Daily Mashriq


رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو ۔کچھ سوال

رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو ۔کچھ سوال

دھرنوں کے ہنگام کیا حکومت اپنے اس عزم کی تکمیل کرپائے گی کہ رویت ہلال کے حوالے سے کسی بھی نجی کمیٹی کے اعلان پر ایک سال قید دی جا سکے ۔ رویت ہلال کا مسئلہ ہمارے ہاں گزشتہ کئی برس سے متنازعہ بن یا بنا دیا جاتا ہے ۔ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں عوامی سطح پر جو کمیٹیاں موجود ہیں انہیں حکومت لاکھ نجی کمیٹیاں کہے ، ان کے پیچھے ایک روایت کام کرتی ہے اور خصوصاً پشاور کی مسجد قاسم علی خان میں جو کمیٹی اس وقت مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے دادا مفتی اعظم سرحد مولانا عبدالحکیم پوپلزئی کی سربراہی میں عمل میں آیا تھا ۔مفتی اعظم سرحد کا خطاب انہیں تحریک خلافت کے دنوں میں علماء اور مشائخ کے اجتماع میں دیا گیا تھا ۔ پورے صوبے میںعیدانہی کے فتوے کے مطابق منائی جاتی ، ان کے بعد انہی کے فرزند مفتی عبدالرحیم پوپلزئی کی قیادت میں یہ سلسلہ جاری رہا اور تب سے اب تک مسجد قاسم علی خان ہی کے فتوے پرپشاور کے عوام عید مناتے آرہے ہیں ، اس دوران میں آبادی میں اضافہ ہونے کی وجہ سے پشاور کے ساتھ ساتھ چارسدہ ، مردان ، بنوں اور دیگر علاقوں میں بھی مقامی رویت ہلال کمیٹیوں کا قیام عمل میں آیا ، جو اکثر ایک دوسرے کے ساتھ بھی رابطے میں رہتی ہیں اور شرعی شہادتوں پر فیصلے صادر کرتی ہیں ، اس ضمن میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے ساتھ اختلاف صرف مسجد قاسم علی خان کی کمیٹی کا سامنے نہیں آتا بلکہ جس زمانے میں ، راقم ریڈیوپاکستان کے ساتھ وابستہ تھا اور ہم نہ صرف سرکاری زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کور کرنے جایا کرتے ، کبھی کبھی مرکزی کمیٹی کا اجلاس بھی یہاں منعقد ہوتا جس کیلئے قلعہ بالا حصار کے اوپر ی منزل پر دوربین لگا کر چاند کی رویت کا اہتمام کیا جاتا ، تاہم اسی زمانے میں ایک دوبار سرکاری زونل کمیٹی اراکین کے بھی مرکزی کمیٹی کے ساتھ جس کا اجلاس کراچی یا لاہور میں ہورہا ہوتا ۔ اختلافات پیدا ہوئے اور ایک بار تو پشاور کی زونل کمیٹی کے دو اراکین نے مرکزی کمیٹی کا اجلاس جلد ختم کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے مستعفی ہونے کی دھمکی بھی دی تھی ۔ یعنی 

آسماں پر چاند نکلا بھی تو کیا

گھر کی تاریکی نمایاں ہوگئی

راقم انہی کا لموں میں گزشتہ کئی سال سے رویت ہلال کے مسئلے پر دونوں جانب کے کردار اور رویوں پر تبصرہ کرتے ہوئے گزارشات پیش کرتا آرہا ہے اور جہاں مرکزی کمیٹی کا موقف درست تھا تو اس کی حمایت اور اگر مسجد قاسم علی خان کمیٹی کا موقف مبنی بر حقیقت رہا تو اس کی پذیرائی بر ملا کرتا رہا ہے ، مگر لگتا ہے کہ کمیٹی کے موجودہ چیئر مین کے ذہن میں پشاور کے مفتیان اور جید علمائے کرام کے حوالے سے کوئی نامناسب اور منفی سوچ کار فرما ہے اسی لئے وہ ہمیشہ سے اسی کو شش میں رہے کہ خواہ یہاں کے علمائے کرام کا موقف درست ہی کیوں نہ ہو ، ان کا پر نالہ وہیں کا وہیں رہتا رہا ہے جہاں کی سوچ ان کے تصور کے مطابق رہتی تھی ۔ راقم نے یہ سوال بھی بار ہا اٹھا یا کہ آخر وہ کونسی طاقت ہے، کونسا حلقہ ہے جو اتنی مدت سے موجودہ چیئر مین کو باوجود ان کے نامناسب رویہ کے ، عوام کے سروں پر مسلط رکھے ہوئے ہے ، اور گزشتہ ڈیڑھ دو برس سے پارلیمنٹ میں بھی اس حوالے سے اٹھنے والی آوازوں کے بعد کمیٹی کی تشکیل نو کا فیصلہ سامنے آیا ، سینیٹ میں بھی اس پر خوب لے دے ہوئی مگر چند ہفتوں تک بیان بازی کے بعد نہ جانے وہ کیا عوامل تھے جن کی وجہ سے یہ معاملہ پھرٹھنڈا ہو جاتا ہے ، اب جو تازہ اطلاعات اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق حکومت نے رویت ہلال کمیٹی کی قانون سازی کیلئے تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور مجوزہ بل میں چاند کا نجی اعلان کرنے والے کیلئے ایک سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے ۔ خبر میں صوبائی کمیٹیوں کی تشکیل او ردیگر معاملات کے بارے میں تفصیل کے ساتھ ذکر ہے ، تاہم جو باتیں اہم ہیں ،آج کے کالم کو انہی تک محدود رکھتے ہیں ، قانون شکنی یعنی غلط شہادت وغیرہ پر 50ہزار روپے جرمانہ اور 6ماہ تک قید یا دونوں عاید ہوں گے ۔ نجی طور پر چاند کا اعلان کرنے والے کو ایک سال قید کی سزا دی جا سکے گی ۔ یعنی بقول نظیر ساگر

نوید عید نہ دے مجھ کو آسماں سے اے چاند

کہ میں نے دیکھے ہیں چہرے اداس لوگوں کے

کالم کے آغاز میں جس صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا گیا کہ دھرنوں کے ہنگام کیا حکومت اپنے اس عزم کی تکمیل کر پائے گی کہ رویت ہلال کے حوالے سے کسی بھی نجی کمیٹی کے اعلان پر ایک سال قید کی سزا دی جا سکے ۔ کیونکہ حال ہی میںاسلام آباد اور لاہورمیں بعض مذہبی حلقوں کے دھرنوں سے پورے ملک نے سرکار کو جس طرح گھٹنے ٹیکتے دیکھا ، اس کے بعد کیا رمضان اور عید جیسے اہم مسئلے پر مختلف علاقوں میں لگ بھگ ایک صدی سے قائم روایت پر عمل در آمد کرنے والے علمائے کرام کی کمیٹیوں کے ساتھ کسی مناقشت کی کوشش کامیاب ہو سکے گی ۔ عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ موجودہ چیئر مین کو جو گزشتہ بارہ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے کرسی سے چمٹے ہوئے ہیں ہٹا کر کسی غیر جانبدار شخص کو اس منصب پر تعینات کیا جائے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو بھی مسلمان سمجھا جائے یعنی ان کی شہادتوں کو بھی وقعت دی جائے ۔

متعلقہ خبریں