Daily Mashriq

پی اے سی کی چیئرمین شپ اور چند حقائق

پی اے سی کی چیئرمین شپ اور چند حقائق

کسی بھی معاشرے کے قیام کیلئے بنیادی ضرورت احتساب کے جامع نظام کا موجود ہونا ہوتا ہے، دنیا بھر میں سرکاری خدمات کی بہترین ادائیگی اور پبلک اکاؤنٹس کی شفافیت جانچنے کیلئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا نظام مؤثر سمجھا جاتا ہے، قومی اسمبلی کے رولز کے قاعدہ 202 سے 205 اور ان کی ذیلی شقیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی تشکیل اور اس کے کام کا تعین کرتی ہیں۔1973ء کے آئین اور قومی اسمبلی قواعد کے تحت پبلک اکاؤنٹس پہلے قومی اسمبلی کے 23 ارکان پر مشتمل ہوتی تھی گزشتہ دور حکومت میں قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے سینیٹ کو بھی پی اے سی میں نمائندگی دے دی گئی اور چھ سینیٹرز پی اے سی کا حصہ بنے جبکہ سیکرٹری قومی اسمبلی کی سربراہی میں ایک ایڈیشنل سیکرٹری، ایک جوائنٹ سیکرٹری اور دو ڈپٹی سیکرٹریز سمیت دس افسران پر مشتمل پی اے سی سیکرٹریٹ چیئرمین پی اے سی کے ماتحت کام کرتے ہیں۔آئین کے آرٹیکل171 کے تحت آڈیٹر جنرل آف پاکستان تمام وزارتوں، ڈویژنوں، کارپوریشنوں، آزاد اور نیم خود مختار اداروں کے سالانہ حسابات کی آڈٹ رپورٹ صدر کو پیش کرتا ہے جو قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد جائزے کیلئے پی اے سی کو بھیج دیتی ہے۔ پی اے سی اخراجات، انتظامی معاملات، مجوزہ قانون سازی، ادارہ جاتی پالیسیوں کا جائزہ لیتی ہے۔ہر وزارت کا پرنسپل اکاؤنٹ آفیسر یعنی سیکرٹری پی اے سی کے سامنے پیش ہوکر جواب دیتا ہے، پی اے سی حکومت وقت کے معاشی فیصلوں اور سکینڈلز پر از خود نوٹس بھی لینے کا اختیار رکھتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ مشرف آمریت کے خلاف سیاسی جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد میثاق جمہوریت کی صورت بار آور ہوئی تو دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مابین یہ بھی طے پایا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کے پاس ہوگی ،سو 2008ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی تو اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن تھی اس لئے پی اے سی کی چیئرمین شپ مسلم ن کو دی گئی، یوں اس وقت کے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان پی اے سی کے چیئر مین بن گئے ،2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کو کامیابی حاصل ہوئی جس کے نتیجے میں اس نے حکومت بنائی اور اپوزیشن پیپلز پارٹی کے پاس تھی تو معاہدے کے مطابق سید خورشید شاہ پی اے سی کے چیئرمین بھی تھے ۔لیکن 2018ء کے انتخابات میں جب پاکستان تحریک انصاف کو کامیابی حاصل ہوئی تو اس نے اپوزیشن کو پی اے سی کی چیئر مین شپ دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیاکہ سابقہ حکومت اب چونکہ اپوزیشن میں ہے تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن اپنے ہی سابقہ دور حکومت کا آڈٹ بھی خود ہی کرے، حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر اپوزیشن کو پی اے سی کی چیئرمین شپ دے دی جاتی ہے تو شفافیت برقرار نہیں رہ پائے گی ۔وزیر اعظم عمران خان کو جب یہ بتایا گیا کہ اپوزیشن کو پی اے سی کی چیئرمین شپ دینا کوئی آئینی مجبوری نہیں بلکہ یہ تو محض میثاق جمہوریت کے تحت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی باہمی اشتراک سے کر رہی تھیں تو انہوں نے ابتدائی طور پر یہ مؤقف اپنایا کہ جب کوئی آئینی مجبوری نہیں ہے تو حکومت پی اے سی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کو کسی صورت نہ دے گی ۔ جس کے باعث اپوزیشن نے دیگر قائمہ کمیٹیوں کیلئے بھی کوئی نامزدگی نہیں کی اور پارلیمانی کمیٹیوں کا نظام حکومت سنبھالنے کے تین ماہ تک غیر فعال رہا۔اس گتھی کو سلجھانے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کی جماعتوں کے متعدد مذاکرات ہوئے ،حکومت کی جانب سے یہ تاثربھی دیا گیا کہ اگر اپوزیشن نے حکومت کے ساتھ تعاون نہ کیا تو اپوزیشن کے اشتراک کے بغیر ہی کمیٹیاں بنا دی جائیں گی۔لیکن گزشتہ روز حکومت نے دانشمندی کامظاہرہ کیا اور اپوزیشن کا مؤقف چند شرائط کے ساتھ تسلیم کر لیا کہ مسلم لیگ ن کے گزشتہ دور حکومت کا آڈٹ حکومت کروائے گی۔جسے اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن نے بخوشی تسلیم کرلیاہے۔ہم سمجھتے ہیں پی اے سی کی چیئرمین شپ کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے مابین معاملات کا خوش اسلوبی کے ساتھ طے پاجانا احسن امر ہے کیونکہ جتنا عرصہ تک یہ ڈیڈ لاک برقرار رہتا دیگر قائمہ کمیٹیوں کی نامزدگیاں بھی مشکل سے دوچار ہوتیں ،اور ایک منتخب حکومت نان ایشوز میں الجھ کر رہ جاتی ،تحریک انصاف کی حکومت کو یہ بات سیکھنے کی ضرورت ہے کہ پارلیمنٹ میں کسی بھی بل کی منظوری کیلئے اسے اپوزیشن کے تعاون کی ضرورت پیش ہو گی ،پی اے سی کی چیئرمین شپ حکومت کے پاس رہنے سے اپوزیشن کے حکومت کے ساتھ عدم تعاون کے امکانات واضح تھے ،دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہاؤس کو چلانا اسی صورت ممکن ہے جب حکومت کو اپوزیشن کا تعاون حاصل ہو ،اپوزیشن کے تعاون کے بغیر سیاست تو کی جاسکتی ہے لیکن ہاؤس کو نہیں چلایا جا سکتا ہے ۔اس تناظرمیں دیکھا جائے تو وزیر اعظم اور تحریک انصاف کی قیادت نے ایسا قدم اٹھایا ہے جس سے بظاہر تحریک انصاف کی پسپائی ہوئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس پسپائی میں ملک وقوم کافائدہ ہے ،کیونکہ ملک اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے کہ منتخب عوامی نمائندے ایوان میں باہم دست وگریباںرہیں اور عوامی مسائل پر کوئی بات نہ کی جائے ۔تحریک انصاف کی حکومت نے پی اے سی کی چیئرمین شپ بارے جس لچک کا مظاہرہ کیا ہے دیگر جماعتوں کو بھی ایسی ہی لچک کا مظاہرہ کرناچاہئے ۔

متعلقہ خبریں