مسلک اور فرقہ پرستی کا ناسور

مسلک اور فرقہ پرستی کا ناسور

تصور کیجئے اس وقت کا جب غار حرا میں اللہ کے نبی ۖ تنہا تھے۔ مکہ سے تین کلومیٹر کی دوری، سنگلاخ چٹانوں میں گھرے غار حرا کی وحشت ناک تنہائی،شب کا سناٹا، جبرائیل امین کی اچانک آمد اور ''اقرائ''کا نزول۔ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا پہلوان، چیتے کا جگر رکھنے والا انسانی تاریخ کا سب سے مضبوط انسان بھی ہوتا تو خوف و دہشت سے اس کا دل پھٹ جاتا، نبضیں تھم جاتیں۔محدثین لکھتے ہیں جب بھی نبی کریمۖ پر وحی نازل ہوتی تو آپ ۖ کا چہرہ مبارک متغیر ہو جاتا۔ اور آپ ۖ کی حالت دیکھ کر صحابہ کو پتہ چل جاتا کہ وحی کا نزول ہو رہا ہے۔آپ ۖ کی زندگی قرآن کا عکس تھی۔ قرآن کے نزول کے بعد آپ ۖ 23برسوں تک اس فانی دنیا میں موجود رہے ۔ وہی قرآن جو نبی مکرم ۖ کے پاس تھا، وہی قرآن جس کے سانچے میں ڈھل کر صحابہ نے اپنے نبیۖ کی اطاعت کی، وہی قرآن من و عن خوبصورت غلافوں میں لپٹا ہمارے طاقوں میں سجا ہوا ہے۔ کوئی اسے سجا کر ہی خوش اور مطمئن ہے کہ اس نے اس کا حق ادا کر دیا۔ کوئی اٹھا کر پڑھ لیتا ہے لیکن سمجھتا نہیں کہ کیا پڑھا ہے اور کوئی اسے سمجھنے کی زحمت تو گوارا کر لیتا ہے لیکن اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کو تیار نہیں۔گویا خدا کی نافرمانی کرتے کرتے ہم نے اپنے دل سنگلاخ چٹانوں سے بھی زیادہ مضبوط کر لئے اور اللہ کے عذاب نے ہمیں آلیا،کہ جن کھیتوں اور کھلیانوں پر آسمان سے پانی برستا تھا اب مہینوں کے حساب سے آسمانی پانی کو ترستے ہیں۔بخدا آج دنیا کی کسی بھی دوسری قوم سے زیادہ ہم ذلت و مسکنت میں مبتلا ہیں۔اللہ کا حکم ہے۔'' خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے سے دور رہو''۔ اس حکم کی تعمیل ہم اس انداز سے کر رہے ہیں کہ کوئی شیعہ ہے ،کوئی سنی۔ کوئی بریلوی ہے، کوئی وہابی اور کوئی دیو بندی۔ کوئی بھی اس مسلک کی بات نہیں کرتا جو محمد ۖ کا مسلک تھا۔ خدا کرے کہ ہماری آل اولاد ایسی نہ ہو جیسے ہم ہیں۔اور خدا ہم سب کو بھی وہی فیصلہ کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے جو اس نے حافظ ہارون رشید کو عطا فرمائی۔نو دسمبر میری پیدائش کا دن ہے۔اسی دن کی شام ہم اُمہ اکیڈمی میں مولانا محمد ادریس کی خدمت میں ادب سے بیٹھے تھے کہ اچانک حافظ ہارون رشید نے ایک ایسی بات کہہ دی جس نے سب کو چونکا کے رکھ دیا۔مسلمانوں کے درمیان نفاق کی بات ہو رہی تھی۔حافظ صاحب اس کی وجوہات بیان کر تے کرتے گویا ہوئے، مولانا صاحب آج میں اس محفل میں اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ میرا کسی مسلک سے کوئی تعلق نہیں ۔آج کے بعد میں صرف رسول اللہ ۖ کا ایک امتی ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے ایک مسلمان کی حیثیت سے زندہ رکھے اور اسی حالت میں موت دے۔حافظ ہارون ایک پیدائشی نابینا ہیں۔اور ان کے کریڈٹ پر ایک ایسا کارنامہ ہے جو دنیا کے کسی اور ملک میں کسی نابینا نے انجام دیا ہوتا تو ملک کے سب سے بڑے قومی اعزاز سے نوازا جاتا۔ راولپنڈی میں پیدا ہونے والے اس نابغہ روزگار شخصیت نے بصارت سے محرومی کے باوجود پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور پھر ایک عظیم کام کی انجام دہی میں یوں گوشہ نشین ہو گیا کہ اسے دن کا پتہ رہا نہ رات کی خبر ہوئی۔ آئی ٹی میں انتہائی مہارت رکھنے والا یہ شخص طویل گوشہ نشینی کے بعد جب دوبارہ دنیا کے سامنے آیا تو اس کے ہاتھ میں قرآن کا ایک ایسا نسخہ تھا جو دنیا بھر کے نابینا مسلمانوں کے لئے راحت اور آسودگی کا نسخہ کیمیا تھا۔ بالعموم نابینا افراد یا تو سی ڈی وغیرہ کے ذریعے قرآن سنتے تھے یا کوئی دوسرا فرد انہیں قرآن سنا کران کی روحانی آسودگی کا سامان کرتا تھا۔حافظ ہارون کو اس بات کا بہت قلق تھا کہ آنکھوں والے اگر قرآن کو خود پڑھ سکتے ہیں تو ان کی کمیونٹی کے لوگ اس سعادت سے محروم کیوں ہیں؟ انہوں نے فرانس کے لوئی بریل کے ایجاد کردہ رسم الخط بریل کو اختیار کر کے ایک ایسا قرآن تیار کیا جسے وہ سارے نابینا افراد انگلی کے پوروں سے محسوس کر کے پڑھ سکتے ہیںجنہوں نے بریل کی تعلیم لی ہوئی ہے۔یاد رہے کہ پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک میں نابینائوں کو بریل رسم الخط میںتعلیم دی جاتی ہے اور لاکھوں کی تعداد میں نابینا بریل جانتے ہیں۔قرآن کے نور کو دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیلانے کے لئے حافظ ہارون کی معاونت ایک فلاحی تنظیم نے کی۔حافظ صاحب نے بریل ہی میں اس کا اردو اور انگلش ترجمہ شائع کیا اور آج ناظرہ بریل قرآن، اردو ترجمے اور انگلش ترجمے والے بریل قرآن نہ صرف پاکستان بلکہ یورپ میں بھی مفت تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ مولانا ادریس کی پشاور سے کراچی تک بریل جاننے والے تمام نابینائوں کو یہ فراخدلانہ پیش کش بھی لائق تحسین ہے کہ جس کسی کو بریل قرآن کا نسخہ چاہئے وہ یو ڈبلیو ٹی سے رجوع کرے۔( یہ اس لحاظ سے ایک بڑی پیشکش ہے کہ ایک بریل قرآن پر چند سو روپے نہیں بلکہ چھ ہزار روپے لاگت آتی ہے ۔

دیکھئے ایک شخص جس نے نابینا ہونے کے باوجود قرآن حفظ کیا،پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری لی، آئی ٹی میں انتہائی مہارت حاصل کی اور بریل میں قرآن کا نسخہ تیار کر کے پوری دنیا کے نابینا مسلمانوں کے لئے روحانی آسودگی کا سامان کیا،اس جیسا عظیم شخص اگر فرقہ پرستی اور مسلک پرستی کو نبی پاک ۖ کی امت کے لئے خطرناک سمجھتے ہوئے خود کو اس طوق سے آزاد کرنے کا اعلان کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں۔کاش کہ ہم اپنی زندگی میں ہی دیکھ سکیں کہ محمدۖ کے امتی مسجد میں اس سوچ کے ساتھ داخل ہو سکیں کہ یہ اللہ کا گھر ہے۔

اداریہ