Daily Mashriq

آیا ہے جو دنیا میں تو کچھ کام کئے جا

آیا ہے جو دنیا میں تو کچھ کام کئے جا

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج وہ کل ہماری باری ہے

موت تو اٹل حقیقت ہے کوئی کیسے انکار کرسکتا ہے۔ بالآخر ایک نہ ایک دن اس جہان رنگ وبو کی عارضی قیام کو چھوڑ کر ابدی دنیا سدھارنا ہوتا ہے۔ سو ہمدم دیرینہ خواجہ محمد وسیم بھی گزشتہ روز ابدی نیند جا سوئے، رب مغفرت فرمائے۔ ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے۔ ساری زندگی جدوجہد میں گزری' میرے کالج کے دنوں کے ساتھی اور کلاس فیلو تھے۔ نہایت فعال' پشاور کے ایک بہت ہی قابل عزت گھرانے سے تعلق تھا۔ ان کے چھوٹے بھائی خواجہ محمد عارف جو آج کل امریکہ میں قیام پذیر ہیں ہمارے کالج کے دنوں میں سٹیج ڈراموں میں ہمارے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ خواجہ صاحب کے نانا حکیم عبدالجلیل تحریک آزادی کے نامور سپاہی' باچا خان کے دیرینہ ساتھی رہے۔ ان کے ماموں حاجی محمد عدیل اے این پی کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ صوبائی وزیر' صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اور سینیٹر رہے۔ گویا ان کے خاندان کا سیاست سے گہرا تعلق رہا جبکہ خواجہ محمد وسیم کے چھوٹے بھائی خواجہ یاور نصیر کا پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی سطح پر اہم رہنماؤں میں شمار ہوتا ہے اور خواجہ عارف امریکہ میں پیپلز پارٹی کی سیاسی شمع کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم

تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے

خواجہ وسیم ایک عرصے تک واپڈا یونین کی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے تھے' بطور یونین جنرل سیکرٹری انہوں نے ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا اور ملازمین کے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے کامیابی کے جھنڈے گاڑے' ساتھ ہی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد بیرون ملک چلے گئے۔ کئی برس تک باہر رہ کر ملک کا نام روشن کیا۔ دل اکتا گیا تو واپس آئے اور فرنٹیئر گروپ آف ماڈل سکولز کی بنیاد رکھی جہاں طلبہ اور طالبات کیلئے علیحدہ علیحدہ سکولوں میں معیاری تعلیم کا اہتمام کیا اور تھوڑی مدت ہی میں اپنے تعلیمی ادارے کو صوبے کی اہم درسگاہوں میں شامل کرانے میں کامیاب ہوئے جہاں لوگ اپنے بچوں کو حصول علم کیلئے داخل کرانے میں فخر سمجھتے ہیں کیونکہ دونوں بھائی یعنی خواجہ وسیم اور خواجہ یاور نصیر تعلیم کے معیار پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ فیکلٹی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار اساتذہ کا انتخاب کرنے کی وجہ سے ان کی درسگاہیں معیاری طور پر کسی بھی دوسرے ادارے سے پیچھے نہیں ہیں۔

خواجہ محمد وسیم اور خواجہ یاور نصیر ادبی' ثقافتی سرگرمیوں کی ترویج میں ہمیشہ سے ہمارے شانہ بشانہ رہتے آئے ہیں۔ اباسین آرٹس کونسل پشاور کی ثقافتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر نہ صرف حصہ لیتے رہے ہیں بلکہ کونسل کی مجلس عاملہ کے اہم ممبران کے طور پر ہمیشہ پہلی صف میں رہتے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ہمیشہ دامے' درمے اور سخنے والے مقولے کو سچ ثابت کیا اور وہ یوں کہ اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک خواجہ محمد وسیم اباسین آرٹس کونسل کیساتھ جڑے رہے اور بطور سینئر نائب صدر خدمات انجام دیتے رہے۔ ابھی چار پانچ روز پہلے ہی میری ان سے فون پر بات ہوئی اور میں نے ان سے گزارش کی کہ وہ اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں اگر میری جگہ کونسل کی نماندگی کر سکیں کیونکہ میری کچھ مصروفیات آڑے آرہی تھیں' تاہم ان کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے انہوں نے معذرت کی اور پھر خود مجھے ہی جانا پڑا اور ابھی میں میٹنگ میں شرکت کرکے واپس آرہا تھا کہ میرے چھوٹے بھائی رشید سہیل نے خواجہ صاحب کے انتقال کی اطلاع دی جس کے بعد میں نے فیس بک پر ان کے حوالے سے یہ افسوسناک اطلاع اپ لوڈ کر دی تھی اور اللہ کا شکر ادا کیا تھا کہ وہ اجلاس میں نہیں گئے۔

خواجہ وسیم اباسین آرٹس کونسل کیساتھ اتنی محبت کرتے تھے کہ چند برس پہلے جب کونسل کی سالانہ گرانٹ بند کردی گئی تھی اور کونسل کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا نہایت مشکل ہو رہا تھا تو اس وقت دوسرے کچھ کرم فرماؤں کیساتھ ساتھ یہ خواجہ محمد وسیم تھے جو کونسل کو زندہ اور فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے مختلف تقاریب کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے رہے اور یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا اور جب ایم ایم اے کے دور حکومت میں کونسل کی گرانٹ بحال کی گئی تب یہ سلسلہ کونسل کی مجلس عاملہ نے ان سے رکوایا۔ اگرچہ وہ پھر بھی گاہے بہ گاہے کونسل کی مالی امداد کرتے رہے۔ اب ایک بار پھر کونسل کی گرانٹ گزشتہ دو سال سے بلا کسی جواز کے بند کی جاچکی ہے اور موجودہ وزیراعلیٰ جناب محمود خان نے گزشتہ سال اگرچہ بطور وزیر ثقافت سالانہ گرانٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے دوگنا کر دیا ہے مگر ادائیگی میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر تاخیری حربے استعمال کئے جا رہے ہیں جبکہ اس وقت کونسل کے اخراجات یہاں تک کہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی ممکن نہیں رہی۔ تاہم محدود پیمانے پر ادبی' ثقافتی سرگرمیاں بعض مہربان اشخاص کی وجہ سے ممکن حد تک جاری رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں خواجہ محمد وسیم جیسے مہربان ہمیشہ یاد آتے رہیں گے جو خاموشی سے اپنے مہربان ہاتھوں سے کونسل کی دادرسی کرنے میں پیش پیش رہتے آئے ہیں۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد شخص تھا۔

باراں کی طرح لطف وکرم عام کئے جا

آیا ہے جو دنیا میں تو کچھ کام کئے جا

متعلقہ خبریں