Daily Mashriq


نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار

استنبول میں ہونے والی تنظیم برائے اسلامی کونسل کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کے مقبوضہ دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرے۔ تاہم 57رکنی اس تنظیم میں عرب ممالک کی شرکت اتنی حوصلہ افزا نظر نہیں آئی جس سے یہ کہا جا سکے کہ ہٹ دھرم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یروشلم یا القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔اس کی سب سے بڑی وجہ عرب ممالک اور مسلم ممالک کا منقسم ہونا ہے مستزاد مسلم ممالک میں دوریاں اور اختلافات ہی نہیں بعض ممالک تو ایک دوسرے کے خلاف باقاعدہ طور پر صف آراء بھی ہیں۔ اس فضاء میں استنبول میںمنعقدہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے اعلامیہ کو مسلمانانِ عالم کے لیے مایوس کن نہیںتو کم از کم امریکا اور ٹرمپ کے لیے غیر موثر اور ناقابل توجہ ہونا فطری امر ہے۔ کیا ہی جرأت مندانہ اقدام ہوتا اگراو آئی سی اجلاس میں شامل یہ 22اسلامی ممالک کے سربراہان اور 30اسلامی ممالک کے وزراء ، ڈونلڈ ٹرمپ کے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے ناجائز ، غیر قانونی اور غیر اخلاقی اعلان کو واپس لینے تک امریکا سے سفارتی تعلقات منقطع کر دینے کا اعلان کر دیتے۔ اگر یہ نہیں کر سکنے تھے تو کم ازکم اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جاتا کہ اگر فوری طور پر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو 55کے قریب اسلامی ممالک اپنا الگ’’ اسلامی بلاک ‘‘بنانے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ لیکن’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!اسلامی سربراہانِ مملکت کی اس اہم کانفرنس میں سعودی عرب ، مصر اور عرب امارات کے سربراہان کی عدم شرکت بھی افسوسناک اور معنی خیز ہونے کے ساتھ بہت سے شکوک و شبہات کا باعث ہی نہیں ان ممالک کی قیادت کی بے حسی اور اغیار سے قربت کا واضح اظہار بھی ہے۔ہمارے تئیں امریکی صدر کی طرف سے اعلان کردہ حالیہ اشتعال انگیز فیصلے اور اقوام متحدہ کی طرف سے اس اعلان کے خلاف محض مذمتی بیان کی طفل تسلی کے بعد یہ بات ایک مرتبہ پھر طشت از بام ہو گئی ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکا، انصاف پسند اور غیر جانبدار نہیں۔ دونوں کو ایک ہی سکے کے دو رخ کہا جائے تو بھی غلط نہ ہوگا۔ برطانیہ میں قائم دہشت گردی ماپنے والے ایک بین الاقوامی ادارے ’میپل کرافٹ ‘نے بجا طور پر اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ’’ اسرائیل کی جارحیت کو امریکا کی مکمل سرپرستی حاصل ہے جبکہ عالم اسلام کا اقوام متحدہ کے اوپر سے اعتماد کم ہو تا چلا جا رہا ہے۔‘‘ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان، مصر، فرانس، ترکی، شام، وینزویلا، سوڈان، روس، ایران سمیت جن ممالک نے امریکی صدر کے اس اقدام کی مذمت کی ہے، انہوں نے بھی اقوام متحدہ ہی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنائے جانے کے اعلان کے خلاف اقدامات اٹھائے۔ اقوام متحدہ سے اصلاح احوال کا مطالبہ کرنے والے یہ ممالک اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اقوام متحدہ وہ عالمی ادارہ ہے جو کھاتا تو سب کا ہے لیکن گاتا صرف امریکا کا ہے۔ فرانس اور روس دونوں سپر طاقتیں ہیں، اس کے باوجود یہ دونوں ممالک بھی اسرائیل کی اس بد معاشی پر اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے اقوام متحدہ سے مطالبہ پر ہی تکیہ کررہے ہیں تو اس کا واضح مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ چونکہ ان ممالک کے فلسطین سے کچھ بھی مفادات وابستہ نہیں ہیں لہٰذا وہ بغیر مفادات کے کسی قسم کا تنازعہ مول لینے کے لئے تیار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب اسلامی ممالک اور خاص طور پر عرب ممالک کے کردار و عمل کا یہ عالم ہو تو غیر مسلم ممالک سے کسی سخت اقدام کی توقع ہی عبث ہے۔اگر اسلامی ممالک کی تنظیم کے اجلاس میں ٹھوس اور سخت فیصلہ سامنے آتا تو دیگر ممالک سے کم از کم ان کی حمایت کی توقع ہی کی جاسکتی تھی اور او آئی سی کے فیصلے کی حمایت کے لئے ان سے سفارتی رابطے کئے جاسکتے تھے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دو ارب مسلمان کب تک اسی طرح بے بسی سے امریکا اور اسرائیل کی بد معاشی کو سہتے رہیںگے؟ کیا دنیا بھر کے مسلمان اس قدر بے حس و بے بس ہوچکے ہیں کہ وہ مٹھی بھر یہودیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اہل فلسطین کی تنظیمیں خواہ وہ الفتح ہو،حماس ہویا ان سے ہمدردی رکھنے والی حزب اللہ ہو ،ہر کسی کا ایک ہی نصب العین ہے کہ مقبوضہ عرب علاقوں پر سے اسرائیل کا فوجی قبضہ ختم کروایا جائے اور اس پر آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دار الحکومت بیت المقدس ہو۔لیکن یہ بات بھی عیاںہے کہ اقوام متحدہ اور امریکا کے جانبدارانہ کردار کی وجہ سے یہ خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔لہٰذا اس وقت عالمی حالات شدت سے اس بات کا تقاضا کررہے ہیںکہ عالم اسلام کے پچپن کے قریب ممالک امریکا اور اقوام متحدہ کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے طورپر متحد ہوکر ایک مشترکہ ’’اسلامی بلاک‘‘ تشکیل دیں، جس کے تحت فلسطینی تنظیموں کی جدو جہد کے اس مشترکہ نصب العین پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا کو درپیش دیگر مسائل حل کرنے کے لیے اسی پلیٹ فارم کو استعمال کیا جائے۔عالم اسلام اور اس کے حکمران اس حقیقت کا ادراک جس قدر جلد کرلیں، اسی قدر ان کے حق میں بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں