Daily Mashriq


نجی سکولوں کی فیسوں میں کمی' طلبہ اور والدین کیلئے بڑی خوشخبری

نجی سکولوں کی فیسوں میں کمی' طلبہ اور والدین کیلئے بڑی خوشخبری

عدالت عظمیٰ کی جانب سے ملک بھر کے 5ہزار روپے سے زائد فیس لینے والے نجی سکولوں کو فیس میں 20فیصد کمی کرنے کا حکم والدین اور طلبہ کیلئے آسودگی کا باعث ضرور ہوگا لیکن دیکھا جائے تو یہ ریلیف بیس نہیں بلکہ پندرہ فیصد ہے اس لئے کہ نئے سیشن کیساتھ ہی مالکان پانچ فیصد فیس بڑھا کر اس کمی کو پندرہ فیصد تک لے آئیں گے۔ بہرحال عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے ملک بھر کے لاکھوں والدین اور طلبہ مستفید ہوں گے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ نجی سکول2ماہ کی چھٹیوں کی فیس کا50فیصد والدین کو واپس کریں یا پھر انہیں مستقبل میں لی جانے والی فیسوں میں ایڈجسٹ کریں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نجی سکولوں میں فیسوں سے متعلق ازخود نوٹس پر فیصلہ سناتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو حکم دیا ہے کہ وہ بڑے نجی سکولوں کے اکاؤنٹس کا گزشتہ سات سالوں کا فرنزک آڈٹ کریں۔ سپریم کورٹ نے21نجی سکولوں کے اکاؤنٹس اور لیجر قبضے میں لینے کا بھی حکم دیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ بڑے سکولوں کے ڈائریکٹرز 80لاکھ سے زیادہ تنخواہیں لے رہے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نجی سکول مالکان کیلئے سکول سونے کی کان ہیں یا یورینیم کی۔ یاد رہے کہ آٹھ ستمبر2015 کو پاکستان کے بڑے شہروں میں نجی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین نے فیسوں میں بلاجواز اضافے اور دوسرے اخراجات کی مد میں بے جا وصولیوں کیخلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ والدین کے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے وزیر مملکت برائے تعلیم بلیغ الرحمان کو والدین اور سکولوں کے مالکان اور انتظامیہ سے مذاکرات کی ذمہ داری سونپی تھی۔ ان مذاکرات کے بعد یہ حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے نتیجے میں نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافہ واپس لینے کو کہا گیا تھا۔ اس وقت اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے احتجاج کے دوران مظاہرین کی نمائندہ ایک خاتون نے بجاطور پر صورتحال کی نشاندہی کی تھی کہ پرائیویٹ سکولوں نے والدین کو اے ٹی ایم مشین سمجھ رکھا ہے، جب چاہا جتنا چاہا بل لگا کر بھجوا دیتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کی ماہانہ فیس ادا کرتے ہیں، پھر اس کے بعد ہر سال سالانہ فیس ہم سے علیحدہ وصول کی جاتی ہے، اس کے بعد گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس علیحدہ ہے۔ ہر سال کے شروع میں ہزاروں روپے سیکنڈ ہینڈ یا اس سے بھی پرانی کتابوں کے کرائے کی مد میں وصول کئے جاتے ہیں جنہیں سال کے آخر میں واپس لے لیا جاتا ہے۔ نجی سکولوں کا ریکارڈ قبضہ میں لیا جائے اور تفصیلی آڈٹ کیا جائے تو ہوشربا انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ وطن عزیز میں تعلیم کو تجارت بنانا سب سے منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ بااثر سکول مالکان کی لوٹ مار کے حوالے سے کبھی بھی موثر قانون سازی کی سعی نہیں کی گئی اور تھوڑی بہت جو قانون سازی کی بھی گئی اس کا غیر مؤثر ہونا اور نجی سکولز اتھارٹی کو عضو معطل بنا کر رکھ دینا کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک نجی سکولز بارے موثر قانون سازی نہیں ہوگی اور موجودہ قوانین کو سخت بنا کر ان کے موثر نفاذ کی سنجیدہ سعی نہیں ہوگی اس وقت تک طلبہ اور ان کے والدین کو مختلف حیلوں بہانوں اور نت نئے طریقے اختیار کرکے مالی طور پر ہراساں کرنے کا سلسلہ بند نہیں ہوگا۔ عدالت عظمیٰ نے اس وقت جو ریلیف دیا یہ ان والدین کی جدوجہد کا ثمر ہے جنہوں نے اس ضمن میں باقاعدہ احتجاج کرکے حکومت وقت اور عدالت کو متوجہ کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف فیسوں کی وصولی اور حیلے بہانوں سے والدین سے اضافی رقوم کی وصولی ہی مسئلہ نہیں بہت بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ تیس پینتیس ہزار ماہوار فیس وصول کرنے والے سکولوں میں تعلیم کا وہ معیار نہیں جو کسی بہت مہنگے سکول میں ہونا چاہئے۔ اوسط درجے کے سکولوں کے طالب علموں اور مہنگے سکولوں کے طالب علموں میں تعلیمی قابلیت اور معیار کا فرق زیادہ نہیں۔ مہنگے سکولوں کے طالب علموں کے والدین کو بچوں کو مہنگے داموں ٹیوشن پڑھانے کا اضافی مالی بوجھ بھی اُٹھانا پڑتا ہے۔ ہماری تجویز ہوگی کہ سکولوں کی درجہ بندی اور سکولوں میں دی جانے والی تعلیم کے معیار کی جانچ کیلئے بھی قوانین ہونے چاہئیں تاکہ طلبہ اور والدین کے حقوق کا تحفظ ہوسکے۔ ان سکولوں میں لیبارٹری' ٹیچنگ' فیکلٹی امتحان کے نتائج کے معیار کو بھی ایک باقاعدہ کمیٹی جس میں عدالت، محکمہ تعلیم، نجی سکولز ریگولیٹری اتھارٹی، والدین اور اساتذہ کے نمائندے شامل ہوں کے ذریعے جانچا جائے اور تمام فریقوں کی جانب سے پیش کردہ معروضات اور شکایات کا ازالہ ہونا چاہئے تاکہ کسی بھی فریق کو شکایت کا موقع نہ ملے اور معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بن جائے۔ عدالت نے طلبہ اور والدین کو جو ریلیف دیا ہے اس پر فوری طور پر عملدرآمد ہونا چاہئے تاکہ جلد سے جلد طلبہ اور والدین کو ریلیف مل سکے۔

متعلقہ خبریں