Daily Mashriq

اعتراف تنہائی

اعتراف تنہائی

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں اور کشمیروں کو خام خیالی میں نہیں رہنا چاہیے۔ وہاں آپ کے لیے کوئی ہار لے کر نہیں کھڑا۔ آپ کا کوئی وہاں منتظر نہیں ہے۔ یہ تو آپ کو ایک نئی جدوجہد کا آغاز کرنا پڑے گا کوئی ساز گار ماحول نہیں ہے۔ دنیا میں لوگوں کے مفادات ہیں۔انڈیاایک ارب کی مارکیٹ ہے۔ ویسے تو ہم امہ اور اسلام کی بات تو کرتے ہیں مگر امہ کے محافظوں نے بھارت میں بہت سی سرمایہ کاری کر رکھی ہے وہاں ان کے مفادات ہیں ۔یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی نے یہ بات ایک ایسے وقت پر کی ہے جب گذشتہ روز سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ انڈین کمپنی ریلائنس کے 20 فیصد شیئرز خرید رہی ہے۔ ریلائنس دنیا میں خام تیل کو صاف کرنے کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ایک ایسے موقع پر جب پاکستان کو اس کی تاریخ کے سب سے نازک اور پیچیدہ موڑ پر امت مسلمہ اور خاص طور پر ان برادر اسلامی ملکوں کی طرف سے تائید وحمایت اور دست گیری کی ضرورت ہے سوائے برادر اسلامی ملک ترکی کے کسی بھی اسلامی ملک کا پاکستان کی کھل کر حمایت نہ کرنا اور اپنے تعاون کا یقین نہ دلانا المیہ ہے ۔برادر اسلامی ملک سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ مشکل وقت میں ساتھ دینے کا ریکارڈ رہا ہے تو پاکستان نے بھی وقت پڑنے پر کبھی بھی سعودی عرب کی مدد کرنے سے منہ نہیں موڑا سعودی عرب کے بھارت سے تجارتی ومعیشتی مفادات اور معاہدوں کی مخالفت نہیں کی جاسکتی یہ ہر ملک کا حق ہے کہ وہ جس ملک سے بھی چاہے تجارت کرے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے حوالے سے جو کلمات کہے ہیں اتنے واضح طور پر صورتحال سے قوم کو آگاہ کرنے پر تنقید کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی اسے سیاسی رنگ دینا اور سیاسی مفادات ومقاصد کیلئے استعمال کرنا مناسب ہے البتہ یہ بات سوچنے کی ضرور ہے کہ بہتر سال جو خارجہ پالیسی اپنائی گئی کشمیر کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا گیا وقت آنے پر وہ ریت کی دیوار سے بھی کمزور ثابت ہوئی نتیجتاً آج کشمیر کے مسئلے پر ہم تنہا کھڑے ہیں سوائے ترکی کے کسی بھی ملک نے ہماری کھل کر تائید نہیں کی یہاں تک کہ چین نے بھی اس معاملے پر سفارتی لب ولہجہ اپنا رکھا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ جس امریکہ نے ہماری قیادت کو ہفتہ عشرہ قبل مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کا عندیہ دیا تھا وہ بھی ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ والا معاملہ نکلا ۔ اس وقت سعودی عرب سمیت مسلم ممالک کا ہمارے ساتھ کھڑے نہ ہونا ہی مسئلہ نہیں اس سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو سب سیاسی قوتوں نے استعمال کیا اور ملکی سطح پر جو کشمیر پالیسی وضع کی گئی وہ اس قدر غیر مئوثر بلکہ غیر مقبول اور ناقابل قبول ثابت ہوئی جس کا اندازہ حالات سے بخوبی واضح ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور حریت پسندوں پر بھارتی بر بریت قیام پاکستان سے تا ایندم جو ردعمل پاکستان میں دکھایا جاتا رہا اور ان کی اخلاقی وسفارتی مدد اور ملک میں مقامی سطح پر جو فضا رہی آج جب اس کی انتہا ہونی چاہئے وہ نظر نہیں آتی اس کی وجہ کیا ہے اور اب کیا حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیئے اس کی بھی اگر وضاحت ہوتی تو مصلحت کو سمجھنا مشکل نہ تھا مذمتی بیانات جاری کرنا کوئی مشکل کام نہیں یہی کرتے بلکہ اس سے بڑھ کر پورے ملک میں سخت احتجاج کرتے کرتے بہتر سال گزر گئے دنیا کے حقائق اور معاملات بہت تلخ ہوتے ہیں جنگ کرنے کو خودکشی کے مترادف قرار دیا جارہا ہے جنگ واقعی کسی مسئلے کا حل نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی بھی ملک متحمل ہو سکتا ہے بھارت کو اسی سال فروری کے اختتامی ایام میں جن تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد بھارت کا خاموش بیٹھ جانا ہی بہتر فیصلہ تھا اور بھارت نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید کوئی حماقت نہ کی پاکستان بھی جنگ کا حامی ملک نہیں ایسے میں دوسرا طریقہ سفارتکاری کا ہے لیکن بد قسمتی سے سفارتکاری کے میدان میں بھی ہم ناکام ہیں عالمی فورم پر ہمیں اس طرح کھلی حمایت نہیں مل سکتی جو اس سنگین مسئلے میں ٹھوس عالمی مداخلت کیلئے درکار ہے اگر دیکھا جائے تو عالمی اداروں کو بھی دنیا کے سنگین مسائل سے دلچسپی نہیں عالمی ادارہ بھی بڑے ممالک کی رکھیل بن چکا ہے اس سے بھی مایوسی کے بعد جہادکا راستہ باقی بچتا ہے مگر وہ بھی ہماری حکمت عملی نہیں علاوہ ازیں کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی اس صورتحال سے نکلنے کیلئے جو قومی وحدت اور کلی یکجہتی کی ضرورت ہے وہ بھی دکھائی نہیں دیتی امت مسلمہ اور وطن عزیز پاکستان آج جن حالات سے دوچار ہے وہ جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات ہی نظر آتی ہے لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیئے مالک حقیقی مایوسی کے اندھیروں ہی سے امید کی چراغ پیدا فرما یا کرتا ہے اور حالات کے بدلتے دیر نہیں لگتی وہ مالک چاہے تو چشم زدن میں کایا پلٹ دے ہمیں دنیا سے نہیں اس ذات پاک سے امید باندھنی چاہیئے اور اس یقین کے ساتھ کہ اس کی مدد زیادہ دور نہیں کتنی تاخیر ہوگی اس کا قطعاًکوئی اندازہ نہیں مگر مدد آئے گی ضرور اور فتح کی خوشخبری ہمارے لئے ہی ہوگی کب اور کس وقت اس کا انتظار ہے۔

متعلقہ خبریں