Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

امام احمدبن حنبل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ عراق کے کسی علاقے میں سفر کر رہا تھا ۔ دوران سفر ایک قصبے میں رات ہوگئی تو نماز کے بعد مسجد میں ہی ٹھہر نے کا ارادہ کر لیا ۔ امام احمد بن حنبل کی عاجزی وانکساری نے یہ گوار ا نہ کیا کہ لوگوں کو اپنا تعارف کروا کر خوب آئو بھگت کروائی جائے ۔ مسجد کے خادم نے بھی امام کو مسجد سے باہر نکل جانے کو کہا ۔

امام احمد ابن حنبل نے سوچا کہ مسجد کے دروازے پر سو جاتا ہوں ، لیکن خادم نے وہاں سے بھی کھینچ کر نکالنا چاہا ۔ یہ تمام منظر ایک نانبائی نے دیکھ لیا ، جو مسجد کے قریب ہی رہتا تھا ، اس نانبائی نے امام کو اپنے گھر رات گزار نے کی دعوت دی ، جبکہ وہ امام ابن حنبل کو جانتا بھی نہیں تھا ۔ آپ جب اس کے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ نانبائی اپنے کام کے دوران بھی کثرت سے استغفار پڑھ رہا ہے ۔

امام نے نانبائی سے پوچھا : کیا تمہیں اس قدر استغفار کرنے کا پھل ملا ہے ؟

نانبائی نے جواب دیا : میں نے جو بھی مانگا ، اللہ رب العزت نے عطا کیا ۔ ہاں ایک دعا ہے جو ابھی تک قبول نہیں ہوئی ۔ امام احمد بن حنبل نے پوچھا : وہ کونسی دعا ہے ؟ نانبائی بولا : میرے دل میں کچھ دنوں سے یہ خواہش مچل رہی ہے کہ امام احمد بن حنبل سے ملنے کا شرف حاصل کروں ۔ اس سلسلے میں اپنے پرور دگار سے خوب دعائیں مانگ رہا ہوں ، مگر ابھی تک یہ دعا قبول نہیں ہوئی ۔ امام احمد بن حنبل فرمانے لگے : میں ہی احمد بن حنبل ہوں ۔ رب تعالیٰ نے نہ صرف تمہاری دعا سنی ، بلکہ مجھے تمہارے دروازے تک کھینچ لایا۔ ''(طبرانی ، مجمع الزوائد )

ہشیم بن بشیراصل میں بخارا کے تھے ، لیکن بغداد میں آکر آباد ہو گئے تھے ، ان کے والد بشیر باورچی تھے ، کھانا پیشہ تھا ، ہشیم کو بچپن ہی سے پڑھنے کا شوق تھا ، انہیں اپنے آبائی پیشے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ، جب کہ ان کے گھر والوں کو ان کا پڑھنا پسند نہیں تھا ، وہ گھر والوں کے نہ چاہنے کے باوجود مسلسل پڑھتے رہے ، بغداد میں قاضی ابو شیبہ کا درس حدیث مشہور تھا ، یہ اس میں پا بندی سے جانے لگے ، پابندی سے پڑھنے والا طالب علم استاد کی نظروں میں آجاتا ہے ۔

ایک مرتبہ ہشیم بیمار ہوگئے اور درس میں نہیں آئے ، قاضی ابو شیبہ نے ان کا پوچھا ، کسی نے کہا بیمار ہے ، فرمایا چلئے ، ہم ان کی عیادت کر آتے ہیں ،عیادت کے لئے ان کے گھر جانے لگے تو اہل مجلس اور شاگرد بھی ساتھ ہو گئے ، سب نے بشیر باورچی کے گھر جا کر ان کے بیٹے ہشیم کی عیادت کی ۔

قاضی کے واپس جانے کے بعد بشیر باورچی اپنے بیٹے سے کہنے لگا : بیٹے ! میں تمہیں علم و حدیث حاصل کرنے سے روکتا تھا ، لیکن اب نہیں روکو ںگا ،یہ اس علم ہی کی برکت ہے کہ آج قاضی میرے دروازے پر آیا ، ورنہ مجھے اس کی کہاں امید تھی کہ قاضی اور میرے دروازے پر آئے ۔

(تاریخ بغداد صفحہ 57ج 14)

متعلقہ خبریں