Daily Mashriq


بیت المقدس ‘ مسلمان ممالک اور او آئی سی

بیت المقدس ‘ مسلمان ممالک اور او آئی سی

مغربی دنیا میں ایک اصطلاح بڑی مقبول ہے اور وہ ہے ’’لیوریج‘‘۔ ایک ملک دوسرے سے معاملہ کرتے ہوئے یہ دیکھتا ہے کہ اپنی بات منوانے کے لیے اُس کے پاس کیا ’’لیوریج‘‘ (Leverage)موجود ہے۔ امریکہ نے کیری لوگر بِل کے تحت پاکستان کو جب امداد دینے کا فیصلہ کیا تو وہاں کے اخبارات نے لکھا کہ یہ امداد امریکہ بطور ’’لیوریج‘‘ استعمال کر سکتا ہے‘ یعنی امداد کی وجہ سے امریکہ جب چاہے گا پاکستان کو اپنی بات ماننے پر مجبور کر دے گا۔ دنیا کی قوموں میں مسلمان قوم کی حالت زار لمحہ موجود میں ایک ایسی قوم کی ہے جس کے پاس افرادی و زمینی وسائل کی بہتات ہے لیکن اپنی بات منوانے کے لیے اُس کے پاس کوئی ’’لیوریج‘‘ نہیں ہے۔ یوں جُرم ضعیفی کی سزا اُسے متواتر مل رہی ہے۔ قوموں کی زندگی میں ایسے موڑ آتے ہیں جب اُن کے قائدین کو احساس ہونے لگتا ہے کہ بقا کا راستہ باہمی اتفاق و اتحاد میں ہے۔ یورپ کی تاریخ مسلسل جنگوں اور رقابت سے عبارت تھی مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپی رہنماؤں نے اتحاد کے راستے پر چل کر یورپ کو نہ صرف جنگوں سے نجات دلا دی بلکہ امریکہ کے مقابلے میں یورپ ایک بڑی معاشی و سیاسی قوت بن گیا۔ مسلمان حکمرانوں نے لیکن مصائب سہنے اور کچھ نہ کرنے کی پالیسی اختیار کیے رکھی۔ اگر مسلم دنیا اتحاد کی راہ اپناتی تو آج مسلمان ذلیل و خوار نہ ہو رہے ہوتے۔ ہمارے نصیب میں وہ سٹیٹس مین ہی نہ آئے جو قوموں کو اوپر اٹھاتے ہیں‘ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کی قیادت کے منصب پر وہ لوگ بٹھائے جاتے ہیں جو مغرب کے پٹھو ہوتے ہیں اور ذہنی طور پر غلام قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل شہید جیسے آزاد منش اور حریت و فکر رکھنے والے رہنماؤں کو راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ او آئی سی کی تخلیق شاہ فیصل کا ویژن تھا مگر ان کی ناگہانی وفات کے بعد یہ مشن ادھورا رہ گیا۔ آج او آئی سی کا پلیٹ فارم ایک ڈیبیٹنگ کلب ہے ‘ عملی طور پر یہ تنظیم مسلمانوں کی حفاظت اور مسلمان قوم کے مفادات کے تحفظ میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ اتحاد اُمت کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو جاتا تو آج ہمارے نصیب میں رسوائی نہ ہوتی۔ مسلمانوں کے قبلۂ اول بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر کے امریکی صدر نے اپنی اسلام دشمنی کا واضح ثبوت دے دیا ہے مگر ہم امریکہ مردہ باد کے نعرے لگانے سے زیادہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اگر ہمارے پاس معاشی و سیاسی لیوریج ہوتی تو امریکی صدر یہ اقدام اُٹھانے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔ اس معاملے کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ ہماری نااتفاقی او رعدم اتحاد نے اغیار کو ہمیشہ موقع دیا کہ وہ مسلمانوں کو دبا کر رکھیں جب کہ دوسرا پہلو اور بھی بھیانک ہے۔ تہذیبوں کے درمیان تصادم کی تھیوری اب حقیقت کا روپ دھار کر عالم اسلام پر کاری وار لگارہی ہے‘ امریکہ جو کبھی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ثالثی کرتا رہا ہے اب اسرائیل کی حمایت میں حد سے گزر گیا ہے۔ امریکہ ہمیشہ اسرائیل کا پشت پناہ رہا ہے اور اس نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ویٹو کیا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کو دو ریاستوں کے فارمولے پر متفق کرنا بھی امریکی کاوش کا نتیجہ تھا۔ اوسلو امن معاہدے میں پہلی بار فلسطین اتھارٹی کو تسلیم کیا گیا اور فلسطین انتظامیہ کو گورننس کا حق دیا گیا۔ اس معاہدے کے لیے امریکہ نے خصوصی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے آج امریکی صدارت کے منصب پر بیٹھے ہوئے شخص نے تین متنازعہ ایشوز میں سے ایک یروشلم کے اسٹیٹس کے حوالے سے یکطرفہ اقدام اُٹھا کر نہ صرف اپنی ثالثی کی حیثیت ختم کر دی بلکہ تہذیبوں کے درمیان تصادم کو مزید ہوا دے دی ہے۔ امریکہ میں ری پبلکن اقتدار میں آتے ہیں تو وہ دنیا کو کسی نئی جنگ میں جھونک دیتے ہیں۔ امریکی صدر بش اول نے عراق جنگ چھیڑ کر مشرق وسطیٰ کو میدانِ جنگ بنا دیا۔ بش دوم نے افغانستان پر لشکر کشی کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر تمام دنیا کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا ایندھن بنا دیا۔ خدا خدا کرکے مسلمان ممالک اس نام نہاد جنگ کے اثرات سے باہر نکلنا شروع ہوئے تھے کہ صدر ٹرمپ نے ایک اور جنگ کا بِگل بجا دیا ہے۔ ساری دنیا حیران ہے کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ امریکہ کے اتحادی ممالک نے بھی اس فیصلے پر اپنی حیرت کا اظہار کیا ہے اور یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کی مذمت کی ہے۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ کوئی وقت تھا مسلمان ممالک دھمکی دیا کرتے تھے کہ جس ملک نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا تو ہم اس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیں گے۔ کیا یہ وقت اب نہیں آ گیا؟ امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے اعلانات اب تک کیوں سامنے نہیں آئے ہیں؟ امریکی انتظامیہ کو اگر ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کا ذرہ برابر بھی خیال نہیں ہے تو مسلمان ممالک کے سربراہان کو یکجان ہو کر امریکی غلط فہمی کو دور کرنا ہوگا کہ وہ جو چاہیں وہ کر سکتے ہیں۔ امریکہ پر پہلے ہی دباؤ موجود ہے چنانچہ مسلمان ممالک کی مشترکہ حکمت عملی سے اُٹھایا گیا کوئی ’’عملی قدم‘‘ امریکہ کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹا دے گا۔ محض قراردادوں سے کچھ بننے والا نہیں ہے۔ امریکہ نے ہمارا قبلۂ اول ہمارے دشمنوں کے حوالے کرنے کی مذموم کوشش کی ہے ، اگر اس کے جواب میں بھی ہم کوئی عملی قدم نہ اُٹھا سکے تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔

متعلقہ خبریں