Daily Mashriq

آپ ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں

آپ ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں

کیا ہم کسی مادر پدر آزاد معاشرے کی جانب محو سفر ہیں ؟ ہماری معاشری روایات تو بہت شاندار تھیں ، بزرگوں کی عزت و تکریم جس کا بنیاد ی و صف ، بچوں سے شفقت ہمارا وتیرہ اور باہم میل ملاپ کے دوران احترام آدمیت ہمارا شعار رہا ہے بلکہ اب بھی بہت حد تک انہیں اصولوں کی پاسداری من حیث المجموع ہماری شاندار روایات کا مرکزی نکتہ ہے تاہم نئی ایجادات نے بھی اپنے اثر کے نفوذ سے ہمارے رویوں کو تلپٹ کرنے میں بہت حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے اور ایک خاص طبقہ جو ہے توبہت ہی محدود مگر ان کے ہاتھوں پر سوشل میڈیا بند رکے ہاتھ ہلدی کی گارنٹی کے مانند دکھ رہا ہے ۔ اور یہ شریف النفس لوگوں کی پگڑیاں اچھا ل کر جس طرح غو غا آرائی کر رہا ہے اس پر کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ، سلیم بیتاب نے ایسے ہی موقعوں کے لئے کہا تھا 

آج بیتاب فصیلوں کی ضرورت کیا ہے
شہر کو شہر کے لوگوں سے بچایا جائے
مسئلہ مگر یہ ہے کہ جو لوگ سوشل میڈیا پر اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے اتنی اخلاقی جرات سے بھی عاری ہیں کہ چند روز یا چند ہفتے پہلے تک جن کے گن گاتے ہوئے ان کے ٹوئٹ یا پھر فیس بک پر مختلف پوسٹوں میں تعریفوں کے پل باندھے ہوئے ہوتے تھے ان کے جانے کے بعد فرضی ناموں سے یا پھر نامعلوم قسم کے فیس بک اکائونٹس کے ذریعے انہی لوگوں کی تضحیک کا کوئی پہلو ان نام نہاد محبان وطن کے ہاتھو ں محفوظ نہیں رہا ۔ اور جب سے پاکستان کے دو تین اہم کردار اپنی ملازمت کی مدت مکمل کر کے رخصت ہوئے ہیں ،جن میں عسکری ، عدلیہ وغیرہ کے شعبے شامل ہیں تو آج بعض فیس بک پوسٹوں میں ان عزت داروں کی پگڑیاں اچھا ل کر اس حد تک گری ہوئی حرکتیں کی جارہی ہیں کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو کوئی بھی شخص جس کی تربیت کسی اچھے گھرانے میں شریف ماں باپ کے سایہ عاطفت میں ہوئی ہو اور جن کو بڑوں کی عزت و تو قیر کا درس دیتے دیتے ان کے بزرگوں نے فخر سے سر اونچا کر لیا ہوگا ، ایسی حرکت کرتے ہوئے یقیناسو بار سوچنے پر مجبور ہو تے ہوں گے کہ کیا ایسا کرکے وہ اپنے بزرگوں کو شرمندگی میں تو مبتلا نہیں کررہے ہیں ، مگر جن کی تربیت میں کوئی کمی رہ گئی ہو ، اور اسی وجہ سے وہ اپنے بزرگوں کی بے عزتی اور بے حرمتی سے بھی نہیں چوکتے ہوں گے تو ایسے ہی عنا صران بے ہودہ پوسٹوںسے نہ صرف خو د بھی حظ اٹھاتے ہوں گے بلکہ اپنے ہی جیسے لوگوں کی ذہنی آسودگی کا سامان کرتے ہوں گے ، تاہم دوسرو ں کی عزت اور ان کے احترام کے لئے جس اخلاقی بلندی اور خاندانی عزت و توقیر کی ضرورت ہوتی ہے شاید ان لوگوں میں اس کی شدید کمی ہے یہی وجہ ہے کہ اخلاقی جرأت سے عاری یہ لوگ اپنے ناموں سے ان غلیظ اور گندی پوسٹوں کو شیئر کرنے کی بجائے دوسرے ناموں یا اکائونٹس کے ذریعے مغلظات سے بھرے ہوئے پیغامات فیس بک پر وائرل کرکے ذہنی افلاس کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ بقول فیض احمد فیض
ہیں اہل دل کے لئے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
سابق سوویت یونین کے دور کا وہ واقعہ اس صورتحال پر پوری طرح صادق آتا ہے جب سٹالن کی موت کے بعد خروشیف برسر اقتدار آیا تو ایک روز پولٹ بیورو کے اجلاس میں وہ سٹالن کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پالیسیوں کے پرخچے اڑا رہا تھا۔ تقریر لمبی ہوئی تو اس کے پاس ایک چٹ پر کسی ممبر کی جانب سے یہ الفاظ لکھے ہوئے پہنچے کہ سٹالن کی زندگی میں تو آپ نے ان پالیسیوں پر کبھی اعتراض نہیں کیا مگر اس کی موت کے بعد اب معترض ہیں' ایسا کیوں ہے؟ خروشیف نے اپنی تقریر روکی' کاغذ پر نظر ڈالی اور غصے میں پوچھا' یہ چٹ کس نے بھیجی ہے مگر اجلاس پر ایک پر اسرار اور گمبھیر خاموشی طاری تھی۔
کہیں سے کوئی معمولی آواز بھی نہیںاٹھ رہی تھی۔ خروشیف نے کاغذ کو توڑ مروڑ کر جیب میں ڈالا اور اجلاس کے شرکاء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔ اس وقت میری بھی یہی کیفیت ہوا کرتی تھی' مجھے بھی سٹالن کی پالیسیوں سے اختلاف کی جرأت نہیں ہوتی تھی اور خاموشی ہی میں عافیت محسوس کرتا تھا۔ یہ کہہ کر خرو شیف نے اجلاس ختم کردیا۔
خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری
اس ساری صورتحال کی وجہ شاید یہ ہے کہ جن لوگوں کو آج بدتمیزی سے یاد کیا جا رہا ہے ان میں سے ایک نے ایک خاص طبقے کی خواہش پر امپائر کا کردار ا دا کرنے سے اپنے دامن کو بچائے رکھا اور ان کے دل کی آرزو پوری کرتے ہوئے ''میچ کے دوران'' بار بار اپیل کرنے کے انگلی اٹھانے سے انکار کئے رکھا۔ یہاں تک کہ ملک کے کئی شہروں میں ان سے نہ جانے کی درخواستیں کرتے ہوئے مختلف بینرز آویزاں کئے گئے جن پر تحریر ہوتا تھا کہ جانے کی باتیں جانے دو مگر ان طبقات کی ذاتی خواہش پر اپنی طویل ملازمت کے دوران ملک و قوم کی بے لوث خدمت کو قربان کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے جس عزت و توقیر سے رخصتی کو اپنا مطمح نظر بنا کر ان چند لوگوں کو مایوس کرکے رخصت ہوئے قوم آنے والے دور میں نہ صرف ان کے اس بے لوث جذبے کو سراہتی رہے گی بلکہ ان کے کردار کی عظمت کے گن بھی گائے گی۔کیا ہم اپنی اخلاقی روایات کو تباہی سے بچانے کے لئے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کریں گے؟
آپ ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

اداریہ