Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

ہم پاکستانی بھی عجیب لوگ ہیں قسم قسم کا دھندہ کرتے ہیں۔ ایسے ایسے دھندے جن کا مہذب دنیا میں تصور بھی نہیں ہمارے ہاں ہو رہے ہوتے ہیں مگر اس کا کوئی نوٹس نہیں لیتا۔ کچھ دھندے ایسے ہوتے ہیں جس میں ازخود تو کوئی برائی نہیں، خلاف قانون اور خلاف شرع نہیں مگر اشرف المخلوقات رزق کمانے کیلئے ان دھندوں کو اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ ذرا سوچیں کئی دھندے ایسے ہیں جن میں چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں' خواتین یہاں تک کہ معمر حضرات کو پیٹ پوجا کیلئے مشقت کرتے دیکھ کر حساس دل کلیجے کو آتا ہے مگر کوئی کیا کر سکتا ہے سوائے افسوس کے۔ بعض دھندے جیسے ریچھ اور کتے کی لڑائی، بندر نچانا، سانپ کا تماشا وغیرہ وغیرہ ایسے دھندے ہیں جس میں لوگ اپنا پیٹ پوجا کرنے کے واسطے ان جانوروں کو قیدی بنا کر رکھتا ہے جن جانوروں کو جنگل میں پوری آزادی کیساتھ قدرتی ماحول میں ہونا چاہئے۔ قیدی بنا کر گلی گلی پھرا کر اور آپس میں لڑا کر ان کی بے زبانی کا تماشا بنا کر مچھندر روٹی کماتا ہے اور ہم یہ تماشا دیکھ کر چند سکے چند روپے دیکر محظوظ ہوتے ہیں۔ ہمیں اس امر کا قطعی احساس نہیں ہوتا کہ اس بے چارے ریچھ پر کیا گزر رہی ہوگی جس کا منہ باندھ کر ان پر کتے چھوڑے گئے ہیں جو اس کو بھنبھوڑنے میں مصروف ہیں۔ ہم ریچھ کو تکلیف میں دیکھ کر دکھی نہیں ہوتے بلکہ اس خونخوار کھیل سے محظوظ ہوتے ہیں اسی طرح کتوں کی لڑائی، مرغوں کی لڑائی، بٹیر لڑانا پتہ نہیں کیا کیا معصوم جانوروں کو لہولہو کر کے ہم تفریح طبع کا سامان کر رہے ہوتے ہیں۔ اس قسم کی حرکتوں کو دیکھ کر کبھی کبھار خیال آتا ہے کہ جانور وہ ہیں یا ہم، خونخوار وہ ہیں یا جمگھٹا لگا کر ان کو دیکھنے والا ہجوم۔ انسان آخر کیسا اشرف المخلوقات ہے جو دوسری مخلوق کی تکلیف ومصیبت پر رنجیدہ، دکھی اور مہجور ہونے کی بجائے محظوظ ہوتا ہے۔ قدرت نے تو ہمیں درد دل کے واسطے پیدا کیا ہے۔ ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ نیکی بدی، بھلائی برائی، گناہ ثواب کی پہچان اور تمیز عطا کی ہے۔ ذرا سوچیں کہ ہم ان اعزازات کا خود کو کتنا مستحق ثابت کرتے ہیں، ہم کتنا گناہ ثواب اور عذاب کا خیال رکھتے ہیں۔ ہمارا رویہ دوسروں کیساتھ کیسا ہے اپنے پیدا کرنے والے کے ہم کس حد تک شکرگزار ہیں۔ اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کیساتھ ہمارا رویہ کیسا ہے۔ ہم اس بوڑھے شخص اور اس بوڑھی خاتون جن کی یہ حالت اولاد کی پرورش اور ان کیلئے ساری زندگی محنت ومشقت کرکے گزری ہے کس قدر اہمیت اور وقعت دیتے ہیں۔ ذرا اپنے روئیے پر غور کرتے جائیں تو خودبخود اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ ہم سے یہ بے زبان جانور اچھے، ہم کسی طور اشرف المخلوقات ہونے کے قابل نہیں۔ ذرا سوچئے کیا اب وقت نہیں آیا کہ ہم اپنے رویوں، اپنے کردار، اپنے مسلمان اور اشرف المخلوقات ہونے پر غور کر کے خود کو اس اعزاز کے قابل ثابت کرنے کی کوشش کریں۔

متعلقہ خبریں