مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے گریز بہتر ہوگا

مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے گریز بہتر ہوگا

انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لئے جدوجہد کرنے والی ممتاز قانون دان عاصمہ جہانگیر کے جنازے میں خواتین کی شرکت‘ عورتوں کا مردوں کے برابر کھڑے ہوکر نماز جنازہ ادا کرنے کی نئی روایت کی نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسا معاشرہ اور تہذیب ہے۔ یہ سراسر اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے کے مترادف اور قہر خداوندی کو دعوت دینا ہے۔ عورتوں کا جنازے میں مردوں کے ساتھ کندھا ملا کر نماز جنازہ میں کھڑی ہونے کا ناٹک شعائر اسلام کی توہین کے مترادف ہے۔ اسلامی شعائر اور اسلامی رسوم کے علاوہ لبرلز کے خیالات و افکار جو بھی ہوں یہ بھی لبرلزم کا تقاضا ہے کہ دین و مذہب اور معاشرے کے جذبات کا احترام کیا جائے۔آج جس طرح کی بدعت کی ابتداء ہوئی ہے اگر اسے نہ روکا گیا تو معاشرے میں ہی بگاڑ نہیں آئے گا اور قہر خداوندی ہی متوجہ نہ ہوگی بلکہ اس سے فساد فی الارض کا اس لئے امکان ہے کہ ہمارے معاشرے میں ویسے بھی برداشت نام کی کوئی چیز نہیں جبکہ دینی معاملات کے حوالے سے حساسیت کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ علمائے کرام کو چاہئے کہ وہ اس ضمن میں معاشرے کی رہنمائی کریں اور جو چیزیں از روئے شرع ممکن ہیں اور جو نہیں اس کی وضاحت کریں تاکہ اس قسم کی صورتحال پیدا نہ ہو کہ معاشرہ تضادات اور انتشار کا شکار ہو جائے جس کی تلافی مشکل ہو جائے۔
نکاسی آب کا وہی پرانا مسئلہ
ہمارے سٹاف رپورٹرکے مطابق پیر کے روز ہونے والی بارشو ں کے باعث پشاور کی سڑکیں، گلیاں اور محلے دوسرے روز بھی تالاب کا منظر پیش کرتے رہے۔ کیچڑ سے اٹی پشاور کی سڑکوں پر جہاں گاڑیوں کا سفر دشوار ہو گیا تھا تو کئی کئی گھنٹوں کے ٹریفک جام سے بھی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔خشک سالی کے خاتمے کے لئے بارش کا شدت سے انتظار ضرور تھا بارش سے گندم اور گنے کے فصل کے لئے خاص طورپر ضرورت تھی لیکن المیہ یہ ہے کہ پشاور میں ہر بار بارش کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے باران رحمت پشاوریوں کیلئے باعث زحمت بن جاتی ہے۔ اس مرتبہ مزید مشکل اس بناء پر بھی پیش آئی کہ پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی تعمیر اور ہیری ٹیج منصوبے سمیت مختلف علاقوں میں تعمیراتی کام بھی رک گیا اور ان تعمیراتی کاموں کا ملبہ بارش کے باعث سڑکوں پر پھیل گیا ۔کیچڑ سے اٹی سڑکوں پر گاڑیوں کا گزر بھی مشکل ہو گیا ہے۔گاڑی احتیاط سے چلانے کے باعث سڑکوں پر ٹریفک جام رہی اور لوگ گھنٹوں گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے۔بارشوںمیں سڑکوں پر تھوڑی دیر کے لئے پانی کا جمع ہونا اور نکاسی آب کے نظام پر دبائو اور معطلی کی تو گنجائش ہے لیکن صوبائی دارالحکومت پشاور میں معمول کی بارشوں سے بھی شہر تالاب کامنظر پیش کرنے لگتا ہے اور نکاسی آب کا نظام اتنا ناقص ہے کہ شہر میںنکاسی آب کا سرے سے کوئی انتظام نہ ہونے کا گمان ہونے لگتاہے۔یہ امر سمجھ سے بالا تر ہے کہ شہر میں بارش کے پانی سے سڑکوں کا گہرے تالاب میں تبدیل ہونے کے عمل کا منصوبہ بندی کے دوران خیال کیوں نہیں رکھا جاتا۔ تعمیرکے وقت بارشوں کے دوران متعلقہ محکمے کے عمال اور کنسلٹنٹ موقع پر آکر صورتحال ملاحظہ کرکے اس کے حل کی سبیل نکالنے پر توجہ کیوں نہیں دیتے۔ہمارے تئیں بارش کے پانی کی نکاسی اس قدر سنگین مسئلہ نہیں کہ اس کا کوئی حل ہی نہ نکالا جاسکے۔ سڑکوں کی تعمیر میں نکاسی آب کے انتظامات اور بارشوں کی شدت کے مطابق اس میں وسعت اور گنجائش رکھنے کی ضرورت کا احساس اور اس کو پورا کرنے کی منصوبہ بندی ایک سادہ عمل ہے جس کے لئے کسی ماہر انجینئر اور کنسلٹنٹ کی ضرورت نہیں مگر یہاں لاکھوں روپے مشاورت اور نگرانی کی مد میں وصول کئے جاتے ہیں۔مگر صورتحال میں تبدیلی نہیں آتی۔ علاوہ ازیں متعلقہ محکموں میں انجینئرز پہلے سے موجود ہوتے ہیں جو اس صورتحال سے لا علم نہیں بلکہ بخوبی علم رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود پرنالہ وہیں کا وہیں ہوتاہے۔اس وقت جبکہ ریپڈ بس منصوبے پر کام جاری ہے، موسم سرما کی بارش گو کہ بہت تیز نہیں تھی مگر اس کے باوجود بھی پیدا شدہ صورتحال کا اگر ماہرین نے جائزہ لیا ہوگا تو ان کو منصوبہ بندی کرنے میں آسانی ہوگی اور اگر غفلت کا مظاہرہ کیاگیا تو اب بھی وقت ہے کہ بارش سے پہلے ’’چھت‘‘ کا انتظام کر جائیں تاکہ ریپڈ بس منصوبہ بھی خدانخواستہ سیلاب برد نہ ہوجائے۔

متعلقہ خبریں