Daily Mashriq

چینی سائنسدانوں کا انسان اور بندر کا پہلا ہائبرڈ تخلیق کرنیکا دعویٰ

چینی سائنسدانوں کا انسان اور بندر کا پہلا ہائبرڈ تخلیق کرنیکا دعویٰ

چینی سائنسندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے لیبارٹری میں انسان اور بندر کا ہائبرڈ (مخلوط نسل) تیار کرلی ہے۔ سائنس دانوں کا مقصد ہائبرڈ جانوروں کے ذریعے انسانی اعضاء تخلیق کرنا ہے، جنہیں انسانی جانیں بچانے کیلئے ٹرانسپلانٹ کیا جاسکے۔

 غیر ملکی میڈیا کے مطابق تحقیق کاروں کا کہنا ہے ہائبرڈ جانور تخلیق کرنا اہم قدم ہے اور وہ اس حوالے سے پریمیٹس (بندر کی نسل) پر تجربات جاری رکھیں گے۔

 بدر اور انسانی ہائبرڈ کی تخلیق کی تحقیق میں شامل ٹیم کا کہنا ہے انہوں نے بندر کے ایمبریو میں انسانی اسٹیم سیلز داخل کردیے تاکہ انسانی ٹشوز بنائے جاسکیں، تاہم اس تجربے کو اس وقت روک دیا گیا جب یہ مخلوط ایمبریو ایک بچے میں تبدیل ہوکر جنم لینے کے قریب پہنچ چکا تھا۔

 تحقیق میں ہسپانوی سائنس دان بھی حصہ لے رہے ہیں جو اسپین میں ہائبرڈ جانوروں کی تخلیق پر عائد پابندیوں کے باعث چین میں تجربات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان اور بندر کے خلیوں کے ملاپ سے بننے والے مخلوط بچے کو دنیا میں لایا جاسکتا تھا۔

 اس عمل کے دوران مخلوط ایمبریو میں ان مورثوں میں جینیاتی تبدیلیاں کی گئی تھیں جو اعضاء کی نشوونما کو کنٹرول کرتے ہیں۔

 اس تجربے پر اخلاقی اعتراضات بھی اٹھائے گئے ہیں کیونکہ اس عمل سے انسانی اسٹیم سیلز ہائبرڈ جانور کے دماغ میں منتقل ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

 بارسلونا میں قائم ’ری جنریٹیو میڈیسن سینٹر‘ سے وابستہ اینجل ریا کا کہنا ہے کہ دو انواع کے خلیوں سے مخلوط نسل تخلیق کرنے کے تجربات کو ’اخلاقی رکاوٹوں‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 انہوں نے ایک ہسپانوی جریدے کو بتایا کہ اگر انسانی خلیے ہائبرڈ جانور کے دماغ میں منتقل ہوکر انسانی اعصابی نظام بنا لیں تو کیا ہوگا؟، کیا وہ انسان جتنا ذہین ہوگا۔

 اس منصوبے میں شریک ایک اور محقق مرسیا کیتھولک یونیورسٹی (یو سی اے ایم) سے وابستہ ایسٹریلا نونیز کہتی ہیں کہ اس تحقیق میں ایسا میکانزم بنایا گیا ہے کہ اگر انسانی خلیات ہائبرڈ جانور کے دماغ میں منتقل ہوں تو وہ خود تباہ ہوجائیں، اس کے نتائج بہت امید افزاء ہیں۔

 اگرچہ اس تحقیق کیلئے یونیورسٹی کی طرف سے بڑے پیمانے پر مالی اعانت کی جاتی تھی تاہم یہ پھر بھی انتہائی مہنگا عمل تھا۔

متعلقہ خبریں