Daily Mashriq


پاکستان میں مذہبی آزادی کا مختصر جائزہ

پاکستان میں مذہبی آزادی کا مختصر جائزہ

گزشتہ روز پاکستان کے حوالے سے یہ عجیب خبر سنی تو بڑی حیرانگی ہوئی کہ وطن عزیز میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی نہ ہونے کے سبب واچ لسٹ سے ہٹا کر بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا۔ خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے۔ سپرپاورز کے پاس چونکہ دنیا بھر کی معاشی وفنی ٹیکنالوجی کی سرگرمیوں کی باگیں ہوتی ہیں لہٰذا وہ جب چاہیں کوئی سا بہانہ بناکر پاکستان جیسے ملک کا ہاتھ اور کان مروڑ لے کیونکہ آج وہ ممالک جو زندگی کی بنیادی ضروریات اور برآمدات میں خودکفالت کے حامل نہ ہوں ہمیشہ دوسروں کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ آج معاشی لحاظ سے کمزور ومجبور ممالک کی نہ حقیقی معنوں میں کوئی خودمختاری ہوتی ہے اور نہ ریاستی معاملات چلانے میں آزادی، یہاں تک کہ مذہبی معاملات میں سپرپاورز کسی وقت کوئی سبب تلاش کرکے دخل درمعقولات کرسکتے ہیں اور پچھلے دنوں پاکستان کیساتھ یہی ہوا۔ دراصل اس قسم کی فہرستوں میں آنے سے متعلق لوگوں کی معاشی سرگرمیوں پر قدغنیں لگنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں لیکن اچھا ہوا' شاید پاکستان کی موجودہ حکومت نے بروقت اور برجستہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروا کر بہرحال استثنیٰ حاصل کر لیا' لیکن مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم' صدر' وزارت خارجہ اور بیرونی ممالک میں پاکستان کے سفارت کار ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر دنیا اور بالخصوص سپرپاور کو پاکستان میں مذہبی آزادی کے حوالے سے عوام اور اقلیتوں کو حاصل حقوق' اعداد وشمار اور ٹھوس شواہد ودلائل کیساتھ پیش کرنے کیلئے ضروری اقدامات کریں۔پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت اور اسلام سرکاری مذہب ہونے کے باوجود اقلیتوں کو نہ صرف بنیادی شہری حقوق حاصل ہیں بلکہ مذہبی آزادی سے بھی بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔اسلام کا آفاقی اصول ہے کہ ''دین میں جبر نہیں'' یعنی نہ کسی کو بزور وقوت اپنے مذہب سے ہٹانے کی اجازت ہے اور نہ ہی کسی مذہب میں داخل کرنے کی۔ البتہ کوئی خوش دلی سے اسلام کے حلقہ بگوش ہونا چاہتا ہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں لیکن کوئی مسلمان گھرانے کا فرد یا غیرمسلم ایک دفعہ مسلمان ہو جائے تو اسے دوبارہ علی الاعلان اسلام چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب میں داخل ہونے کی اجازت نہیں لیکن یہ تو سرے سے ایک الگ دینی وفقہی مسئلہ ہے اور قرآن وسنت واسلامی فقہہ میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔جہاں تک اقلیتوں کا اپنے مذہبی عقائد وعبادات ومعاملات میں آزادی کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں تو بابائے قوم کی 11اگست1947ء کی تقریر ہی کافی ہے جس میں ہر پاکستانی کو اپنے مذہب وعقیدے کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں جانے اور عبادت کرنے کی پوری پوری آزادی حاصل ہے۔ قیام پاکستان سے لیکر آج تک جہالت پر مبنی اکا دکا واقعات کے علاوہ مذہب کی بنیاد پر اقلیتوں کیساتھ امتیازی سلوک یا فساد وغیرہ کا ریکارڈ موجود نہیں۔ انفرادی سطح پر کسی نے تعصب' جہالت یا کسی مادی فوائدکے پیش نظر کسی اقلیتی فرقہ یا گروہ کو نقصان پہنچایا ہے تو ریاست اور عوام نے اس کی سخت مذمت کی ہے اور ریاست نے نقصانات کی تلافی کی کوشش کی ہے۔دہشتگردی کیخلاف جنگ کے دوران گزشتہ عشروں میں تو زیادہ حملے مدارس اور مساجد پر ہوئے تھے۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں بعض اقلیتی شخصیات کا قتل اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں میں پاکستان کیخلاف ففتھ جنریشن پراکسی وار برپا کرنے والے بھی شامل ہوتے رہے ہیں تاکہ پاکستان کو بدنام کراکر اس قسم کی فہرستوں میں شامل کروایا جاسکے۔حکومت پاکستان کو چاہئے کہ اس تناظر میں محققین سے تقابلی جائزہ کروا کر دنیا کو دکھا دے کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا ریکارڈ اس حوالے سے کتنا خراب ہے۔ پچھلے دنوں میانمار (برما) میں بدھ مت کے پیروں کاروں (جن کا مذہب کسی صورت تشدد کی تعلیم نہیں دیتا) نے مسلمانوں کیساتھ جو کچھ کیا اس کے زخم ابھی تازہ ہیں اور متاثرین بہت انسانیت سوز حالات میں بنگلہ دیش میں مہاجر کیمپس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ تیس برسوں سے جو انسانیت سوز مظالم جاری رکھے ہوئے ہے اس کے باوجود بھارت کا اس فہرست سے باہر رہنا ضرور اس کو مشکوک اور مبنی بر تعصب ثابت کرتا ہے۔

پاکستان میں مسیحی' ہندو اور سکھ کمیونٹی کے نمائندوں اور بالخصوص منتخب اراکین کو چاہئے کہ امریکا اور یورپ کے ذمہ دار افراد اور تنظیموں کے ذریعے پاکستان میں ان کو میسر حقوق کے حوالے سے مکالمہ کے مواقع پیدا کریں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس قسم کی رپورٹوں کی تردید کریں۔ میرے خیال میں پاکستان کو اس فہرست میں قادیانیوں کیساتھ امتیازی سلوک کی بناء پر شامل کیا گیا ہے کیونکہ قادیانی نہ صرف امریکہ اور یورپ میں اچھے عہدوں پر فائز ہیں بلکہ معاشی لحاظ سے خوشحال بھی ہیں، مغرب بالخصوص اسرائیل ان کو سپورٹ بھی کرتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ ادارے ان کے بارے میں دنیا کے بااثر ملکوں کو پاکستانی پارلیمنٹ کا تاریخی فیصلہ بتانے کے علاوہ یہ بھی بتائے کہ پاکستان کی اقلیتی شہری کی حیثیت سے ان کیساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ ہے اور نہ ہوگا۔ البتہ مسئلہ یہ ہے کہ یہ حضرات اپنے آپ کو اقلیت مانتے نہیں بلکہ اپنے آپ کو پکے اور سچے مسلمان اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھنے کو ''کچھ اور'' سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں الحمدللہ ہر شخص کو مذہبی آزادی ہے بلکہ بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سیاسی ومذہبی آزادیاں بھارت جیسے جمہوری ملک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے کیونکہ وہاں گائے کا گوشت خریدنے یا عیدالاضحی پر ذبح کرنے پر مسلمان ذبح ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کا روشن چہرہ دنیا کو دکھانے کیلئے روشن پاکستان مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں