Daily Mashriq


فاٹا اصلاحات بارے آرمی چیف کی یقین دہانی

فاٹا اصلاحات بارے آرمی چیف کی یقین دہانی

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے قبائلی عمائدین کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت اور امن و استحکام کے لئے قبائلی عوام کی قربانیوںکو سراہتے ہوئے کہاہے کہ پاک فوج قبائلی عوام کی خواہشات کے مطابق فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کی حمایت کرتی ہے‘ فاٹا میں دیر پا امن و استحکام کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں‘ فاٹا کے مستقبل کے لئے وفد کے خیالات کی قدر کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات فاٹا کے عمائدین اور یوتھ جرگہ کے وفود سے ملاقات کے دوران کہی۔ آرمی چیف نے دونوں وفود کو یقین دہانی کرائی کہ پاک فوج فاٹا کو عوامی خواہشات کے مطابق قومی دھارے میں لانے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے فاٹا کے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ بطور مستقبل کی قیادت فاٹا میں امن اور ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔فاٹا میں اصلاحات کے معاملے پر قبائلی عمائدین اور نوجوانوں کے وفد کو ملاقات کا موقع دینا اور آرمی چیف کی ان کو فاٹا اصلاحات سے متعلق تعاون کی یقین دہانی فاٹا معاملات میں پاک فوج کی قیادت کی دلچسپی کا مظہر ہے ۔ فاٹا اصلاحات کے معاملے میں قبائلی عمائدین اور نوجوان کی سوچ اور مساعی ہم آہنگ اور مشترکہ ہیں اور وہ پوری طرح فاٹا اصلاحات کے حامی ہیں۔ اس ضمن میں حمایت کا اعادہ اس امر پر دال ہے کہ فاٹا کے نوجوانوں کے فکر میںنہ صرف مثبت تبدیلی آئی ہے بلکہ ان کی سوچ کا محور شدت پسندی کی طرف مائل ہونے کی بجائے تعلیم و ترقی اور اصلاحات جیسے مثبت اقدامات کی سمت تبدیل ہوا ہے۔ قبائلی عمائدین اور نوجوانوں کے اس جرگے کاآرمی چیف سے قبائلی علاقوں میں ترقی کیلئے مزید اقدامات کی توقع کے اظہار کے بعد ان کی خواہشات کا احترام نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فاٹا کا مستقبل وہاں کے اپنے لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے جن کی تعلیم و تربیت کیلئے پاک فوج کی جانب سے جگہ جگہ تعلیمی اداروں کا قیام اور تعلیمی امور کی نگرانی اور تعلیم و تفریح اور کھیلوں کی سہولیات میں عملی دلچسپی کا اظہار حوصلہ افزاء امر ہے۔ جس سے نوجوانوں میں مثبت رجحانات کو فروغ ملنا یقینی امر ہوگا ۔ ان امور کو دیکھ کر وہ حالات ڈرائونے خواب اور گزرتے ہوئے وقت کی طرح لگنے لگتے ہیں جب قبائلی علاقوں میں مثبت امور کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اب منفی امور کی جگہ مثبت رجحانات نے لے لی ہے جس کے پیچھے پاک فوج کی قربانیوں اور جدوجہد کی لمبی کہانی ہے ۔ اس سے بڑھ کر مقام اطمینا ن کیا ہوگا کہ فاٹا کے عوام اصلاحات کے حامی ہیں اور وہاں کے نوجوان تعلیمی و مثبت سرگرمیوں کی ترویج کے خواہاں ہیں ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ پاک فوج اور سویلین ادارے مل کر قبائلی علاقوں کی تعمیر و ترقی اور نوجوانوں کے خواب کی تعبیر کیلئے کوشاں ہوں گے ۔قبائلی عمائدین اور نوجوانوں کی جانب سے ہر فورم پر فاٹا اصلاحات کے نفاذ کی کوششیں ہورہی ہیں جن کا سیاسی عناصر کی طرف سے احترام نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ فاٹا اصلاحات کو متنازعہ بنانیوالوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے موقف پر نظر ثانی کریں اور فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی راہ میں رکاوٹ کی بجائے تعاون کا راستہ اپنائیں ۔

قانون کا مذاق اڑانے کی روایت بد

ملتان میں قانون کے محافظین ومتشرحین کی جانب سے جوڈیشل کمپلیکس اورڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں توڑ پھوڑ قانون شکنی کی اس لئے بد ترین مثال قرار پاتی ہے کہ وکلاء نے عدالت اور عدالتی کمپلیکس میں قانون کا بد ترین مذاق اڑایا ستم بالائے ستم یہ کہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں پولیس نے بھی ان کو روکنے کی سعی نہیں کی اور تماشہ دیکھتی رہی ۔معاشرے میں قانون کی بالادستی کیلئے وکلاء کی جدوجہد اور خدمات سے صرف نظر ممکن نہیں پنجاب میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا موقع نہیں بلکہ وکلاء گردی کے مظاہرمعمول بنتے جارہے ہیں۔ اگر قانون کے محافظین کا رویہ، یہ ہوتا ہے تو پھر ایک عام آدمی سے کوئی کیا توقع رکھ سکتا ہے ؟ وکلاء کی جانب سے جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء چیمبر اور سائلین کے بیٹھنے کی جگہ نہ ہونا اپنی جگہ ایک مسئلہ ضرور ہے لیکن اس کا گفت و شنید کے ذریعے مہذب حل ناممکن نہیں تھا۔ وکلاء کا اس طرح قانون کو ہاتھ میںلینا اور عدالت میں توڑ پھوڑ قانون و انصاف کے لئے چیلنج ہے جسے برداشت نہیں کیا جانا چاہیئے۔ اس ضمن میں وزیر قانون پنجاب کا تبصرہ بھی بڑا ذومعنی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آج کل رول آف لاء نہیں بلکہ رول آف دی ڈے ہے اور قومی سطح پر ریاست میں یہ اتفاق رائے ہے کہ جس کو بھی اپنے مطالبات منوانے ہوں وہ راستے بند کرکے اور شیشے توڑ کر اپنے مطالبات منوا لیتا ہے۔ محافظین قانون خاموش تماشائی متشرحین قانون بپھرے ، منصفین خاموش اور حکومت ناقد کا کردار ادا کرنے لگے تو قانون کی پاسداری کروانے کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے ؟ ۔

متعلقہ خبریں