Daily Mashriq


دعا

دعا

ٹینشن آج کے دور کا ایک کثیرالاستعمال لفظ ہے، آج ہماری زندگی میں ٹینشن بہت زیادہ ہے اور ظاہر ہے اس کی وجہ ہمارا طرز زندگی اور مسائل ہیں۔ جہاں تک مسائل کا تعلق ہے تو یقیناً یہ ہر جگہ ہوتے ہیں اور سب کو ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ لوگ جو آئیڈیل صورتحال کے فسانے تراشتے رہتے ہیں یہ صرف افسانے ہی ہوتے ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا! ذوق نے کیا خوب کہا تھا:

اب تو گھبرا کہ یہ کہتے ہیںکہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

یہ دھوپ چھاؤں کا سفر ہے خوشی غمی ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں، انہی ہنگاموں میںایک دن زندگی کی شام ہو جاتی ہے بس اپنے حصے کی زندگی کو مثبت انداز سے گزارنا ہی صاحب کمال ہونے کی دلیل ہے۔ مسئلے کا حل اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب اسے تسلیم کر لیا جائے! اس حوالے سے ہمارے روئیے بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں ہم اچھی بری باتیں اپنے معاشرے سے سیکھتے رہتے ہیں۔ ہم نے جب کبھی کسی تقریب میں شرکت کی ہے ہمیں بڑا فائدہ ہوا ہے۔ پرانے دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے بندہ ایک دوسرے کے حال احوال سے آگاہ ہو جاتا ہے، کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ دوستوں کے مسائل سن کر انسان اپنے دکھ بھول جاتا ہے یہ ساری باتیں گھر بیٹھ کر نہیں سیکھی جاسکتیں! اسی لئے ماہرین نفسیات میل ملاپ پر زور دیتے ہیں۔ عبادات کی اہمیت سے کوئی بیوقوف ہی انکار کر سکتا ہے مگر دوستوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور اپنے ملنے جلنے والوں میں دلچسپی لینا مکمل اور بھرپور زندگی ہے۔ زندگی کو سمجھنے یا گزارنے کیلئے مولانا احمد علیؒنے بڑا مفید اصول بتا رکھا ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں سٹیشن پہنچوں، گاڑی چلنے کیلئے تیار کھڑی ہو، میرا ایک قدم پائیدان پر ہو اور دوسرا قدم پلیٹ فارم ہو، گارڈ سیٹی دے چکا ہو، گاڑی چلنے لگے تو ایک آدمی دوڑتا ہوا آئے اور باآواز بلند پکارے احمد علی احمد علی اللہ پاک کا قرآن سمجھا کے جاؤ۔ میرا دوسرا قدم پائیدان پر بعد میں پہنچے گا میں آنیوالے کو پورا قرآن سمجھا کے جاؤں گا! کسی نے پوچھا مولانا قرآن پاک کے تیس پارے پائیدان پر کیسے سمجھائیں گے؟ آپؒ نے فرمایا قرآن پاک کا خلاصہ تین چیزیں ہیں! رب کو راضی کرو عبادت کیساتھ! حضرت محمد مصطفٰےﷺ کو راضی کرو اطاعت کیساتھ ! اللہ پاک کی مخلوق کو راضی کرو خدمت کیساتھ! عبادت اللہ پاک کی، اطاعت نبی کریمﷺ کی، خدمت مخلوق خدا کی! یہ پورے قرآن پاک کاخلاصہ ہے۔ ہماری ٹینشن کی سب سے بڑی وجہ ہماری زندگی میں توازن کا نہ ہونا ہے! جیسا کہ کالم کے آغاز میں کہا گیا ہے کہ میرے بھائی زندگی اور ٹینشن کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے زندہ انسان کیلئے ہی ساری مصیبتیں ہیں، ہر انسان پرسکون زندگی گزارنا چاہتا ہے، سیٹ ہونا چاہتا ہے لیکن اس کی زندگی کے ماہ وسال سیٹ ہونے میں ہی گزر جاتے ہیں اور وہ سیٹ نہیں ہو پاتا؟ ذرا دیکھئے کس طرح! انسان ساری زندگی سیٹ ہونے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے۔ پہلے سوچتا ہے پڑھ لکھ لوں، اچھی نوکری مل جائے پھر سیٹ ہوجاؤں گا۔ نوکری کے بعد سوچتا ہے شادی ہوجائے، بچے ہو جائیں تو پھرسیٹ ہوجاؤں گا۔ شادی اور بچوں کے بعد ان کے مستقبل کے حوالے سے سوچتا ہے ان کے مسائل سے الگ تھلگ بھی نہیں رہا جاسکتا، الغرض ساری زندگی سیٹ ہونے کی حسرت میں ایک دن موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے! پھر جب قبر میں اُتارا جا رہا ہوتا ہے تو اُوپر کوئی سیانا ہدایات دے رہا ہوتا ہے، کفن کا بند کھول دو، منہ قبلہ رخ کردو، ہاں اب سیٹ ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے یہاں آکے سیٹ ہوتا ہے انسان! آپ نے سیٹ ہونے کے تمام مراحل دیکھ لئے! عرض یہ کرنی ہے کہ سب کچھ ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے مصیبت سے گھبرانا سب سے بڑی مصیبت ہے۔ کل ایک رشتہ دار خاتون سے ہماری ملاقات ہوئی انہوں نے پرنم آنکھوں سے اپنی ساس کی پریشان کن بیماری کا قصہ سنایا آج اگرچہ حالات کافی حد تک بدل چکے ہیں ساس کی خدمت کرنے والی بہو کالے گلاب کی طرح نایاب ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج بھی مشرقی روایات واقدار کسی نہ کسی درجے میں نبھائی جارہی ہیں، خاتون نے اپنی ٹینشن اور پریشانیوں کا احوال سنایا صورتحال یقیناً بڑی نازک تھی! ہم نے ان کی ہمت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی پاسداری کی داد بھی دی اور اپنی عادت کے مطابق یہ مشورہ بھی دیا کہ آپ اپنی ساس کو اپنے لئے بہت بڑا سرمایہ سمجھیں ان کی خدمت سے آپ کی شخصیت کی تکمیل ہورہی ہے، آپ خدمت جیسا اہم فریضہ سرانجام دے رہی ہیں، عبادت کرنے سے جنت ملتی ہے اور خدمت کرنے سے اللہ پاک مل جاتا ہے! ہر مسئلے نے ایک نہ ایک دن ضرور ختم ہونا ہوتا ہے، اس خدمت کے صلے میں آپ کو دعا جیسی نعمت مل رہی ہے اور جن کے پیچھے دعا ہوتی ہے وہی دنیا وآخرت کے کامیاب اور پرسکون لوگ ہوتے ہیں، ہر کسی کے نصیب میں دعا نہیں ہوتی یہ تو بڑے نصیب والوں کو ملتی ہے!۔

متعلقہ خبریں