Daily Mashriq


شہباز شریف کی تقرری پر حکومتی رضامندی

شہباز شریف کی تقرری پر حکومتی رضامندی

وفاقی حکومت کا چار ماہ کے عرصے تک قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے کی سخت مخالفت کے بعد بالاآخر پارلیمانی روایات کے مطابق تقرری پر اتفاق کے بعد قائم کمیٹیوں کے قیام کی راہ بھی ہموار ہوگی جو قانون کے مطابق حکومت کے ابتدائی ایک ماہ کے دوران مکمل کرنا ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے قائد حزب اختلاف کو پی اے سی کا سربراہ نہ بنانے کی صورت میں کسی بھی کمیٹی کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا تھا۔ تحریک انصاف کی قیادت کے ایک حصے کو یہ اعتراض تھا کہ قائد حزب اختلاف اپنی ہی جماعت کے حسابات پر اعتراضات کا جائزہ لینے کیلئے موزوں نہیں۔ اس اعتراض سے قطع نظر معاملات کا تعلق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ سے ہوتا ہے اور آڈیٹر جنرل اس کمیٹی کا اہم ترین رکن ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں کمیٹی میں حکومتی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین بھی ہوتے ہیں جن کی موجودگی میں چیئرمین پی اے سی کیلئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ جانبداری سے کام لے سکے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ اگر سابق حکومت کے آڈٹ پیرا کی باری آئے گی تو وہ اس اجلاس کی صدارت نہیں کریں گے لیکن بہرحال پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے اختیارات کافی وسیع ہوتے ہیں۔ حکومت کو شاید اس امر کا خدشہ ہے کہ شہباز شریف ان اختیارات کیساتھ بعض معاملات پر اثرانداز ہوسکتے ہیں ۔ پی اے سی کی بنیادی ذمہ داری وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں جس جس وزارت اور محکمے کو جو پیسے ملتے ہیں اس کی آڈٹ رپورٹ میں اُٹھائے گئے اعتراضات کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی مختلف سرکاری محکموں کو دی جانے والی سالانہ گرانٹس اور فنڈز سے متعلق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کو زیربحث لاتی ہے اور جس ادارے کے سربراہ کو اس ضمن میں طلب کیا جائے تو اسے اس گرانٹ سے متعلق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو مطمئن کرنا ضروری ہے۔ مطمئن نہ ہونے کی صورت میں کمیٹی اس معاملے میں ایف آئی اے یا کسی بھی تفتیشی ادارے کو تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی ادارے کے سربراہ کو طلب کر سکتا ہے۔ سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین خورشید شاہ متعدد بار نیب کے چیئرمین کو بھی طلب کر چکے ہیں۔ بہرحال ہر عہدے کے کچھ تقاضے اور اختیارات ہوتے ہیں جن کا قانون کے دائرے میں لاکر استعمال کرنا اس عہدیدار کا حق ہوتا ہے۔ شہباز شریف کے چیئرمین پی اے سی بننے کے بعد قومی اسمبلی میں قائم کمیٹیوں کی تشکیل کی آئینی ضرورت تو پوری ہونے کی ضرور توقع ہے لیکن اس سے تحریک انصاف اور حزب اختلاف کے درمیان اس بات کا خاتمہ جس کے نتیجے میں قانون سازی ممکن ہو سکے ایسا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ اس مرحلے کیلئے مختلف فریقوں کے درمیان روابط اور معاملت کی ضرورت ہوگی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے بعد حکومت کو اس ضمن میں پیشرفت کرنی ہوگی جس کے بعد ہی معمول کی حکومت اور معمول کی حزب اختلاف کے کردار کا آغاز ممکن ہوگا اور معاملات آگے بڑھ سکیں گے۔

قبائلی اضلاع میں خلاء جلد پُر کیا جائے

قبائلی علاقہ جات میں ہائی کورٹ کے احکامات پر انتظامی افسران سے عدالتی اختیارات واپس لینے اور فوری متبادل یا مستقل قانون موجود نہ ہونے سے خلاء پیدا ہونا فطری امر تھا۔ ہمارے نمائندے کے مطابق قبائلی علاقوں میں اس طرح کی صورتحال کے باعث قتل، اراضی، لین دین ودیگر سینکڑوں زیرسماعت مقدمات کے فیصلے نہ ہونے سے تنازعات بڑھنے لگے ہیں۔ سائلین انتظامیہ کے پاس آکر درخواستیں جمع کرتے ہیں تاہم انتظامیہ افسران موثر قانون موجود نہ ہونے کے باعث سماعت نہیں کر سکتے۔ عدالتی اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے مقدمات کے فیصلے نہیں کئے جا سکتے اور اعلیٰ عدلیہ کے احکامات آنے کے بعد ہی مقدمات نمٹائے جا سکیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فاٹا انضمام کے بعد قبائلی علاقوں میں تعینات افسران سے فرسودہ نظام کے تحت اختیارات واپس لینا ہی وہ پہلا مثبت تاثر تھا جس سے قبائلی عوام کو تبدیلی کا احساس دلایا جاسکتا تھا مگر متبادل انتظامات اور قانون لاگو کرنے میں تاخیر کی بھی گنجائش نہیں تھی۔ قبائلی علاقہ جات میں اس عبوری انتظام اور عبوری دور میں مشکلات کا پیش آنا فطری امر ہے جسے دور کرنے کیلئے جلد سے جلد قبائلی اضلاع میں مکمل طور پر بندوبستی قوانین کے عملی نفاذ کیلئے وہ بنیادی اساس مہیا کیا جائے جس پر یہ ڈھانچہ کھڑا ہوسکے۔ قبائلی علاقہ جات میں جتنا جلد ممکن ہوسکے صوبائی اسمبلی کے حلقے تشکیل دیکر انتخابات کرائے جائیں تاکہ قبائلی منتخب نمائندے عوام کو درپیش مسائل ومعاملات کو اُجاگر کرنے اور ان کے حل کے عمل کا بہتر آغاز کرسکے۔

متعلقہ خبریں