہیں تھا۔ تاہم پرویز خٹک کی طرف سے عاطف خان کی کھل کر مخالفت کی گئی اور اس سلسلے میں پشاور میں سابق وزیراعلیٰ کی طرف سے تقریباً 41 کے قریب نو منتخب ایم پی ایز اور ایم این ایز کا ایک اجلاس بھی بلایا گیا تھا جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ تمام افراد ان کیساتھ ہیں اور عاطف خان کی نامزدگی کی صورت میں پارٹی میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ تاہم بعد میں پارٹی اختلافات سے بچنے کیلئے کسی تیسرے امیدوار پر سوچ وبچار شروع ہوئی اور اس طرح اس اہم عہدے کیلئے محمود خان کے نام پر اتفاق کیا گیا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ خیبر پختونخوا کے نامزد وزیراعلیٰ محمود خان کے کندھوں پر صوبے میں اب پاکستان تحریک انصاف کے منشور پر عمل درآمد کروانے کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تومحمود خان نے بلدیاتی انتخاب سے صوبائی وزیر کھیل اور کلچر کے بعد اب وزارت اعلیٰ کے عہدے تک بڑی چھلانگ لگائی ہے جبکہ محمود خان پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی پہلی ترجیح نہیں تھے اور یہ حقیقت بھی سامنے ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت نے اہم عہدوں پر تعیناتی کے فیصلے کرنے ہیں اور اس کیلئے متعدد امیدوار سامنے ہیں۔ یہ معاملہ بالکل ویسا ہی ہے جب انتخابات سے پہلے پارٹی ٹکٹ لینے کے خواہشمندوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور عمران خان نے ٹکٹوں کی تقسیم کو انتہائی مشکل مرحلہ قرار دیا تھا۔ کے پی کے وزیراعلیٰ کے عہدے کیلئے سب سے پہلے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک امیدوار تھے اور وہ بھی ایسے مضبوط امیدوار جس کے سامنے عمران خان بھی مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ پرویز خٹک کو دوبارہ وزیراعلیٰ نامزد کرنا مشکل تھا اور اس کی وجہ قومی اسمبلی میں جماعت کے زیادہ سے زیادہ اراکین کی ضرورت کو قرار دیا گیا ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق عمران خان کی پہلی ترجیح سابق وزیر تعلیم عاطف خان ہی تھے اور ان کی خواہش تھی کہ عاطف خان وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ہوں لیکن اس خواہش کی تکمیل نہیں ہو سکی۔ خدا لگتی بات یہ ہے کہ عمران خان کیلئے کے پی وزیراعلیٰ ایک مشکل فیصلہ تھا اور انہیں خیبر پختونخوا میں ایک ایسا وزیراعلیٰ چاہئے تھا جو ان کے ایجنڈے کو من وعن تسلیم کرے اور اس پر عمل درآمد بھی کرے۔ ان فیصلوں میں پاکستان تحریک انصاف کے پہلے سو دنوں کا ایجنڈا، قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد اصلاحات اور مختلف اداروں کے قبائلی علاقوں تک رسائی اور دیگر اصلاحات کا عمل مکمل کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ متعدد ترقیاتی کام ان کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ بنا بریں پرویز خٹک کے علاوہ اسد قیصر اور حیدر علی ایسے امیدوار تھے جو قومی اسمبلی کی نشستیں بھی جیت چکے ہیں اور مرکز میں عددی برتری کیلئے ایک ایک نشست ضروری ہے یہاں تک کہ پی ٹی آئی کو ایم کیو ایم سے بھی مدد مانگنی پڑی ہے حالانکہ الیکشن سے پہلے عمران خان ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے سے انکار کر چکے تھے۔ پرویز خٹک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی تجربہ کار اور زیرک سیاستدان ہیں اور انتخابات میں کامیابی کے بعد انہوں نے جو دباؤ عمران خان اور پارٹی قیادت پر برقرار رکھا وہ شاید کسی اور سیاستدان کے بس کی بات نہیں تھی۔ پشاور میں اراکین اسمبلی کا اجلاس طلب کرکے اکتالیس اراکین کی طاقت کا مظاہرہ کرنا بھی اسی دباؤ کی ایک کڑی تھی حالانکہ اس بارے میں پارٹی قیادت نے نوٹس بھی لیا اور پرویز خٹک نے اس اجلاس کو ایک عام اجلاس ہی قرار دیا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ عمران خان ایک انقلابی منصوبہ رکھتے ہیں اور ماضی کی حکومتوں سے یکسر مختلف طرز کی حکمرانی کا دعویٰ کرتے ہیں جس کیلئے انہیں بڑے اقدامات کرنا ہوں گے اور اس میں مزاحمت، دباؤ اور سخت مخالفت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں