Daily Mashriq

بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا

بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا

بد تہذیبی کا عفریت والہانہ رقص کرتا ہوا معاشرے کو گھن کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ابھی چار پانچ روز پہلے لاہور کے امراض قلب کے ہسپتال کے واقعے کے دوران صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کے ساتھ بعض افراد نے جس طرح تشدد آمیز رویہ اختیار کیا اور ان کو زد و کوب کرنے کی ویڈیو وائرل ہوچکی ہے بلکہ سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ مختلف چینلز پر بھی عوام نے اسے افسوس اور دکھ کے ساتھ دیکھا جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے اس پورے معاملے پر جو ریمارکس دئیے اور کہا کہ ہسپتال پر حملہ جنگل کا قانون کے مترادف ہے' عدالت عالیہ نے نہایت نیک مشورہ دیا ہے کہ سرعام تسلیم کریں کہ حملے کی پلاننگ لاہور بار میں کی گئی عدالت نے برہم ہوتے ہوئے سوال اٹھایا کہ پی آئی سی پر حملے کی جرأت کیسے ہوئی' اگرچہ سپریم کورٹ بار نے وکلاء پر الزامات مسترد کرتے ہوئے گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے ' تاہم سینئروکلاء نے واقعے پر ندامت اور شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے اور بعض سینئر وکلاء پھولوں کے گلدستے لے کر ہسپتال گئے اور یکجہتی کا اظہار بھی کیا جبکہ دوسری جانب گزشتہ روز ایک اور افسوسناک واقعہ بھی رونما ہوا یعنی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد پر پیپلز پارٹی کے ایک جیالے نے اس وقت حملہ کیا جب موصوف پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کے خلاف اپنی تقریر کے دوران ریمارکس دے رہے تھے۔ حملہ آور کو اگرچہ ریلوے پولیس نے قابو کرکے گرفتار کرلیا تھا تاہم بعد میں اطلاعات کے مطابق اسے رہا کردیا تھا۔ واقعے کی تفصیل تادم تحریر سامنے نہیں آئی تاہم حملہ آور کی رہائی ممکن ہے کہ خود شیخ صاحب کے کہنے پر عمل میں آئی ہو' اگر ایسا ہی ہوا ہے تو یقینا یہ شیخ رشید احمد کی وسیع القلبی ہے کہ انہوں نے تادیبی کارروائی سے حملہ آور کو بچایا جس سے امید ہے کہ حملہ آور کو بعد میں اپنے کئے پر شرمندگی ضرور ہوئی ہوگی

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے ان واقعات کے پیچھے اصل عوامل کو تلاش کرنے کی ذمہ داری معاشرے کے حساس' پڑھے لکھے اور غور و فکر کرنے والوں پر فرض ہے اور محض یہ الزام تراشی درست نہیں کہ '' بد تہذیبی کا وائرس کنٹینر سے نکلا' پورے ملک میں پھیل گیا'' بلکہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ آخر اس مقام تک ہم کیسے آگئے؟ کیا راتوں رات معاشرے کی کایا کلپ ہوگئی اور ہم منفی جذبات کے قعر مذلت میں گھر گئے یا پھر کئی دہائیوں کی اختیار کی ہوئی غلط پالیسیوں نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا کہ آج منفی پروپیگنڈے کی دلدل میں دھنستے ہوئے ہم نے گوئبلز کو بھی شرمندگی کے پاتال میں دھکیل دیا ہے۔ گوئبلز نے تو صرف اتنا کہا تھا کہ اتنا جھوٹ بولو کہ سچ کے آتے آتے گائوں کے گائوں ویران ہوچکے ہوں' مگر اپنے معاشرے پر نگاہ ڈالیں تو سوشل میڈیا کی دو دھاری تلوار سے ہم نے کشتوں کے پشتے لگانے میں کمال مہارت حاصل کرلی ہے اور سیاسی مخالفتوں کو ذاتی بغض و عناد سے آلودہ کرکے سیاسی مخالفین کے وجود تک مٹانے کی سوچ سے مغلوب ہو چکے ہیں' حالانکہ سیاست برداشت کا درس دیتی ہے اس لئے جو لوگ منہ میں آگ لئے ہر وقت مخالفین کو بھسم کرنے کی سوچ لئے رہتے ہیں انہیں بھی اپنی زبان کو قابو کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔ صدیوں سے وہ جو محاورہ مقبول ہونے کی سند لئے ہوئے رائج چلا آرہا ہے اس کی اہمیت و افادیت سے انکار کیسے کیاجاسکتا ہے یعنی پہلے تولو پھر بولو' مرزا غالب نے بھی تو کہا تھا نا کہ

گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر

کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی

فیاض الحسن چوہان اور شیخ رشید اپنی زبان کی کاٹ کے حوالے سے جو شہرت رکھتے ہیں اس سے زخم خوردہ صرف سیاسی رہنماء ہی نہیں' ان سیاسی رہنمائوں کے جوشیلے کارکن بھی ہیں اور چند روز پہلے شیخ صاحب کے ایک بیان پر قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے صرف اتنا کہا تھا کہ شیخ صاحب کو کوئی جواب نہیں دینا چاہتا' ان سے خدا سمجھے' تاہم ضروری تو نہیں کہ ہر جماعت کے کارکن ان کی ''زباندانی''( زبان درازی لکھنے سے پرہیز بہتر چوائس ہے) کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کریں' اس لئے ایک جیالے سے ان کی تازہ ''خوش گفتاری'' برداشت نہ ہوسکی اور نتیجہ ظاہر ہے اسی طرح فیاض الحسن چوہان بھی سیاسی مخالفین کے حوالے سے بیان بازی میں جو شہرت رکھتے ہیں وہ بھی ''حد سے تجاوز'' کے زمرے میں شمار کی جاسکتی ہے۔ یہی نہیں سیاسی مخالفین پر تابڑ توڑ حملے کرنے اور تبرہ تولنے میں عامر لیاقت حسین کے علاوہ خیبر پختونخوا کے ایک ''جواں فکر'' وزیر کا شہرہ بھی آسمان کو چھو رہا ہے حالانکہ باہمی احترام سے سیاست میں بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ خیر مسئلہ یہ ہے کہ کسی کو مشورہ دیا جائے تو یہ بھی اسے شاق گزرتا ہے' سو مشورہ دینے کی بجائے اگر مثبت اور منفی رویوں کی صرف نشاندہی کی جائے تو بہتر ہے' ویسے بھی جب بندہ '' وزارت'' کے منصب پر براجمان ہو جائے تو اسے ہم جیسے حقیر لوگوں کی مشاورت زہر لگتی ہے اس لئے اگر کالم سے ایسا کوئی تاثر ابھرتا محسوس ہو تو حضور درگزر کیجئے' بھلا ہم کون ہوتے ہیں مشورہ دینے والے' ویسے بھی غالب نے بروقت انتباہ بھی کیا ہے کہ

ہم کہاں کے دانا تھے' کس ہنر میں یکتا تھے

بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا

تو حضور' آپ کی مرضی ہے' جتنا چاہیں سیاسی مخالفین کو نئے نئے القابات سے نوازئیے' مخاصمت کو بڑھاوا دیجئے کہ آج آپ کی باری ہے' مگر آنے والے کل کی فکر بھی ضرور کیجئے' جب آپ کی نہیں کسی اور کی باری آئے گی' ہم تو جون ایلیاء کی بات سے متفق ہیں کہ

ہے سیاست سے تعلق تو فقط اتنا ہے

کوئی کم ظرف مرے شہر کا سلطان نہ ہو

متعلقہ خبریں