Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

کہتے ہیں کہ مروان جعدی بنو امیہ کا آخری خلیفہ تھا جب کوفہ میں سفاح کا ظہور ہوا اور اس کے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت خلافت کی۔ بیعت سے فراغت کے بعد ایک لشکر جرار تیار کرکے سفاح نے مروان سے مقابلہ کے لئے روانہ کردیا۔ مروان کو شکستہوئی وہ بھاگتا ہوا مصر پہنچا اور ابو صیر( جویا خوم کے قریب ایک گائوں ہے) میں داخل ہوا‘ مروان نے دریافت کیا کہ اس بستی کا کیا نام ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اس کا نام ابو صیر ہے۔ مروان نے کہا ’’ پھر تو خدا ہی کی طرف ’دمصیر‘‘ یعنی لوٹنا ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ ایک گرجا گھر میں روپوش ہوگیا۔ وہاں اسے معلوم ہوا کہ اس کے کسی خادم نے دشمن سے اس کی مخبری کردی ہے۔ اس نے حکم دیا اور اس خادم کا سر قلم کردیاگیا اور زبان کھینچ کر زمین پر ڈال دی گئی۔ ایک بلی آئی او زبان چٹ کر گئی۔

کچھ ہی عرصہ کے بعد عامر بن اسماعیل نے اس گرجا کا محاصرہ کرلیا۔ مروان ننگی تلوار ہاتھ میں لئے ہوئے دروازے سے باہر نکلا۔ چاروں طرف فوجوں کا گھیرا تھا، طبل جنگ بج رہے تھے۔ مروان کی زبان پر حجاج بن حکیم السلمی کا یہ شعر جاری تھا۔

ترجمہ: وہ ہاتھوں میں ہندوستانی تلواریں لئے ہوئے ہیں، جن کی خوبی یہ ہے کہ جس پر ان کا وار ہوتا ہے وہ ایسا ہوجاتا ہے گویا پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔

پھر مروان بڑی جوانمردی سے لڑا، یہاں تک کہ مقتول ہوا۔ عامر بن اسماعیل نے حکم دیا کہ اس کی گردن کاٹ کر میرے سامنے لائی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور پھر مروان کی زبان کھینچ کر نکال لی گئی اور زمین پر ڈال دی گئی۔ خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ وہی بلی پھر آئی اور مروان کی زبان بھی کھا گئی۔ یہ دیکھ کر عامر بولا کہ عجائبات دنیا میں سے یہ واقعہ عبرت کیلئے کافی ہے کہ خلیفہ مروان کی زبان بلی کے منہ میں ہے۔ مروان کے قتل کے بعد عامر بن اسماعیل اس کلیسہ میں داخل ہوا اور مروان کے فرش پر بیٹھ گیا۔ جس وقت کہ کلیسہ پر حملہ ہوا تھا، مروان بیٹھا ہوا رات کا کھانا کھا رہا تھا، جب اس نے محاصرین کا شورو غل سنا تو جلدی سے دسترخوان سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ، وہ بچا ہوا کھانا عامر نے کھایا ۔ پھر عامر نے مروان کی سب سے بڑی لڑکی کو طلب کیا ۔

چنانچہ وہ لڑکی آئی اور عامر سے اس طرح ہم کلام ہوئی ۔ ’’اے عامر گردش زمانہ نے مروان کو اس کے فرش سے اتار کر تجھ کو اس پر بٹھادیا ، حتیٰ کہ تو نے اس کا کھانا تک کھالیا اور اس کے چراغ سے تونے روشنی بھی حاصل کر لی اور اس کی لڑکی کو اپنا ہم کلام بنایا ، لہٰذا تجھ کو نصیحت کرنے اور خواب غفلت سے بیدار کرنے کیلئے یہی چیزیں بہت ہیں ‘‘۔

عامر لڑکی کی اس گفتگو سے متاثر ہوا اور اس پر شرمندہ ہو کر اس لڑکی کو واپس کردیا ۔ مروان کا قتل 133ھ میں ہوا ۔ مروان کے قتل پر ہی بنوامیہ کا ٹمٹماتا ہوا چراغ ہمیشہ کیلئے گل ہو گیا ۔

(حیاۃ الحیوان ، جلد دوم)

متعلقہ خبریں