افغانستان پر ایک اور بیٹھک

افغانستان پر ایک اور بیٹھک

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے اور امن اور استحکام کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کو تیار ہے لیکن دوسرے ممالک کو بھی تعاون کرنا ہوگا۔ استحکام کا راستہ افغانستان سے گزرتا ہے۔ پاکستان یقین دلاتاہے کہ وہ کسی بھی صورت اپنی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ کابل میں چیفس آف ڈیفنس کانفرنس میں پاکستان سمیت امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ ‘ افغانستان میں امریکی مشن کے سربراہ اور افغانستان‘ تاجکستان‘ کرغزستان‘ قازقستان ‘ ازبکستان اور ترکمانستان کی بری افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔آرمی چیف نے کہا کہ دہشتگردافغان مہاجرین کی موجودگی اورناقص سرحدی انتظام کافائدہ اٹھاتے ہیں، جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ 27 لاکھ سے زائد مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں اور ان میں شاید کوئی دہشت گردوں کے بچے کچھے افراد موجود ہوں گے اور انہوں نے کسی نہ کسی صورت میں پناہ لی ہوگی لیکن ان کے خاتمے کیلئے بھی پاکستان مکمل سطح پر اقدامات کررہا ہے۔کابل میں انتہائی اہم ممالک اور اعلیٰ سطح کی عسکری قیادت کا اکٹھ اس بنا ء پر زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ اگر اس سطح کی قیادت کسی معاملے پر اصو لی اتفاق کر کے اس پر قائم رہے اور اعتماد کی فضا میں کارروائیاں کی جائیں تو اس کے نتیجہ خیز نہ ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلہ افغانستان کے حل میں جہاں متعلقہ اہم ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے وہاں افغان حکومت کی داخلی قوتوں کے ساتھ کمزور معاملت بنیادی مسئلہ ہے ۔ کابل میں جہاں ایک جانب اس سطح کی مشاورت ہوئی ہے لیکن دوسری جانب اگر امریکی رویہ دیکھا جائے تو مایوسی ہونے لگتی ہے کہ امریکی حکام مشترکہ اجلاسوں میں جو فیصلہ کرتے ہیں بر سر زمیں وہ ان اجلاسوں کے فیصلوں کو روبہ عمل لانے کیلئے اقدامات پر تیار نہیں ہوتے بلکہ الٹا شکوک وشبہات کی فضا پیدا کر کے معاملات دوسری جانب دھکیل دیتے ہیں جس کے باعث نہ تو افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار ہوتی ہے اور نہ ہی امریکہ کو اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیابی ملتی ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو امریکہ جہاں ایک طرف افغانستان میں قیام امن کا علمبر دار بننے کا دکھاوا کرتا ہے تو دوسری جانب عملی طور پرا س کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طور افغانستان میںاپنی عملداری بڑھائے اس قسم کی آدھا تیتر آدھا بٹیر کی حکمت عملی کے باعث افغانستان میں قیام امن کی مبینہ کوششوں کو کامیابی نہیں ملتی۔ ہر بار اس طرح ہوتا ہے اس بار بھی جہاں امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ اور افغانستان میں امریکی مشن چیفس آف ڈیفنس کا نفرنس میں شریک تھے اور اعتماد کی فضا کی ضرورت تھی۔امریکہ کے نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈین کوٹس نے فضا مکدر کرنے کا باعث بیان جاری کر کے معاملات کو بد اعتمادی کی طرف دھکیل دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج انسداد دہشت گردی میں امریکا کے ساتھ تعاون کررہی ہے تاہم ملک میں انتہاپسندوں کے لیے آسانیاں موجود ہیں۔ڈین کوٹس نے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے بیان میں کہا کہ 'پاکستان سے تعلق رکھنے والے انتہاپسند گروپ بھارت، افغانستان اور امریکی مفادات پر حملوں کے لیے اپنی محفوظ پناگاہوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔پاکستان بارہا اس طرح کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کرچکا ہے کہ پاکستان میں اس طرح کے گروپس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔امریکی انٹیلی جنس ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے طالبان اور دیگر گروہوں کے خلاف جاری آپریشنز اس بات کا عکاس ہیں کہ ان گروپس کے خلاف مزید کارروائیوں کی ہماری درخواستوں پر مزید تیزی دکھائی جارہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک جو کارروائیاں کی گئی ہیں وہ ان گروپس پر کوئی خاص دبائو نہیں بڑھا پائیں اور کوئی پائیدار اثر نہیں ہورہا ہے۔سینیٹ کی کمیٹی کو اپنی بریفنگ میں انہوں نے پاکستان پر مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس کے کارندوں کا ماننا ہے کہ پاکستان 'ان دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھے گا جبکہ امریکا کے ساتھ محدود انسداد دہشت گردی تعاون بھی ہوگا۔اس طرح کی فضا میںافغانستان کے پیچیدہ اور حساس معاملے کے حل میں پیشرفت کیسے ممکن ہوگی جہاں تک افغان طالبان کا تعلق ہے ستر فیصد رقبے پر قابض یہ قوت تبھی مذاکرات پر آمادہ ہو سکتی ہے جب وہ اس کیلئے فضا کو ہموار دیکھیں گے اور ان کو مذاکرات و مفاہمت کے نتیجہ خیز ہونے کا یقین ہوگا۔ افغانستان میں افغان حکومت کی رٹ کمزور ہونا نہ صرف افغان حکومت کے لیے باعث تشویش ہے بلکہ بین الافغان مذاکرات پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے اور اس سے خطے کے تمام ممالک کا امن واستحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ خطے کے ملکوں کے افغانستان کے ساتھ باہمی ثمر آور تعلقات کے لیے ایک مستحکم اور مضبوط افغان حکومت کا ہونا ضروری ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک افغان سرحد کے مشترکہ انتظام ‘ افغان حکومت کی اپنی سرحدوں کا دراندازوں سے محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات دونوں ممالک کی سطح پر اور بین الاقوامی تائید و حمایت اور مدد کے ساتھ ہونا چاہیئے اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب پاکستان سے 27لاکھ افغان مہاجرین کی وطن واپسی ہوگی تاکہ کوئی مشکوک شخص مہاجرین کے بھیس میں پاکستان نہ آسکے ۔

اداریہ