میں ڈوبنے کا گلہ ناخدا سے کیا کرتا

میں ڈوبنے کا گلہ ناخدا سے کیا کرتا

صوابدیدی اختیار کی بحث ایک بار پھر چھڑ گئی ہے۔ گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں صوابدیدی فنڈز نہیں ہوتے، نہ وزیراعظم کے پاس، نہ وزیراعلیٰ کے پاس، اصولی طور پر بات تو خان صاحب نے بالکل درست کی ہے، مگر ہر مسئلے کے دو پہلو ہوتے ہیں، ایک روشن پہلو اور دوسرا سیاہی سے گندھا ہوا، عمران خان نے دوسرے پہلو کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے من حیث القوم اسی پہلو کو حرزجاں بنا رکھا ہے۔ یقین نہ آئے تو گزشتہ ہی روز خیبر پختونخوا اسمبلی میں خود تحریک انصاف ہی کے ایک رکن کی جانب سے فنڈز نہ ملنے پر سیٹیاں بجا کر احتجاج کے بعد ڈپٹی سپیکر نے بہ امر مجبوری اجلاس ملتوی کر دیا۔ صوابدیدی فنڈز کا یہ سلسلہ صدر، وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے حوالے سے تو نہ جانے کب سے شروع ہوا ہے مگر ’’مرد مومن، مرد حق‘‘ نے جب پہلے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے ایک عجیب الخلقت نظام اس ملک پر مسلط کر کے اپنے اقتداکو طول دینے کی بنیاد رکھی تو ان بنیادوں کو مضبوط بنانے کیلئے قومی اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس سے خطاب فرماتے ہوئے ہر رکن اسمبلی کی صوابدید پر (غالباً ) 50لاکھ روپے سالانہ کے فنڈز مختص کئے، اس کے بعد چل سو چل ہر نئی آنیوالی حکومت نے ان صوابدیدی فنڈز میں اضافہ ہی کرنے میں عافیت جانی، بس محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے غلطی سے یہ فنڈز ختم کئے تو ان کیخلاف احتجاج کا ڈول ڈال کر انہیں اپنے فیصلے کو واپس لینے پر مجبور کر دیا گیا۔ اب اس حوالے سے صورتحال کس حد تک جا چکی ہے اس کی جھلک گزشتہ روز کے پی اسمبلی میں سیٹیوں کی گونج میں آسانی سے تلاش کی جاسکتی ہے جبکہ معاملہ کا دوسرا پہلو بھی ہے جس کا کھوج لگانے کیلئے ہمیں تاریخ کے اوراق پلٹنے پڑیں گے، ایک واقعہ تو یہ ہے کہ خلیفہ چہارم ایک دوست کیساتھ بیٹھے نجی گفتگو بھی کر رہے تھے اور ساتھ ہی بیت المال کا حساب کتاب بھی لکھ کر محفوظ کر رہے تھے، ریاست کا کام ختم ہوا مگر ان کی گپ شپ اسی طرح جاری تھی تو حضرت علی کرم اللہ وجہہؓ نے دیا بجھا کر اندھیرا کر دیا، دوست کے استفسار پر انہوں نے فرمایا، دیئے میں جلنے والا تیل بیت المال کے خرچ سے خریدا گیا ہے، ریاستی کام تک دیا جلتا رہا تو اس کا جواز تھا، مگر اب ہم گپ شپ کر رہے ہیں جس کیساتھ بیت المال کے دیئے کا کوئی تعلق نہیں ہے اسلئے دیا مزید روشن نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ بھی سرکاری فنڈز اور صوابدیدی اختیارات کا استعمال تھا۔ یعنی بقول شاعر:

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
لودھراں میں ہونیوالے ضمنی انتخابات میں جہانگیر ترین کے فرزند دلبند علی ترین نے لیگ (ن) کے اُمیدوار اقبال شاہ سے بظاہر تو26 ہزار نوسو ووٹوں سے شکست کھائی ہے تاہم اگر اسے لاہور میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی جیت پر تحریک انصاف کے رہنماؤں کے اس وقت کے تبصروں کے تناظر میں پر کھا جائے تو یہ ہار جیت لگ بھگ64 ہزار کی بن جاتی ہے یعنی کلثوم نواز کی جیت کے باوجود تحریک انصاف کے رہنماؤں اور ان کے حامی اینکرز اور تجزیہ کاروں نے میاں صاحب کے حاصل کردہ اپنے ووٹوں کے مقابلے میں کلثوم نواز کے حاصل کردہ ووٹوں سے موازنہ کرتے ہوئے یہی دعوے کئے تھے کہ اس حلقے میں لیگ (ن) کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے، اسلئے موجودہ معرکے کو، جس میں مبینہ طور پرایک ووٹ کی قیمت چالیس ہزار تک پہنچ گئی تھی اور فریقین نے بوریوں کے منہ کھول کر ووٹوں کی خرید وفروخت کا بازار گرم کئے رکھا چونکہ خود جہانگیر ترین نے اس حلقے میں35 ہزار سے زیادہ ووٹوں کی اکثریت سے انتخاب جیتا تھا اسلئے اسی اصول پر دیکھا جائے تو لیگ (ن) نے یہ معرکہ26 ہزار نوسو ووٹوں سے نہیں بلکہ 64 ہزار کے فرق سے جیت کر ایک بڑا اپ سیٹ دیدیا ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ میاں نواز شریف نے جو بیانیہ اختیار کیا ہے اسے عوامی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے لیکن آنیوالے عام انتخابات میںصورتحال کیا رہتی ہے اس کے بارے میں وثوق سے پھر بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ادھر کراچی کی سیاست میں ہلچل اپنے پورے جوبن پر دکھائی دیتی ہے، تادم تحریر ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں میں کشمکش عروج پر جاتی دکھائی دے رہی ہے، ایم کیو ایم پاکستان کی سربراہی کے دونوں دعویدار ڈاکٹر فاروق ستار بھائی اور خالد مقبول صدیقی بھائی، اپنے اپنے حصے کے بھائیوں کیساتھ مل کر اپنے اپنے مورچوں میںڈٹے ہوئے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں اگرچہ میزبان نے دونوں بھائیوں کو دعوت دیکر ان کے خیالات معلوم کئے، مگر اس میں اچھی بات یہ تھی کہ جب ایک بھائی بول رہا تھا تو دوسرا بھائی خاموشی سے سب کچھ سن کر صرف نوٹس (Notes) لے رہا تھا جو اچھی بات ہے۔ درایں حالات یعنی متحدہ کی دو دھڑوں میں تقسیم سے سینیٹ کے آنیوالے انتخابات میں ایم کیو ایم کو نقصان جبکہ پیپلز پارٹی کو فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ پی پی کے سعید غنی نے ایم کیو ایم کے حوالے سے موجودہ صورتحال کو ’’خودکش حملے‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حالات سے ہم فائدہ کیوں نہ اُٹھائیں، دوسری جانب پی ایس پی کے چیئرمین سیدمصطفی کمال نے متحدہ کے دونوں دھڑوں کو پی ایس پی میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔
میں ڈوبنے کا گلہ ناخدا سے کیا کرتا
کہ چھید میں نے کیا تھا خود اپنی ناؤ میں

اداریہ