Daily Mashriq


تبدیلی سے آس لگائے بے بس عوام

تبدیلی سے آس لگائے بے بس عوام

بلاشبہ ہم پاکستانی صلاحیتوں کے اعتبار سے کسی طور بھی دوسری اقوام سے کم نہیں۔ اس لئے ہمیں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے بارے میں ضرور سوچنا چاہئے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے بعد اگر کسی چیلنج کا سامنا ہے تو وہ ہے بدعنوانی و کرپشن جس سے ملک کو بڑا خطرہ ہے۔ چند لوگ ملک میں کرپشن کر کے اس کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر دینا چاہتے ہیں اور اس کے بل پر خود راتوں رات امیر بننے کا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں۔ وطن عزیز کرپشن اور بدعوانیوں کی دلدل میں گھرا ہو ا ہے۔صاحبان اختیار میں سے کتنے ہی ایسے ہیں جوکسی نہ کسی طور پر کرپشن زدہ ہیں۔ پاکستان کے میڈیا ، اخبارات و جرائدمیں شائع ہونے والی خبروں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان میں یہ لوگ کس حد تک لوٹ مار میں ملوث ہیں۔ہم کرپشن کی کن حدوں کو چھو چکے ہیں لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کئی ایماندار افسر ان اپنی ایمانداری کی وجہ سے پس منظر میں جا چکے ہیں۔ ایمانداری سے کام کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے لیکن اگر ہم دلجمعی سے کام کرتے رہیں تو یقینا کوئی کام بھی مشکل نہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو بھی ملکی کشتی کی پتوار سونپی گئی انہو ںنے پہلے اپنے مفاد کا کام کیا اور عوام کی خدمت پرتوجہ نہیںدی صرف اپنی تجوریاں بھریںلیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بااختیارصاحبان ہی کرپٹ ہوں تو ایک عام شہری سے ہم ایمانداری اور دیانتداری کی کیسے توقع کر سکتے ہیں۔کرپشن اور بدعنوانی نے ملک کو گھن کی طرح نقصان پہنچایا ہے۔پیسے کے لالچ اور ہوس نے لٹیروں کو امیر بنا دیااور ملک کو غربت کے دہانے پر لاکھڑا کردیا۔ عالیشان کوٹھیاں ، قیمتی گاڑیاں اور شاہ خرچیاں ، یہ سب کرپشن کے بغیرکس طرح ممکن ہو سکتی تھیں ۔ چہرے پہ نقاب چڑھا کر ایسے لوگ وطن عزیز میں دندناتے پھرتے ہیں۔ کرپشن کا مال تلاش کرنے کے لئے کسی آلے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ کالا دھندہ کرنے والوں کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی طرح قانون کی گرفت سے بچ کر نکل جاتے ہیں مگر غریب عوام غربت کی چکی میں پستے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غربت وطن عزیز میں کسی ناگ سے کم نہیں جو پھن پھیلائے غریبوں کو ڈسنے کے لئے کھڑی ہے۔ دراصل کسی بھی ملک میں مسائل کی بہتات ذمہ داروں کی غیر ذمہ داری کا ثبوت ہواکرتی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں خوشحال لوگ بھی قرضوں میں جکڑے جا رہے ہیں۔ برسراقتدار طبقہ دیانتدار ہوتو معاشرے کے دیگرطبقات میں بدعنوانی کا عنصر پروان نہیں چڑھ سکتا لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا معاشرہ رشوت ، سفارش، اقربا پروری ، بے ایمانی اور بددیانتی کے ایسے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے کہ صاحبان اختیار و بے اختیار سبھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ دوسری جانب ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ متوسط طبقہ جس کی کمر پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے دہری ہوئی جا رہی ہے مگر وہ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے کیا کچھ نہیں کرتا ۔دیکھنے والوں کو اندازہ ہی نہیں ہوپاتا کہ ان کے گھر کے حالات کیا ہیں۔ ملک میں بھیانک مہنگائی نے سب سے زیادہ متوسط اور نچلے طبقے کے لوگوں کو ہی متاثر کیا ہے۔ اس طبقے کے لوگوںکی حالت یہ ہے کہ بیچارے نہ ہی راتوں رات امیر بن سکتے ہیںاور نہ ہی کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں ۔ وہ بیک وقت اپنی بدترین غربت کو کسی نہ کسی طرح دنیا کی نظروں سے چھپانے کے لئے جان توڑ کوشش کرتے اور ساتھ ہی خوشحال ، خوش پوش اور مطمئن نظرآنے کی اداکاری بھی کرتے ہیں تا کہ دنیا کو ان کی اصلیت کا پتہ نہ چل سکے۔ اگر ملک میں کرپشن کے ذریعہ لوٹی ہوئی دولت کو واپس لے آیا جائے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو کسی سے قرض لینے کی بات کرنے کی ضرورت پیش نہیںآئے گی اور پھر اس رقم سے ملک کے قرضے اتار کر قومی معیشت کو فروغ دیا جا سکے گا پھر ملک میں خوشحالی کا پہیہ بھی گھومے گا او رغربت کا خاتمہ بھی ہو گا۔ آج یہ حال ہے کہ ہماری آبادی کا 50سے 60فیصدحصہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔یہ لوگ زندہ ہیں مگرشب و روز ایڑیاں رگڑ رہے ہیں دو وقت کی روٹی کیلئے ، صحت کیلئے ، تعلیم کیلئے اور سب سے بڑی چیز اپنے سائبان کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں او رہر انتخابات پربے چارے بے بس عوام یہ آس لگائے بیٹھے رہتے ہیں کہ شاید ان کے حالات میں تبدیلی آئے مگر انتخابات بھی ہوتے ہیں منتخب نمائندہ بھی آتے ہیں مگر غریبوں کی حالت زار ویسی ہی رہتی ہے۔ آج ہماری حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے قرضوں کا بوجھ ملک پر بڑھتا چلا جا رہا ہے او رملکی آمدنی کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں بحیثیت پاکستانی اپنا کردار اداکرنے کی ضرورت ہے۔ آج چین، تائیوان ، سنگا پور جیسے ممالک جو پاکستان کے ساتھ ہی وجود میں آئے، وہ ہم سے معاشی نظام کی تعلیم لینے کیلئے آتے تھے، وہ آج کس عروج پر ہیں اور ہم کس دوراہے پر پہنچے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم متحد ہو کر حکومت کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کریں۔تب ہی جا کر ملک میں خوشحالی کا سورج طلوع ہوگا ورنہ عوام غربت کی چکی میں پستے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں