Daily Mashriq


ایاز صادق کھل کر بات کریں

ایاز صادق کھل کر بات کریں

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ملک میں کچھ ہونے والا ہے معلوم نہیں کون کروا رہا ہے۔ ایک طرف انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں غیر یقینی صورت حال ہے اور کچھ ایسا ہونے والا ہے جو 2002ء اور 2008ء میں بھی نہیں ہوا تھا اور جو ان کے خیال کے مطابق ہونے جا رہا ہے اس کے محرک کے بارے میں انہیں معلوم نہیں ۔ دوسری طرف انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ استعفے آ سکتے ہیں اور گریٹر پلان بن رہا ہے اور وہ اس سے باخبر ہیں۔ اس بے خبری اور باخبری کے اعتراف اور اعلان کے باوجود ان کے بیان سے تشویش اور کنفیوژن تو پیدا ہوتا ہے لیکن اس تشویش ناک صورت حال کا نہ کوئی نقشہ نظر آتا ہے، نہ اس سے عہدہ برآء ہونے کی کوئی صورت۔ سارے انٹرویو پر ان کا ایک جملہ حاوی نظر آتا ہے کہ میں کبھی اتنا مایوس نہیں ہوا جتنا اب ہوں۔ کیا سپیکر ایاز صادق یہی کہنا چاہتے تھے؟ جب کہ ان کے علم میں ہو گا کہ قائدین کی طرف سے اظہار مایوسی ساری قوم میں سرایت کر سکتا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی کی بلحاظ عہدہ کلیدی حیثیت ہوتی ہے اور سیاسی معاملات کے بارے میں سپیکر کا باخبر ہونا یقینی سمجھا جاتا ہے۔ یہ کس کا رویہ ہے جو کنفیوژن پیدا کر رہا ہے جس کے باعث مایوسی پھیل سکتی ہے۔ یہ سوال اہم ہونا چاہیے۔ اس طرف غور کیا جائے تو حکمران مسلم لیگ کی حکومت کی ذمہ داری واضح طور پر نظر آتی ہے۔ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی بھی کہہ رہے ہیں کہ ملکی حالات ٹھیک نہیں ہیں لیکن وہ یہ بھی بتا رہے ہیں کہ حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر برہمی کااظہار کیا ہے کہ وزراء سینیٹ کے اجلاس میں اپنی وزارتوں کے بارے میں سوالات کے جواب نہیں دیتے۔ انہوں نے گزشتہ روز ن لیگ کے وزراء کے بارے میں کہا کہ وہ کیوں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ن لیگی وزراء سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران بھی حاضر نہیںہوتے تو وہ کہاں ہوتے ہیں اور کیا کرتے ہیں۔ ایسی خبریں بھی سامنے نہیں آتیں کہ ن لیگی وزراء پارلیمانی پارٹی کے اجلاسوں میں مصروف ہوں۔ البتہ ایک بات ضرور نظر سے گزرتی ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیڈر ایوان سے باہر رابطے کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان سے بالعموم توقع یہ کی جا رہی ہے کہ وہ ایوان میں آ کر آئندہ انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیوں کے بارے میں ایک سالہ ترمیم کا بل منظور کریں تاکہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوجائیں۔ لیکن بعض اخبارات کہہ رہے ہیں کہ یہ رابطے حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیمی بل کی بجائے آئندہ نگران حکومت کے قیام کے بارے میں ہو رہے ہیں۔ حکومت کے زعما بار بار کہتے ہیں کہ انتخابات بروقت ہوں گے لیکن انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیوں پر متوجہ نظر نہیں آ رہے۔ تو اس دعوے کے پیچھے ارادہ کس قدر کارفرما ہے اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ قومی اسمبلی کی جو ٹی وی فوٹیج کبھی کبھی نظر آ جاتی ہیں ان میں ہال خالی نظر آتا ہے۔ پچھلے چند دن میں کئی بار اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی ہو چکا ہے۔ فاٹا اصلاحات کا بل گزشتہ پیر کو پیش ہونا تھا جسے حکومت نے اچانک ایجنڈے سے خارج کر دیا اور کہا کہ یہ ٹیکنیکل وجوہ کی بنا پر ملتوی کیا گیا ہے، دو چار روز میں دوبار ہ پیش کر دیا جائے گا۔ دمِ تحریر تیسرا دن ہے لیکن یہ بل پیش نہیں کیا گیا۔ اور اس وجہ سے اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ن لیگی ارکان کہاں مصروف ہیں۔ حکومت کیا کر رہی ہے۔دوسری طرف کئی دن سے روپے کی گرتی ہوئی قدر کے بارے میں سارے میڈیا پر ہر مکتب فکر کے مبصرین اظہارِ تشویش کر رہے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی طرف سے بیان جاری ہوا ہے کہ مارکیٹ فورسز خود ڈالر کی قیمت کا تعین کریں گی اور ماہرین کا خیال ہے کہ ڈالر 120روپے تک جا سکتا ہے۔ لوگ تشویش میں مبتلا ہیں کہ ایک طرف روپے کی قدر میں کمی اور دوسری طرف بین الاقوامی منڈی میں تیل کی مصنوعات کی قیمت میں اضافے سے چند دن میں کئی سو اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہونے والا ہے۔ لیکن حکومت خاموش ہے۔ نہ کوئی اقدامات نظر آ رہے ہیں نہ کوئی بیانات۔ اس منظرنامہ میں سپیکر ایاز صادق کہہ رہے ہیں کہ لگتا نہیں حکومت مدت پوری کرے گی۔ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ صورت حال غیر یقینی ہے‘ اندرونی خطرات زیادہ سنگین ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ضروری نہیں کہ سسٹم مارشل لاء ہی سے ڈی ریل ہو۔ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ گریٹر پلان بنتا نظر آ رہا ہے اور یہ بھی کہ سیاسی جماعتیں نظام کو مستحکم کریں۔ ملک کی اس وقت سب سے بڑی جماعت حکمران مسلم لیگ ہے۔ ایاز صادق کا تعلق اس جماعت سے پرانا ہے۔ قومی اسمبلی کے لیے انتخاب میں بھی انہوں نے اسی جماعت کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور کامیاب ہوئے تھے۔ یہی حکمران جماعت اب قومی معاملات میں کوئی کردار ادا کرتی نظر نہیں آ رہی۔ چند ہفتے پہلے تک آئندہ انتخابات پر بھرپور توجہ تھی۔ ملک کو ترقی دینے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کیے جا رہے تھے۔ اب گیس کی لوڈشیڈنگ پر کوئی توجہ نظر نہیں آرہی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کارروائی میں کوئی توجہ نظر نہیں آ رہی۔ فاٹا اصلاحات ایسے حساس معاملے میں سوچی سمجھی بے احتیاطی کا رویہ دکھائی دے رہا ہے۔ اوپر سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ایک نئے قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ تو ایاز صادق کو کھل کر بات کرنی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ باخبر ہیں تو بتائیں کون سسٹم کو ڈی ریل کرنے کی طرف لے جا رہا ہے اور گریٹر پلان بن رہا ہے۔ جس تشویش کا وہ اظہار کر رہے ہیں اس میں انہیں سیاسی پارٹیوں کو بھی شریک کرنا چاہیے۔اگر گریٹر پلان کا مطلب طویل دورانیہ کی نگران حکومت ہے تو اس کا فائدہ ن لیگ ہی کو ہو گا۔ مسائل کا انبار جو ن لیگ نے ملک کے عوام کے لیے اکٹھا کر دیا ہے وہ نگران سیٹ اپ کے ذمے لگے گا۔ اور ن لیگ ایک بار پھر دھلی دھلائی انتخابات میں اُتر سکے گی۔

متعلقہ خبریں