Daily Mashriq

جنید جمشید 'سنگر سے عالمی مبلغ

جنید جمشید 'سنگر سے عالمی مبلغ

میںجب بھی اتوار کو فا رغ ہوتا توجناح سُپر ما رکیٹ میں جُنید جمشید کے ریڈی میڈ ملبو سات کی دکان پر چلا جاتا ۔ کیونکہ پنڈی اور اسلام آباد میں جنید جمشید کے کاروبار کی نگرانی میرے ایک دوست وسیم کرتے تھے۔شاپ پر کبھی کبھی جنید جمشید سے بھی ملاقات ہو جاتی۔جنید جمشید نے میکنیکل انجینئرنگ کی ڈگری لی ہوئی تھی۔اُنکے والد پٹھان اور والدہ مغلانی اُر دو بولنے والی تھیں۔اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلی کے متعلق جنید جمشید کہتے تھے کہ ایک دن جولائی کے مہینے میں جب حد سے زیادہ حبس اور گرمی تھی میں اپنی اے سی گا ڑی میں بیٹھا ہوا تھا ،میرے سامنے سفید شلوار قمیض میں ملبوس تقریباً10تبلیغی جماعت کے افراد 'لوگوں کو نماز کی دعوت دینے میںمصروف تھے اور وہ سارے پسینے میں شرابور تھے۔ میں ان کی ہمت کو دیکھ کرحیران تھا؟ ۔میں نے سو چا، جاکر ان سے مل لوں ۔ میں نے گا ڑی اُن کے سامنے روکی اور ان سے بات چیت کے بعد دعاکی استد عا کی۔ گشت سے واپسی پر جب یہ لوگ مسجد پہنچے تو میںنے دوسرے دوستوں کو قصہ سُنایا۔تبلیغی جماعت میں میرے سکول کے دوست جُنید غنی بھی تھے۔یہ وہ دور تھا جب '' دل دل پاکستان'' دنیا میں تیسرے نمبر پر اور بر صغیر پاک وہند میں دوسرے نمبرپر مشہور تھا۔ دوست نے مُجھے ڈھونڈنا شروع کیا اورمُجھے فون پر ٹرائی کر تا رہا۔شو بز کے دوسرے لوگوں کی طرح میری بھی کوشش ہوتی کہ کسی سے نہ ملوں۔جنید غنی مجھے بار بار فون کرتا اور میں بار بار اُسکافون کا ٹتا ۔ ایک دن جب اُسکا فون ملا تو اُس نے اللہ کا واسطہ دے کر کہا کہ فون کا ٹنا نہیں۔ میں نے کہا کیا بات ہے۔ اُس نے کہامیں عمرے سے واپس آیا ہوں اور آپکے لئے کھجور اور آب زم زم لایا ہوں۔ میںنے کہاضرور آئو، مگر صرف پانچ منٹ کے لئے۔ یہ وہ جنید غنی تھا جن کی شرارتوں سے میں مار کھاتا۔جنید غنی سفید کپڑوں میں ملبوس، لمبی لمبی دا ڑھی، سر پر عمامہ، پائنچے ٹخنوں سے اوپر۔ میں نے پو چھا جُنید غنی یہ سب کیا ہے؟۔ جب پانچ منٹ ختم ہونے کے بعد جنید غنی نے جانے کی خواہش ظاہر کی۔میں نے کہا بیٹھو۔اُسکے ساتھ باتیں کرتے کرتے سا ڑھے تین گھنٹے گزر گئے۔ اُس نے جب میری دلچسپی دیکھی ،تو کہنے لگے کہ کو رنگی میں اجتماع ہے ضرور تشریف لانا۔اجتماع والے دن میں جینز پینٹ اور ٹی شرٹ پہن کر اجتماع میں چلا گیا۔وہاں لوگ مجھے دیکھ کر ششدر رہ گئے۔میرے دوست نے مُجھے مذہبی سکالر ڈاکٹر بلند اقبال سے ملوایا۔ جب شام ہوگئی تو جُنید غنی نے کہا چلو آپکو چھوڑ آتا ہوں۔ میں نے کہا میں نے نہیں جانا۔ اگر بو ڑھے ، بچے زمین پر سو سکتے ہیں تو جُنید جمشید کیوں نہیں؟۔ تیسرے دن جب مولانا طارق جمیل کا بیان سُنا تو میرے دل میں مولانا صا حب سے ملاقات کا تجسس پیدا ہوگیا۔ دوستوں نے کہا کہ مولانا صاحب سے ملنا مشکل ہے۔ میں نے سوچا اگر میں وزیر اعظم، صدر اور گور نر سے مل سکتا ہوں تومولانا طا رق جمیل سے کیوں نہیں۔بہر حال میں مولانا طارق جمیل کے خیمے تک پہنچا۔ میں نے باہر چوکیدار سے کہا کہ طارق جمیل صاحب سے کہو کہ جُنید جمشید ملنا چاہتے ہیں۔ طارق جمیل نے جب اندر سے میری آواز سُنی، تو کہا اندر آئو۔ میں خیمے کے اندر اُن کے سامنے بیٹھ گیا۔انہوں نے مُجھے گھور گھور کردیکھنا شروع کیا۔میں نے دل میں کہا کہ مولانا صاحب مُجھے اتنے غور سے کیوں دیکھ رہے ہیں۔مولانا صا حب نے کہا میں آپ کو نہیں اللہ کی شان دیکھ رہا ہوں۔ایک مرتبہ جب کراچی ائیر پو رٹ آیا تھا توکسی کمرے میں لگے ٹی وی پر اتفاقاً آپ پر سرسری نظر پڑی تواس وقت میں نے دل میں کہااے اللہ ایسے نہیں ہو سکتاکہ اس سے میری ملاقات ہوجائے۔ اور یہ میری خوش قسمتی ہے کہ آپ میرے سامنے ہیں۔میں آپکو نہیں ،اللہ کی شان دیکھ رہا ہوں۔جنید جمشید نے مولانا صا حب سے پو چھا دل دل پاکستان تو سُنا ہوگا۔ مولانا صاحب فرمانے لگے سُنا نہیں ،گا ڑیوں اور دیواروں پر لکھا دیکھا ہے۔جنید جمشید کہتے ہیں میں نے مولانا صاحب سے پو چھا میرا ایک سوال ہے میری عمر کا ایک پاکستانی نوجوان جس نام اور شہرت کا تصور نہیں کر سکتا وہ سب میرے پاس ہے لیکن اندر سے میں خالی ہوں۔ لوگ اسے نہیں جانتے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں بُہت خوش ہوں۔ لیکن میں اندر سے پریشان ہوں۔ اسکی وجہ مُجھے سمجھ نہیں آتی۔طا رق جمیل فرمانے لگے اللہ نے انسان کو دو چیزوں سے بنا یا ہے ۔ جسم مٹی کا بنا ہوا ہے اور روح اللہ کا امر ہے۔جسم چونکہ مٹی کا بنا ہوا ہے لہٰذا اللہ نے اسکی ضرورت مٹی میں رکھی ہوئی ہے۔کھانا ، کپڑے اور پانی سب مٹی سے ہے۔اور روح جو اللہ کا امر ہے تو اسکی خوراک آسمان سے ہے زمین پر نہیں۔فرمانے لگے اگر میں تمہیں سونے کے محل میں چھوڑ دوں اور کھانا نہ دوں تو تم کیا کروگے؟ ۔ میںنے کہامیں چیخوں گا کہ مُجھے کھا نا دیا جائے۔مولانانے فرمایا تو پھر یہی حال تیری روح کا بھی ہے۔اگر آپ اچھے گھر میں رہ رہے ہیں۔ اچھا کھانا کھا رہے ہو۔ گا ڑی میں پھرتے ہو تو آپ مطمئن نہیں ہوگے کیونکہ آپکی روح بھوکی ہے۔ جسم کا اطمینان مٹی کی روح سے نہیں آسمان کی روح سے ہے۔فرمانے لگے اسکی غذااللہ کا کلام اور حضور ۖ کے اسوة حسنہ پر چلنا ہے۔جب تک روح کو غذا نہیں ملے گی آپ کو اطمینان نہیں ہوگا۔اس ملاقات کے بعد جنید کی زندگی میں وہ انقلابی تبدیلی آئی جس کے بعد انہوں نے شوبز کی چکا چوند والی دنیا کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیا اور آخر وقت تک اللہ کے دین کی خدمت میں جتے رہے اور اسی کام کو کرتے ہوئے اللہ کو پیارے ہوگئے۔

اداریہ