Daily Mashriq

بی جے پی کی شکست کا سبق

بی جے پی کی شکست کا سبق

مدھیہ پردیش، میزو رام، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور راجستھان کے انتخابی نتائج کے مطابق حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو تین بڑی ریاستوں میں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ ان پانچ ریاستوں میں ریاستی انتخابات کا عمل دو ماہ تک جاری رہا۔ بھارتی وزیراعظم سیاسی شطرنج کے اچھے کھلاڑی ہیں مگر گیارہ دسمبر کے ریاستی انتخابی نتائج نے ان کے سیاسی مستقبل کو بڑی حد تک واضح کر دیا ہے۔ ان نتائج سے پہلے بائیس بھارتی ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت تھی۔ جن میں سے تیرہ ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی بغیر کسی سیاسی گٹھ جوڑ کے حکومت کر رہی تھی جبکہ نو ریاستوں میں اسے مختلف اتحادیوں کا ساتھ حاصل ہے۔ کئی سالوں سے نیشنل ڈیموکریٹک الائینس (این اے ڈی) ایک بڑا انتخابی اتحادی گروہ بن چکا ہے جس میں بی جے پی، شِوسینا، شیورومانی اکالی دل، تیلگو دیشم پارٹی اور لوک جن شکتی پارٹی شامل ہیں۔ سیکولر سوچ رکھنے والے ووٹرز نے بی جے پی کی تنگ نظر سیاسی واقتداری سوچ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ پانچ ماہ بعد ہونے والے راجیہ سبھا کے انتخابات میں یہ اتحاد قائم رہتا ہے یا اس میں بھی دراڑ پڑ جائے گی۔ بی جے پی سرکار میں مذہبی تنا بڑھتا گیا جبکہ حکمران جماعت کی جانب سے انتہا پسند عناصر کی سرپرستی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ہر بار کی طرح اس انتخابی عمل میں بھی بی جے پی اور ان کے ہمنواؤں کا سارا زور مسلمانوں اور اقلیتوں کو دبانے پر رہا۔ گیروا رنگ کی سیاست کرنے والے عوام دوست پالیساں نہ لاسکے البتہ مقروض کسانوں کی خودکشیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ انڈین نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے 2015 کے اعداد وشمار کے مطابق 1995 سے 2010 تک 2 لاکھ 57 ہزار کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق صرف مہاراشٹرا صوبے میں گزشتہ6 ماہ کے دوران ہر دن اوسطاً7 کسانوں نے قرضہ معاف نہ ہونے کے باعث خودکشی کی۔

30نومبر کو ہزاروں کسانوں نے بھارتی دارالحکومت دہلی کا رخ کرتے ہوئے سال کا چوتھا بڑا احتجاجی اجتماع کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ بھارت کی نصف آبادی زراعت کے شعبے سے منسلک ہے لیکن ان پر جی ڈی پی کا صرف15 فیصد خرچ کیا جاتا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ کسانوں کے ووٹوں نے بھی بی جے پی کو نقصان پہچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہوگا۔ بی جے پی حکومت نے زراعت کے شعبے پر توجہ نہیں دی۔ کسان اور زراعت سے وابستہ دیگر لوگ چیختے رہ گئے کہ ان کو فصلوں کا مناسب معاوضہ نہیں دیا جا رہا لیکن مودی حکومت تو نوٹ بندی سے معاشی بہتری کا شور مچاتی رہی۔ ساتھ ہی بابری مسجد تنازع اور گاوکشی سے مسلمان ووٹروں کو خوفزدہ کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ رام مندر کی تعمیر کی اجازت دینے کیلئے عدلیہ پر مسلسل دباؤ بڑھایا جا رہا ہے جبکہ راشٹریہ ہندو پرشید (آر آر یس) بجرنگ دل اور بی جے پی کی مذہبی انتہا پسندی کو عوامی رائے کا نام دیتے ہوئے رام مندر کا بل پاس کرانے کی تجویز کا شور بھی مچایا گیا۔

حالیہ ریاستی انتخابات کے نتائج سے مودی اور ان کی جماعت کو سمجھ آگیا ہوگا کہ ان خبروں سے مسلمان ووٹر تو خوفزدہ ہوئے لیکن اس کیساتھ ساتھ سیکولر بھارتی چہرہ بھی داغدار ہوا، لہٰذا ریاستی انتخابات کے ذریعے بی جے پی کی اقلیت مخالف اور محدود ذہنیت اور نظرئیے کو بھارتی عوام نے بری طرح مسترد کر دیا ہے۔ اب تو حالات اس قدر سنگین ہیں کہ خود بھارتی سپریم کورٹ سیکولر بھارت اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے تشخص کو بچانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ مدھیہ پردیش کٹر ہندو سیاست کی حامی ریاست سمجھی جاتی ہے لیکن یہاں مسلم ووٹ بینک نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ مسلمان، بی جے پی کے38 سالہ سیاسی تاریخ میں کبھی بھی ووٹر ٹارگٹ نہیں رہے مگر حکمران جماعت کو ڈر تھا کہ کہیں کانگریس مسلم ووٹر کا فائدہ نہ اُٹھا لے لہٰذا مسلمانوں کو نفسیاتی مار مارنے کیلئے بی جے پی کے بڑے راہنماؤں نے مسلم ووٹر کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کی کوشش کی۔ بی جے پی کو مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلم امیدوار نہیں مل رہے تھے۔15 سال بعد بھارتی سیاست میں اپنی واپسی کرنے والی کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کو بڑے سیاسی فیصلے کرنا ہوں گے۔ یقیناً تازہ ریاستی نتائج سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہوگا لیکن ان کو سمجھنا ہوگا کہ عوام صاف پانی، غذا، تعلیم، مہنگائی اور بیروزگاری جیسے اہم مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ وہ فضائی آلودگی پر فوری توجہ چاہتے ہیں اور بھارتی عورت کو تحفظ ہی نہیں بلکہ مندر میں جانے کی اجازت بھی چاہئے۔ کانگریس اپنی اس کامیابی کو دوام بخشنا چاہتی ہے تو پھر نوجوان ووٹرز اور ان کی سیاسی سوچ پر بھی توجہ دینا ہوگی کیونکہ بھارت کی17 اعشاریہ69 فیصد آبادی15 سے24 سال کے درمیان ہے جبکہ41 فیصد آبادی25 سے54 سال کے درمیان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھارتی آبادی میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بھی بھارتی سیاست میں اپنا کردار ادا کر ے گی۔ بھارتی وزیراعظم مودی عوامی مسائل کیساتھ ساتھ کسانوں کی حالتِ زار سے آنکھیں چراتے رہے۔ گانگریس کو بھی سمجھنا ہوگا کہ سب کو ساتھ لیکر چلنے والا اور عوام دوست بھارت کا خواب بھارتی عوام کی آنکھوں میں سجا ہوا ہے۔ ان کے خواب کو نہ توڑیں ورنہ بی جے پی کا حشر سب کے سامنے ہے۔

(بشکریہ ڈان)

متعلقہ خبریں