ایم کیو ایم کی نئی تقسیم‘ الطاف کس کیساتھ ہیں؟

ایم کیو ایم کی نئی تقسیم‘ الطاف کس کیساتھ ہیں؟

کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی بحران کا ظاہری نتیجہ یہ ہے کہ رابطہ کمیٹی نے بغاوت کرتے ہوئے فاروق ستار کی جگہ خالد مقبول صدیقی کو سربراہ منتخب کرلیا جبکہ دوسری طرف فاروق ستار نے انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کا اعلان کرکے پارٹی الیکشن کیلئے الیکشن کمیشن مقرر کردیا۔ کامران ٹیسوری کو سینٹ امیدوار بنانے پر شروع ہوا تنازعہ پارٹی کے دو ٹکڑے کرگیا۔ دو خبریں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں اولاً یہ کہ کامران ٹیسوری کو جب چند ماہ قبل صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر ایم کیو ایم کا امیدوار بنایاگیا تھا تو لندن سے ایک بااعتماد مشترکہ دوست کی معرفت الطاف حسین نے خالد مقبول صدیقی اور چند دوسروں کو ٹیسوری کی انتخابی مہم سے دور رہنے کا مشورہ بھجوایا۔ اس مشورے پر کھلے بندوں عمل ہوا، چند ظاہری ڈراموں کے علاوہ ٹیسوری پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی سے ہار گئے۔ الطاف حسین کراچی میں آج بھی ایک موثر حیثیت اور ووٹ بنک رکھتے ہیں۔ بہادر آباد ایم کیو ایم درحقیقت ان کا چہرہ ہے۔ اطلاع یہ ہے کہ جناب الطاف حسین اور با اختیار لوگوں کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں۔ فاروق ستار کہتے ہیں کہ ایک طویل عرصہ سے پرویز مشرف کو ایم کیو ایم کا قائد بنوانے کے لئے ہاتھ پائوں مارنے والے ہی حالیہ تنازعات کے پیچھے ہیں۔ ٹیسوری پر اختلافات کی دھول صرف ڈرامہ ہے۔ پارٹی پلیٹ میں رکھ کر پرویز مشرف کو پیش کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

بہادر آباد گروپ کو حقیقی معنوں میں الطاف حسین کا نمائندہ نہ ماننے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں بلکہ ملک سے باہر بیٹھے حیدر عباس رضوی‘ بابر غوری اور چند دوسرے سینئر رہنمائوں نے جس طرح پچھلے 15دنوں کے دوران فاروق ستار کے خلاف لابنگ کی وہ بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ فاروق ستار کی ضرورت ختم ہوگئی انہیں ڈھال بنا کر ایم کیو ایم کے سخت گیر عناصر جتنا ریلیف حاصل کرنا چاہتے تھے وہ حاصل کرچکے اور اب وہ 2018ء کے انتخابات کے لئے ایک بار پھر مہاجر کارڈ کے ساتھ منظم ہوں گے۔ خالد مقبول صدیقی‘ فیصل سبزواری‘ عامر خان کسی بھی حالت میں الطاف حسین کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ بہادر آباد گروپ آخری سانس تک الطاف کا وفادار رہے گا سو اگر مالکان اور الطاف کے درمیان مشرف کے حوالے سے معاملات طے پاچکے ہیں اور یہ بھی کہ مشرف ایم کیو ایم کی سیاسی قیادت سنبھالیں گے تو پھر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ طاقتور حلقے ایم کیو ایم سے نئے انداز میں کام لینا چاہتے ہیں اور وہ بھی یہ سمجھ چکے ہیں کہ نمائشی سربراہ فاروق ستار( جو اب پی آئی بی گروپ کے سربراہ ہیں) کسی کام کے نہیں۔ معاملے یا یوں کہیں کرداروں کے مفادات اور مستقبل کی حکمت عملی کو زیادہ آسانی کے ساتھ سمجھنے کیلئے ایف آئی اے کے اس نوٹس پر غور کیجئے جو الطاف حسین کیلئے 2ارب روپے کی منی لانڈرنگ کروانے کے الزام میں ایم کیو ایم کے 10 اہم رہنمائوں کو جاری ہوا اور دوسری طرف الیکشن کمیشن نے کسی حیل و حجت کے بغیر بہادر آباد گروپ کا یہ موقف تسلیم کرلیا کہ سینٹ کے لئے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار رابطہ کمیٹی کے پاس ہے۔ جن 10ارکان کو منی لانڈرنگ میں کردار ادا کرنے پر نوٹس جاری ہوا ان میں سے زیادہ تر بلکہ 10 میں سے 8افراد فاروق ستار کے گروپ میں کھڑے ہیں۔ کیا الیکشن کمیشن کو معلوم نہ تھا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت کسی بھی سطح کے لئے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار پارٹی سربراہ کے پاس ہے اور ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے جو پارٹی الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے اس کی رجسٹریشن فاروق ستار کے نام ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کامران ٹیسوری کو سینٹ کا ٹکٹ دینا وجہ تنازع ہے تو پھر جب انہیں صوبائی اسمبلی کے ایک ضمنی انتخاب میں امیدوار بنایاگیا تو موجودہ بہادر آباد گروپ کیوں خاموش رہا؟ رابطہ کمیٹی کے جس اجلاس میں ٹیسوری کو ڈپٹی کنوینیئر بنانے کا فیصلہ ہوا اس فیصلے پر عامر خان سمیت نہ صرف سب راضی تھے بلکہ سبھی نے خوشی خوشی منظوری دی اور دستخط کئے۔گو فاروق ستار یہ کہہ کر رابطہ کمیٹی توڑ چکے ہیں کہ کمیٹی کے بعض ارکان سرکاری ملازم ہیں۔ مگر کیا فاروق ستار یہ نہیں جانتے کہ ایم کیو ایم کے نچلے درجہ کے 70فیصد عہدیدار اور فعال کارکنان سرکاری ملازم تھے اور ہیں۔انہوں نے اس تنازعہ سے قبل سرکاری ملازمین کو پارٹی سے باہر کا راستہ کیوں نہ دکھایا؟ ان دو باتوں یا یوں کہیں کہ خبروں کے بیچوں بیچ ایک تیسری خبر بھی پرواز کر رہی ہے وہ یہ کہ یہ سارا کھیل عامر خان کا رچایا ہوا ہے اور وہ ایم کیو ایم میں اپنی واپسی کے وقت سے اس امر کے لئے کوشاں تھے کہ ایم کیو ایم متحدہ قومی موومنٹ کے فریب سے نکل کر مہاجر قومی موومنٹ کا کردار دوبارہ سے اپنائے اور تقسیم سندھ کے لئے اپنے بنیادی نظریات کا پرچم بلند کرے۔ فی الوقت بہر طور یہ ہے کہ الطاف بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ فاروق ستار ایکسپائر ہوچکے ہیں وہ پارٹی کو پرانے خطوط پر لے کر چلنے کی اہلیت نہیں رکھتے ان سے ناراضگی کی ایک وجہ ان کی مصطفی کمال کے ساتھ وہ مشترکہ پریس کانفرنس بھی تھی، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فاروق ستار نے کہا تھا کہ حیدر عباس رضوی‘ بابر غوری اور دوسرے لوگوں کے خلاف درج مقدمات کو وہ ختم کر والیں گے مگر وہ اس میں ناکام رہے۔ ٹیسوری کے حوالے سے تنازعہ ایک بہانہ تھا اورہے ورنہ یہ امر سب پر عیاں ہے کہ الطاف حسین کے دست راست سمجھے جانے والے نچلے درجہ کے عہدیداران پچھلے کئی ماہ سے فاروق ستار کی بجائے صدیقی و عامر خان جوڑی سے رابطہ میں تھے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر فاروق ستار نے کہا کہ عامر خان حقیقی ٹو بنانے میں کامیاب ہوگئے مگر وقت فیصلہ کرے گا لوگ کس کے ساتھ ہیں۔

اداریہ