تحریک انصاف کی واپسی

تحریک انصاف کی واپسی

اگرچہ مخالفین تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی جانب سے پارلیمنٹ کے اجلاسوں کا بائیکاٹ ختم کرکے اجلاسوں میں شرکت کے فیصلے کو یوٹرن قرار دے رہے ہیں لیکن مخالفین اجلاسوں سے بائیکاٹ کو بھی تو نہیں سراہتے تھے۔ تحریک انصاف کے پارلیمنٹ کے اجلاسوں سے بائیکاٹ اور استعفے دینے کا فیصلہ بہر حال درست نہ تھا۔ ان کی جانب سے بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان بہتر فیصلہ ہے۔ گوکہ اس مرتبہ بھی تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی جانب سے اس امر کا عندیہ دیاگیا ہے کہ بائیکاٹ کا خاتمہ خاص مقصد کا حصول ہے۔ اس سے یہ اخذ نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف ایوان میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف تحریک استحقاق اور تحریک التواء پیش کرنے کے مقصد کے حصول کے بعد پھر بائیکاٹ کی راہ اپنائے گی۔ تحریک انصاف طویل عرصے سے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کیے ہوئے تھی، رواں برس اکتوبر میں بھارتی جارحیت اور کشمیر کے معاملے پر ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی پی ٹی آئی نے شرکت سے انکار کردیا تھا۔اس کے بعد نومبر میں ترک صدر رجب طیب اردگان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی پی ٹی آئی نے شرکت نہیں کی تھی۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جب تک سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کا کیس چل رہا ہے تب تک وہ پارلیمنٹ میں نہیں جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مجرم ملک کا وزیراعظم نہیں ہوسکتا۔ اگر وزیراعظم خود کو سپریم کورٹ کے سامنے بے قصور ثابت کردیتے ہیں تو اسمبلی میں چلے جائیں گے۔ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کو اب اس امر کا ا دراک ہوگیا ہے کہ ایوان سے زیادہ موثر فورم کوئی نہیں جہاں حکومت کے خلاف اس کی آواز موثر ہوگی۔پی ٹی آئی کو اس کے ارکان پارلیمان کے اسمبلی کی کمیٹیوں میں تو جانے لیکن پارلیمان سے دور رہنے کی وجہ سے تنقید کا سامنا تھا دوسرا جماعت کے اندر یہ بات کہی جا رہی تھی کہ پارٹی کو اسمبلی جیسے فورم سے باہر نہیں رہنا چاہیے۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ اب پی ٹی آئی کے لیے پارلیمان کا بائیکاٹ فائدہ مند نہیں رہ گیا تھا کیونکہ جو اس کو امید تھی سپریم کورٹ سے وہ پوری نہیں ہوئی اور اب وہ معاملہ لٹک گیا ہے، اس لیے اس نے پارلیمنٹ کا دوبارہ رخ کیا ہے۔ہمارے تئیں تحریک انصاف کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے مقصد کو اتنا محدود نہیں کرنا چاہئے بلکہ خود کو پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی موثر جماعت ثابت کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے خاتمے کا فیصلہ ایوان میں حکومت کے لئے کوئی خوشگوار صورتحال کا باعث نہ ہوگا لیکن تحریک انصاف نے وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں نشانہ بنانے کا جو ہدف طے کیا ہے اگر اس کی بجائے وہ من حیث المجموع حکومت کو ٹف ٹائم دینے کااعلان کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ جہاں تک تحریک استحقاق اور تحریک التوا پیش کرنے کا سوال ہے یہ تحریک انصاف کا حق ہے اور ایک ضابطہ کے تحت سپیکر کی اجازت کے ساتھ وہ ایسا کرسکتی ہے۔ ایوان میں جذباتی تقریر بھی ہوسکتی ہے مگر اولاً ایوان کو جن الفاظ سے تحریک انصاف کی قیادت یاد کرتی رہی ہے نہ صرف اسے یاد دلایا جائے گا بلکہ مسلم لیگ کی صفوں میں جواب دینے والوں کازور خطابت بھی برداشت کرنا پڑے گا۔ تحریک انصاف ایک عرصے تک بائیکاٹ کرکے ایوان میں اجنبیت کاشکار ضرور ہوگی جسے دور کرنے میں خاصا وقت لگے گا۔ علاوہ ازیں ایوان میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلقات کے احیاء میں بھی مشکلات کا پیش آنا فطری امر ہوگا۔ اگر ان حالات سے اکتاہٹ کی نوبت آنے دئیے بغیر اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی سنجیدگی کے ساتھ اسمبلی اجلاسوں میں بھرپور شرکت جاری رکھی جائے تو تحریک انصاف کو ایوان میں اپنی جگہ پھر بنانے میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ تحریک انصاف کے لئے ایک مثبت صورتحال یہ ضرور ہے کہ پیپلز پارٹی شاید ستائیس دسمبر سے اپنے مطالبات پر حکومت کی عدم توجہ کے باعث حزب اختلاف کی جماعت کا رول ادا کرنا شروع کرے گی۔ ایسا کرنا پیپلز پارٹی کی اس لئے بھی مجبوری ہوگی کہ آنے والا سال انتخابی تیاریوں کا سال ہے۔ ایسے میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی ایوان میں حکومت کے خلاف ہم خیالی دونوں کی سیاسی ضرورت ہوگی۔کسی بھی سیاسی قدم اٹھانے سے قبل اس کے نتائج و عواقب اس کی کامیابی و ناکامی اور اثرات کا احتیاط سے جائزہ لے کر اور مشاورت کے ساتھ آگے بڑھنا ہی مقاصد کے حصول کا باعث ہوا کرتا ہے۔ تحریک انصاف کے فیصلوں اور اقدامات میں اس کی جھلک زیادہ نظر نہیں آئی۔ تحریک انصاف کو چاہئے کہ آئندہ جو بھی قدم اٹھائے اس پر ہوم ورک مکمل ہونا چاہئے اور اب جبکہ پارلیمنٹ کے بائیکاٹ سے رجوع کا فیصلہ کیاگیا ہے اس پر قائم رہتے ہوئے دیگر سیاسی اہداف کے حصول کی جدوجہد ہی موزوں ہوگا۔

اداریہ