کابل میں ڈیفنس چیفس کانفرنس

کابل میں ڈیفنس چیفس کانفرنس

کابل میں گزشتہ روز ایک اہم اجلاس ہوا ہے جس میں افغانستان‘پاکستان ‘ امریکہ ‘ قازقستان ‘ کرغرستان ‘ تاجکستان ‘ ترکمانستان اور ازبکستان کے ڈیفنس چیفس نے شرکت کی۔ امریکہ کی نمائندگی سنٹرل کمانڈ اور ریزولیوٹ سپورٹ مشن کے نمائندوں نے کی۔ موضوع تھا دہشت گردی اور خطے کا استحکام۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس حقیقت پر زور دیا کہ خطے اجتماعی طور پر ترقی کرتے ہیں اور ہمارے خطے کی ترقی کا راستہ افغانستان کے استحکام سے ہو کر جاتا ہے۔ افغانستان گزشتہ تیس برس سے جنگ زدہ ملک ہے۔ یعنی آج افغانستان میں جو ادھیڑ عمر کے لوگ ہیں یا ان سے کم عمر لوگ ہیں انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے ملک میں امن نہیں دیکھا۔ افغانستان پر جب سوویت روس نے حملہ کیا تو امریکہ نے کئی ملکوں سے گوریلا جنگجو افغانستان میں اکٹھے کیے ‘ انہیں ہر طرح کی امداد دی ۔ اور انہوں نے افغان باشندوں کے ساتھ مل کر سوویت فوجوں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا اور اس طرح سوویت روس نے افغانستان میں جو کٹھ پتلی حکومت قائم کی تھی اس کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ لیکن سوویت فوجوں کے خلاف لڑنے والوں کے سرپرست امریکہ نے افغانستان میں سابقہ حکومت کو بحال کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ کوئی نیا سیٹ اپ قائم کرنے کے لیے اقدام کیا ۔ بس افغان جنگ سے اچانک علیحدگی اختیار کر لی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی ‘ کئی سال تک اس خانہ جنگی کے بعد جب طالبان نے اس پر قابو پایا تو انہیں شمالی اتحاد کی فورسز کا سامنا تھا ۔ طالبان نے جو حکومت قائم کی اسے امریکہ نے بھرپور فضائی قوت کا استعمال کر کے ختم کیا اور وہاں شمالی اتحاد کے حامد کرزئی کی حکومت قائم کی جن کے دو بار صدر منتخب ہونے کے بعد اب وہاں صدر اشرف غنی کی حکومت ہے۔ لیکن طالبان کی حکومت تو ختم ہو گئی ہے، افغانستان میں ان کی مقبولیت ختم نہیں ہوئی۔ اب کہا جاتا ہے کہ افغانستان کے پچاس فی صد سے زیادہ حصے پر طالبان کی عملداری ہے ۔ صدر اشرف غنی برملا کہتے ہیں کہ ان کے ملک کے بعض حصوں میں ان کی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے ان میں وہ حصے بھی شامل ہیں جہاں پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے فرار ہو کر جانے والے تحریک طالبان پاکستان کے تربیتی اڈے ہیں جنہیں سرمایہ‘ اسلحہ ‘ تربیت اور پاکستان کے خلاف جنگی معاونت بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ فراہم کرتی ہے۔ دریں اثناء چونکہ افغانستان میں کوئی مضبوط ہیئت حاکمہ نہیں ہے اس لیے دیگر اقسام کی جنگجو تنظیموں کے لیے بھی افغانستان محفوظ جنت ہے جن میں داعش ‘ القاعدہ وغیرہ کے عناصر شامل ہیں۔ شمالی حکومت کی سرپرستی امریکہ نے اپنے سر لی ہوئی ہے جہاں سولہ سال سے اس کی افواج افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے موجود ہیں۔ لیکن ناکام ہیں۔ ایک طرف شمالی اتحاد کے کنٹرول کے علاقے میں امریکی شکایت کرتے ہیں کہ کرپشن عام ہے ۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان سے بھاری مقدار میں افیون کی بیرون ملک تجارت ہوتی ہے۔ دوسری طرف طالبان ، داعش اور القاعدہ ایسے تنظیموں کے زیرِ اثر علاقوں میں امن ہر وقت خطرے میں ہے۔ اس طرح افغانستان میں عدم استحکام ایک پیچیدہ صورت حال سے دوچار ہے ۔ یہ عدم استحکام ایک طرف پاکستان کو متاثر کرتا ہے جہاں افغانستان سے کلاشنکوف کلچر آیا اور تحریک طالبان پاکستان ایسی تنظیمیں بنیں اور دہشت گردی کے باعث پاکستان کے 70ہزار فوجی اور سویلین شہید ہوئے اور معیشت کو جو نقصان پہنچا وہ ایک طرف۔ دوسری طرف چین کو بھی افغانستان کے عدم استحکام سے خطرہ لاحق ہے اور وسطی ایشیاء کے ممالک کو بھی دہشت گردی کے سرایت کر جانے کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ جس کے انسداد کے لئے کابل میں امریکہ ، افغانستان اور پاکستان سمیت آٹھ ممالک کے افواج کے سربراہوں نے شرکت کی۔ جیسے کہ سطور بالا میں بیان کیا گیا ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام اور دہشت گردی کی جڑیں گہری اور تاریخ پرانی ہے اور اس سے ہمسایہ ملکوں کا امن و استحکام متاثر ہو رہا ہے جس کی مثال پاکستان میں دہشت گردی اور اس کے خلاف آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد ہے۔ امریکہ اور افغانستان کا الزام ہے کہ پاکستان سے دہشت گرد جا کر افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں ۔جس کے جواب میں پاکستان کی یہ پیش کش موجود ہے کہ امریکہ جس کے انٹیلی جنس کے وسائل وسیع ہیں پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرے تو پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کی وارداتوں کی ایک وجہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بیان کر دی ہے کہ بچے کھچے دہشت گرد عناصر پاکستان میںموجود افغان باشندوں میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ اور سرحد کی سیکورٹی نہ ہونے کے باعث آسانی سے ایک دوسرے کے ملک میں آ جا سکتے ہیں۔ اسی کے لیے پاکستان نے سرحد کی باڑھ بندی کا کام شروع کیا ہے ، اس کام میں امریکہ کو مدد کرنی چاہیے اور افغانستان کو بھی باڑھ بندی کرنی چاہیے لیکن اس طرف تعاون نہیں آ رہا ۔ افغانستان کے دیگر ہمسایوں کو بھی افغانستان میں عدم استحکام کے باعث اندیشے اور خطرات ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ ڈیفنس چیفس کی حالیہ کانفرنس میں ان پر غور کیا گیا ہو گا۔ اس کانفرنس میں روس اور چین کو بھی شامل ہونا چاہیے تھا جو افغانستان کے ہمسائے ہونے کے باعث اپنے ملکوں میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے سرایت کرنے کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں۔لیکن یہ معاملہ صرف افغانستان کی سرحدوں کی بہتر نگرانی تک محدودنہیں رہ سکتا۔ اس کے لیے افغانستان میں عدم استحکام کی وجوہ تک پہنچنے اور ان کے سیاسی حل کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں