Daily Mashriq


یروشلم اعلان کے بعد دنیا کی بدلتی صورتحال

یروشلم اعلان کے بعد دنیا کی بدلتی صورتحال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد پوری دنیا میں پھیلے ہوئے یہودیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اورتمام یہودی حلقے ٹرمپ کے اس فیصلے کو یہودی کاز کی ایک بڑی فتح سے تشبیہہ دے رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر کی اس عاقبت نا اندیشی کی وجہ سے مسلم دنیا میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے جس کی وجہ سے ان انتہاپسند عناصر کے ہاتھ مضبوط ہوں گے جن کو امریکہ ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ مسلم ممالک میں موجودشدت پسند عنا صر ایسے فیصلوں کی وجہ سے عیسائی اور یہودیوں کے خلاف احتجاج کا نعرہ لگا کر اپنے اراکین کی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے مذکورہ فیصلے کے بعد مسلم دنیا کے بہت سے دارالحکومتوں میں کافروں، یہودیوں اور عیسائیوں، کے خلاف جنگ کے نعرے سنائی دیئے ہیں۔ ٹرمپ کے فیصلے سے ایک بات تو بالکل واضح ہوگئی ہے کہ مذکورہ فیصلہ انتہا پسندوں ، مسلمان اور یہودی دونوں، کو مضبوط کرنے کا سبب بنا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ سے سعودی عرب جیسے امریکی اتحادی کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچے گا جو مبینہ طور پر اسرائیل کے ساتھ اپنے روابط بڑھانے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ مذکورہ فیصلے کے بعد سعودی عرب جیسی قدامت پسند ریاست کو ایک یہودی ملک کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری کے فیصلے کا دفاع کرنا مشکل ہوجائے گا۔ ریاض اور تل ابیب دونوں تہران کو اپنا ازلی دشمن سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے دونوں مل کر ایران کے خلاف ایک مشترکہ پالیسی بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ ذرائع ابلاغ کی چند رپورٹس کے مطابق اسرائیل سعودی عرب کو ایران کے خلاف انٹیلی جنس فراہمی کی پیش کش بھی کرچکا ہے لیکن ٹرمپ کے مذکورہ فیصلے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی کوششیں ختم ہوجائیں گی۔ فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی سیکورٹی فورسز کی جانب سے کئے جانے والے بہیمانہ تشدد پوری عرب دنیا میں فلسطین کیلئے ہمدردی کے جذبات بیدار کرنے کا سبب بنا ہے لیکن سعودی عرب کی جانب سے ٹرمپ کے حالیہ فیصلے پر خاموشی پوری مسلم دنیا میں سعودی عرب کے کردار کے حوالے سے شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔بعض حلقوں کی رائے میں ٹرمپ انتظامیہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارا لحکومت قرار دینے کے فیصلے سے پہلے سعودی عرب کو بھی اعتماد میں لیا ہوگا۔امریکہ کے مذکورہ اقدام کے بعد سعودی عرب کے لئے صورتحال خراب ہوچکی ہے کیونکہ خطے میں صرف ایران کو نیچا دکھانے کے لئے ’مسلم اور عرب دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کا نشانہ بننے والے ملک ‘ کے ساتھ سعودیہ کے بڑھتے ہوئے تعلقات پورے دنیا میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کے لئے قابلِ قبول نہیں ہیں۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایک ایسے ملک کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات بھی مسلم دنیا کے لئے قابلِ قبول نہیں ہیں جو مسلمانوں کی دوسری بڑی مقدس جگہ یہودیوں کو دے رہا ہے اور اس پر اسرائیل کے حق کوتسلیم کر رہا ہے۔ اس واقعے کے بعدپوری دنیا میں پھیلی ہوئی سعودی نواز سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں اور ا ن کے غصے کا رُخ واشنگٹن اور تل ابیب کے ساتھ ساتھ ریاض کی جانب بھی مڑ گیا ہے۔ دوسری جانب ایران ہمیشہ سے اسرائیل اور اس کی ’’جارحانہ پالیسی ‘‘ کی مخالفت کرتا چلا آ رہا ہے اور تہران نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ فلسطین پر قبضہ کرنے والی یہودی ریاست کے ساتھ کسی بھی صورت میں کوئی مفاہمت نہیں کی جاسکتی۔ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے نے ایران کے موقف کو تقویت پہنچائی ہے اور امریکہ کے اس دعوے کی قلعی کھول دی ہے کہ امریکہ بین الاقوامی قوانین کی عزت کرتا ہے ۔ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو نہ صرف مسلم دنیا بلکہ امریکہ کے اپنے یورپی اتحادیوں کی جانب سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور مغربی ممالک میں عوامی رائے بھی فلسطین کے حق میں تبدیل ہوچکی ہے۔یہ ساری صورتحال ایران کے لئے سود مند ثابت ہوگی جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران فلسطینی کاز کی حمایت میں مزید اضافہ کرے گا ۔ یہ امر پوری دنیا کے لئے دلچسپی کا باعث ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب جس ایران کے خطے میں اثرورسوخ کو کم کرنا چاہتے ہیں ان کے ایک اعلامیہ کی وجہ سے اس کے اثرورسوخ میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے۔ مبینہ مغربی حمایت کے ساتھ سعودیہ نے یمن میں بھی بے پناہ بمباری کی ہے جس کی وجہ سے سعودیہ کی ساکھ کو بہتری کی بجائے نقصان پہنچا ہے۔ سعودیہ اور مغرب پر داعش کی حمایت کرنے کا الزام بھی کیا جاتاہے جس کا مقصد ایران کی حمایت یافتہ شامی حکومت کا خاتمہ تھا لیکن عراق اور شام میں شدت پسندوں کی شکست سے بشار الاسد کی حکومت مزید مضبوط ہوئی ہے۔ داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے نے چین، روس، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو متحد ہونے پر مجبور کر دیا ہے اور امریکہ کے دو اتحادی ، پاکستان اور افغانستان ، بھی ایک ایسے اتحاد کی جانب جھک رہے ہیں جس میں ایران کومرکزی اہمیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ سعودیہ کے قطر کے بائیکاٹ پر بھی بہت سے سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیںجس کی ٹرمپ انتظامیہ نے حمایت کی تھی۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا ٹرمپ کا فیصلہ ایران کے لئے انتہائی سود مند ثابت ہوگا۔ 

(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ:اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں