Daily Mashriq


کیا ہم بدلیں گے؟

کیا ہم بدلیں گے؟

کمرہ جماعت میں وہ اس کا پہلا دن تھا،اس نے اب تک تعلیم ملک کے ایک دورافتادہ گائوں میں حاصل کی تھی۔نیا شہر، نیا ماحول،اجنبی لوگ،اردو سے نابلد سہما سا وہ لڑکا، کلاس کے ایک کونے میں بیٹھ گیا، استاد نے نام پوچھا، اس نے ڈرتے ڈرتے بتادیا، اس کے بعد استاد کیا کہتا رہا وہ اس کے سر پر سے گزرگیا کیونکہ اب تک تعلیم اس نے پشتو میں حاصل کی تھی، اردو کو بطور مضمون پڑھا تھا بولنا تو درکنار دوسروں کو سمجھنا بھی اس کے لیے مشکل تھا، وقفے وقفے سے استاد بدلتے رہے، طلبہ سوال و جواب کرتے رہے لیکن وہ خاموشی سے صرف استاد کا چہرہ تکتا رہا، چھٹی کی گھنٹی بجی تو اس نے گھر کی راہ لی۔ صرف سکول ہی نہیں پورا شہر اس کے لیے نیا تھا ۔ بارہ سال میں وہ کبھی اپنے گاؤں سے باہر نہیں نکلا تھا، اور اب وہ عروس البلاد میں تھا، شانگلہ کے دور دراز گاؤں کا سیدھا سادہ لڑکا اب ملک کے معاشی حب میں تھا۔ اس دوران ششماہی امتحان کا نتیجہ آگیا، گاؤں میں کلاس کا نمایاں طالب علم بڑے شہر میں آکر پہلے امتحان میں ہی فیل ہوگیا ، اردو سے نا آشنائی فیل ہونے کی وجہ بنی۔ انیس سو بانوے سے دوہزار تین تک بہت کچھ بدل گیا۔دوہزار تین میں ایک نیوز ایجنسی میں ٹرینی سب ایڈیٹر اور مترجم بن گیا، کچھ ہی عرصے بعد ڈیسک انچارج کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔اس دوران بہت ہی اچھے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، کہیں پر بھی کسی نے یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ اس دنیا میں نو آموزہے،یا وہ ان میں سے نہیں، کسی بھی سینئر نے بخل سے کام نہیں لیا۔ روزنامہ امت کراچی، آج ٹی وی ، سماء اور اے آروائی ہرجگہ بہترین وقت گزارا۔اب وہ مادری زبان پشتو سے زیادہ قومی زبان میں لکھنے پڑھنے اور بولنے میں مہارت رکھتاتھا لیکن حسن اتفاق دیکھیے جب وہ اردو کو اوڑھنا بچھونا اور کراچی کو گھر بنا چکا تھا تو مادری زبان اور زمین پدری نے اسے پکارا ۔ چوبیس سال بعد اسے ایک بار پھر اجنبی لوگوں کے ساتھ از سر نو شروعات کرنا تھیں لیکن اس کے ساتھ وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ وہ اب بارہ سال کا وہ بچہ نہیں ، جسے اردو بولنا نہیں آتا وہ ایک پروفیشنل ہے اور پروفیشنل لوگوں کے ساتھ کام کرے گا کچھ بھی تو مشکل نہیں لیکن یہ اس کی سوچ تھی حقیقت بڑی تلخ ہوتی ہے۔ یہاں آیا تو اس کا استقبال مادری زبان نے کیا جو اپنی وسعت کے لحاظ سے اردو سے کہیں زیادہ سمندر کی موجیں اپنے اندر سمائے ہوئے ہے، بہر حال اس کے سامنے ایک چیلنج تھا اور اس چیلنج کو اس نے قبول کیا اس کی ٹیم میں سوائے ایک دو کے باقی سب اس کے لیے نئے تھے۔قارئین کرام یہ کہانی میری ہے۔ زندگی کا بیشتر حصہ کراچی میں گزارنے کے بعد پشاور میں کام کرنا ایک بالکل انوکھا تجربہ ثابت ہورہا ہے، یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں ، بہت محنتی ہیں خلوص کوٹ کوٹ کر بھرا ہے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پیشہ ورانہ خوبیوں کی کمی ہے۔ میرا وقت دفتر کے لوگوں سے ارتباط کے علاوہ مختلف میل ملاقاتوں میں گزرجاتا ہے ۔میں لوگوں کے رویے دیکھتا ہوں، ان کے چہرے پڑھتا ہوں تو حیران رہ جاتاہوں۔ ہم ایک طرف اگر تعلیم اور ڈگری کے حصول کے بعد سہل پسندبن جاتے ہیں تو دوسری طرف مجھ پر یہ بھی انکشاف ہوا کہ میدان میں موجود ہمارے بڑوں نے کچھ نہیں کیا ۔ مانتاہوں کہ ہمارے یہاں مواقع کم ہیںلیکن یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ہمارے لوگوں نے نہ تو موقع پیدا کیا اور نہ ہی مواقع پیدا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔میرا مقصد کسی کی حوصلہ شکنی نہیں ، ایسے لوگ بھی ہیں جو بہت کچھ کررہے ہیں مگر ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے اس کے برعکس کامیابی سے آگے بڑھنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ میں اگر یہاں کے دوستوں کا موازنہ کراچی کے پروفیشنلز سے کروں تو ہم برسوں پیچھے ہیں، ہم میںحوصلہ افزائی کے بجائے حسد کا مادہ زیادہ ہے۔ ہم بحیثیت دوست تو کسی کی بھی مدد کرنے کو تیار رہتے ہیں لیکن بحیثیت پروفیشنل ہم اس صلاحیت سے عاری نظرآتے ہیں ۔ ہم میں موجود کچھ نام نہاد بڑے صرف اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ان کے نام کا ڈنکا پورے ملک میں بج رہا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ نام بڑے ہیں لیکن افسوس کہ انہوں نے اس صوبے اور صوبے کے لوگوں کی چنداں خدمت نہیں کی۔ انہوں نے اپنی ذات کے لیے تو بہت کچھ کیا لیکن اس شہر یا صوبے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے کوئی ایسا ادارہ تک نہ بنا سکے یا بنانے کی زحمت گوارہ نہیں کی جس سے یہاں کے نوجوان عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے بنیادی تربیت حاصل کرسکیں ۔ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں نے اگر کوئی مقام حاصل کیا تو اپنے بل بوتے پر کیا ۔آج قلم اٹھانے کا مقصد اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانا تھا۔ عین ممکن ہے کہ میرے ان الفاظ سے کسی کسی دل آزادی ہوئی ہو ۔ میں ان سب سے معذرت کرتا ہوں اور یہ باور کراتا ہوں کہ اگر کوئی خلوص دل سے ہمارے نوجوانوں کے لیے کچھ کرنا چاہتاہے تو مجھے اپنے ساتھ پائیں گے۔ 

متعلقہ خبریں