Daily Mashriq


صرف بیان بازی سے حقوق کا حصول ممکن نہ ہوگا

صرف بیان بازی سے حقوق کا حصول ممکن نہ ہوگا

خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومت اور حزب اختلاف کی بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے صوبے کے آئینی حقوق کے حصول کے لئے ہر حد تک جانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے ۔ وفاق سے اے جی این قاضی فارمولے کے تحت بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات کی ادائیگی ، گیس کی مد میں صوبے کا حصہ اور سیکورٹی فنڈ کے مطالبات دہرائے گئے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس طرح کے مطالبات کا بسا اوقات اعادہ ہوتا ہے اور سیاسی جماعتیں اس بارے متفقہ لائحہ عمل بھی اختیار کرنے کا عندیہ دیتی ہیں ان کا جرگہ بھی ہوتا ہے اور اکٹھ بھی جس میں وہ وفاقی حکومت سے صوبے کے حقوق کی ادائیگی بصورت دیگر مشترکہ احتجاج کی دھمکی بھی دیتی ہیں مگر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہیں رہتی اور مطالبات کے حصول میں سنجید گی اور تسلسل لانے کی بجائے ان مطالبات ہی کو قصہ پارینہ بنادیا جاتا ہے ۔ہمارے تئیں صوبائی حقوق کے لئے جدو جہد اور مطالبات صوبے کے عوام کے دلی جذبات کی ترجمانی اور سیاسی جماعتوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے جس میں ان کو عوام کے ہر طبقے کی حمایت اور تعاون حاصل ہونا فطری امر ہے لیکن صوبے کی سیاسی جماعتیں جس انداز میں اس کو بوقت ضرورت کے احتجاجی نعرے اور سیاسی مدوجز ر کے لئے استعمال کرتی ہیں اس کی حقیقت عوام اب جان چکے ہیں ۔بہر حا ل اگر ایسا نہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ضمن میں سیاسی جماعتیں کیوں کسی راست اقدام اور احتجاج کی طرف نہیں بڑھتیں آخر وہ کونسی مصلحت ہے جو سیاسی جماعتوں کو اپنی دھمکی پر عملدر آمد کرانے میں مانع ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کی بار با ر کی لاحاصل نعرہ بازی اور دھمکیوں سے عوام کا ان پرسے اعتماد اٹھ رہا ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں سنجید ہ ہیں تو انہیں اس طرز عمل پر نظر ثانی کرنا ہوگی یا پھر وہ بیان بازی بھی ترک کر کے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر لیں۔ اگر اب کرنا ممکن نہیں اور در حقیقت ایسا نہیں ہونا چاہئے تو پھر صوبے کی سیاسی جماعتوں کو وفاقی حکومت کو ڈیڈ لائن دینے کی ضرورت ہے جس کے بعد عوامی تحریک کے ساتھ احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ وفاق پر صوبے کے حقوق کی ادائیگی کے لئے دبائو پڑھا یا جا سکے ۔ اور اگر اس کے باوجود بھی وفاق کی طرف سے سرد مہری کا رویہ پایا جائے تو پھر عوام کی مددسے اس احتجاج اور تحریک کو نتیجہ خیز بنانے کی سعی کی جائے۔ اگر صوبے کی سیاسی جماعتیں اتفاق رائے کے ساتھ عوام کو ایک نکاتی ایجنڈے پر عملد ر آمد بڑھانے کے لئے احتجاج اور جلسے جلوسوں کی کال دیں گے تو ان کو مایوسی نہ ہوگی ۔

شہری حقوق کی پامالی

عدالت عالیہ پشاور واضح احکامات دے چکی ہے اور بار بار یونیورسٹی ٹائون سے تجارتی سرگرمیوں کے خاتمے کی ہدایت کر چکی ہے جس پر انتظامیہ کی عملدر آمد کی ادھوری اور نمائشی کو شش بھی کسی سے پوشیدہ نہیں مگر اس کے باوجود یونیورسٹی ٹائون کودوبارہ سے رہائشی علاقے کی حیثیت نہیں مل سکی اس کے مکینوں کی بار بار کی اپیلیں صدابصحرا اور کوشش رائیگا ں گئیں ۔حکومت ایک جانب عدالتی احکامات کی پابند ہے تو دوسری جانب عدالتی احکامات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اب خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی جانب سے سفارش کی گئی ہے کہ یونیورسٹی ٹائون میں تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے چونکہ یہاں کی تجارتی وکاروباری سرگرمیوں میں اشرافیہ بھی پوری طرح ملوث ہے ا س لئے اگر ضرورت پڑے تو حکومت قانون ساز ی بھی کرسکتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر عدالتی احکامات کا کیا ہوگا ؟ جہاں تک کمیٹی کے ممبران کی جانب سے کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دینے سے متعلق سفارشات کا تعلق ہے اس کے جو نکات ہیں اس سے بڑی حد تک اتفاق ممکن ہے لیکن ایک جانب عدالت عالیہ پشاور کے احکامات ہیں تو دوسری جانب اس فارمولے کو اختیار کرنے کے بعد حیات آباد شامی روڈ اور دیگر رہائشی سکیموں میں دھیرے د ھیرے تجارتی سرگرمیوں کا راستہ کھل جائے گا اس وقت حیات آباد میں عملاًرہائشی آباد ی کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہورہی ہے حیات آباد بھی یونیورسٹی ٹائون کی طرح کاروباری و تجارتی علاقہ بنتا جارہا ہے بلکہ بن چکا ہے۔ یو نیورسٹی ٹائون میں اگر کوئی خصوصی فارمولہ لاگو ہوتا ہے تو لا محالہ اس کے اثرات حیات آباد پر بھی پڑیں گے۔ ایسے میں رہائشی مقاصد کے لئے آبادیاں بسانے کا تصور ہی ختم ہو کر رہ جائے گا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ بے معنی لا حاصل اور دبائو کے بعد قابل تبدیلی ہوں گے ۔ یہاں تک کے عوام عدالتوں میں بھی فریاد ی بن کر جانے کو لاحاصل تصور کریں گے ۔

حیات آباد میں جب سے تعلیمی ادارے ، بیوٹی پارلر زاور بوتیک وغیرہ کھلنے لگے ہیں چارہ دست شہری علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ بہتر ہوگا کہ حکومت کاروباری مفادات پر شہریوں کے مفاد کو مقدم گردانے اور شہر یوں کے لئے وبال جان بننے والے تجاوزات اور خلاف قانون سرگرمیوں کی سرپرستی کی بجائے ان کے خاتمے کا فریضہ نبھائے ۔

متعلقہ خبریں