Daily Mashriq


حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

پھولوں کی سیج نہیں، کانٹوں کا بستر ہے مسند اقتدار، ہم نے بڑے بڑے حکمت ودانش اور جرأت وبہادری کے حامل مردان اقتدار دیکھے ہیں، عوام کے ووٹوں کا بھاری مینڈیٹ لیکر آئے تھے یا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے قابض ہوگئے تھے عنان اقتدار پر، ہم نے ان کو مسند اقتدار پر بیٹھے ٹپ ٹپ آنسو بہاتے دیکھا اور سنا تھا۔ اچھا ہوا ان کیساتھ، کیوں سبوتاژ کیا تھا انہوں نے مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جمہوری نظام کو، ایسا ہی ہونا تھا ان ناعاقبت اندیشوں کیساتھ، لیکن ان کو تو کرسی اقتدار راس آجانی چاہئے تھی جو عوام کا بھاری مینڈیٹ لیکر اس پر رونق افروز ہوئے تھے، عوام نے ان کو اپنے قیمتی ووٹوں سے نوازا، انہیں اقتدار کی کرسی تک پہنچایا، ان پر اعتماد کیا، محض اسلئے کہ وہ ان کے دلوں کی دھڑکنوں کے ترجمان ثابت ہونگے، وہ ان کے مسائل حل کردیں گے، ان کے زخموں پر پھایا رکھیں گے، ان کے دکھوں کا مداوا کریں گے، انہیں بجلی، پانی، روٹی، کپڑا اور مکان دیں گے، ان کی عزت نفس کا خیال رکھیں گے۔ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے والے بہت خوش ہوئے جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے دلوں کی دھڑکنوں کا ترجمان، ان کا نبض آشنا، ان کا من پسند لیڈر ان کے ووٹوں کی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر عنان اقتدار سنبھال چکا ہے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ جی بھر کر جشن منایا انہوں نے اپنے محبوب رہنماء کی کامیابی کا۔ الیکشن کے دوران بہت سی پارٹیوں کے جھنڈے جھنڈیاں، بینرز، قدآدم تصویریں اور من بھاتے نعروں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ شہر بھر کی گلیوں اور بازاروں کی ساری دیواریں کھمبے درخت الیکشن لڑنے والی سیاسی پارٹیوں ان کے انتخابی نشانات اور لیڈران کرام کے نعروں سے سج جاتی ہیں لیکن جیسے ہی الیکشن کا نتیجہ سامنے آتا ہے صرف اس پارٹی کے جھنڈے جھنڈیاں بینر اور پوسٹر آویزاں رہ جاتے ہیں جو یہ معرکہ کامیابی سے سر کرنے کے بعد حکومت سازی کے مرحلے طے کرنے لگتی ہے۔ اس بار تو ہم نے پی ٹی آئی کی الیکشن میں بھرپور کامیابی کے بعد ان موٹرکاروں پر بھی پی ٹی آئی کے لہراتے جھنڈے دیکھے جو الیکشن سے پہلے کسی اور پارٹی کے جھنڈوں کو اپنی موٹرکاروں پر لہراتے پھر رہے تھے۔ ان کو چڑھتے سورج کے پجاری نہ کہیں تو کس نام سے پکاریں۔ ان کے ان رویوں کو دیکھ کر

زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

کا سچ زبان پر آجاتا ہے۔ ووٹ دینے والوں کا یہ رویہ اپنی جگہ، ووٹ حاصل کرکے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والوں کے تیور بھی الیکشن کا نتیجہ اپنے حق میں آنے کے بعد یکسر بدل جاتا ہے۔ اب انہیں عوام کے پاس جانے اور ان سے ووٹ مانگنے کی ضرورت نہیں رہتی، سو وہ ان کو لفٹ کرانا چھوڑ دیتے ہیں۔ اصل میں ان کی سیاست کا محور ومرکز وہ نہیں رہتا جو الیکشن سے پہلے ہوا کرتا تھا۔ اگر وہ قوم کیساتھ مخلص ہیں تو انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں ملک وملت کے نام وقف کر دینی ہیں اور اگر خدا نخواستہ وہ دولت کے پجاری ہیں، اگر انہیں ملک اور ملت سے زیادہ اپنے خویش رشتہ دار عزیز ہیں، اگر وہ پانچوں انگلیاں منہ میں ڈالنے کی فطرت کے مالک ہیں تو نصیب دشمناں فاتحہ پڑھ لینا چاہئے اپنی قسمت کا، عمران خان نئے پاکستان اور تبدیلی کا نعرہ لیکر قوم کے روبرو پیش ہوئے، اہلیان قوم نے ان پر بھرپور اعتماد کیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس اعتماد پر کب اور کیسے پورا اُترتے ہیں، اللہ کے فضل وکرم سے قوم نے انہیں اور ان کی پارٹی کے منتخب اراکین کو ملک کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کی پندرہویں اسمبلی میں پہنچا دیا جہاں انہوں نے اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حلف بھی اٹھا لیا، اللہ نے چاہا تو وہ آنے والے چند دنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم کا حلف بھی اُٹھا لیں گے لیکن قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی معیشت کو وہ کیسے سہارا دیں گے، ملک سے بجلی کا بحران کیونکر ختم کرسکیں گے، بیرونی ممالک میں وطن کی قیادت کی ساکھ کو کس طرح بحال کریں گے، عمران خان ملک سے غربت کے خاتمہ کا عزم لیکر عنان حکومت سنبھال رہے ہیں، وہ وطن میں خوشحالی لانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، بیروزگاری، رشوت خوری، اقرباء پروری، مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، ڈاکہ زنی، دہشتگردی، قتل وغارت، بدامنی، اللہ اللہ کتنے بھیانک عفریت کھڑے ہیں، بہت سے دشمن ہیں ہمارے ملک سے باہر بھی اور ملک کے اندر بھی جب ہم ان کے بارے میں سوچتے ہیں یا ان کے ناپاک عزائم کے بارے میں جانتے ہیں تو الحفیظ والامان کا ورد کرنے لگتے ہیں، کل ہی تو ہم نے منایا اپنی جشن یوم آزادی پاکستان، پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لہرا کر پاکستان کے ملی نغمے گا کر، ہمیں اپنی آزادی سے اپنی آزادی کی حفاظت کرنے کی خوشی تھی سو ہم خوش ہولئے، اب ہم نے اپنی آزادی کو سبوتاژ کرنے والی طاغوتی قوتوں کا خاتمہ کرنا ہے، یہ ہمارا خواب ہے لیکن مجھے کہنے دیجئے کہ خواب دیکھنا بہت آسان ہے لیکن خواب کی تعبیر کیلئے کام کرنا جان جوکھو ں کا کام ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی اس بات کو ایک بار پھر دہرانا چاہتے ہیں کہ مسند اقتدار پھولوں کی سیج نہیں، کانٹوں کا بچھونا ہے لیکن کانٹوں کا یہ بچھونا، پھولوں کی سیج بن سکتی ہے

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اُترے

وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کیلئے

حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

متعلقہ خبریں