میران شاہ کی حالتِ زار

میران شاہ کی حالتِ زار

کئی سالوں کے بعد میران شاہ اور درپہ خیل جانے کا اتفاق ہواور یہ کئی سال اس علاقے میںدہشت گردی اور پھر آپریشنز کی نذر ہوگئے جن میں آپریشن ضربِ عضب قابلِ ذکر ہے۔ دہشت گردی اور پھر اس دہشت گردی کے خاتمے کے دوران اس علاقے کی حالتِ زار اور لوگوں کی نقل مکانی اور ان کی مشکلات کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ اگرچہ آج بھی بہت سے لوگ اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن ان میں کچھ لوگ واپس آچکے ہیں ۔ یہاں پر اپنے علاقے میں واپس آنے والے لوگوں کی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس علاقے میں موسم سرما خشک اور گرد آلود ہوتا ہے اور درختوں کے پتے زرد ہوجاتے ہیں جس سے پورے علاقے کا ماحول اُداس اُداس محسوس ہوتا ہے ۔اگرچہ علاقے کی تعمیرِ نو کے منصوبوں کے تحت نئی سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں لیکن ٹریفک کی روانی بہت کم ہے جبکہ دہشت گردی کے عفریت سے پہلے یہاں پر بے پناہ رش ہوتا تھا۔ شمالی وزیرستان سے باہر نکلنا اور شمالی وزیرستان میں داخل ہونا انتہائی مشکل ہے۔ اگر آپ نے شمالی وزیرستان میں سفر کرنا ہے تو آپ وطن کارڈ کے بغیر سفر نہیں کرسکتے ۔ اگرچہ آپ کے پاس دیگر شناختی دستاویزات بھی موجود ہوں تب بھی آپ کو وطن کارڈ لازمی طور پر اپنے ساتھ رکھنا ہوگا ورنہ آپ کو شمالی وزیرستان میں سفر کرنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ایک وقت ایسا بھی تھا جب میران شاہ آبادی اور خوشحالی کے حوالے سے پارا چنار سے کافی آگے چلا گیا تھا لیکن آج صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایف سی آر جیسے قانون کی تمام پابندیوں کے باوجود میران شاہ فاٹا کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا شہر تھا۔ ملک کے دوسرے علاقوں سے لوگ یہاں کاروبار کرنے کی غرض سے آتے تھے اور افغانستان کے علاوہ ملک کے اندر دیگر علاقوں میں جانے کے لئے ٹیکسیاں، بسیں اور کوچز ہر وقت دستیاب ہوتی تھیں۔ افغانستان سے پھل ، گندم ، خوردنی تیل اور عمارتی لکڑی کے علاوہ دیگر اشیائے صرف کے بھرے ٹرک اس علاقے میں آتے تھے اور یہاں سے ملک کے دیگر علاقوں کو مال سپلائی کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میران شاہ کو سرائے میران شاہ بھی کہا جاتا تھا۔ اگر آج کے میران شاہ کو دیکھا جائے تو اس میں پرانے اور زندگی سے بھرپور میران شاہ کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی ۔ آج کے میران شاہ میں بازار ، گھر اور گودام مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں اور اس وقت آپ کو ان عمارتوں کا ملبہ بھی نظر نہیں آئے گا۔آج کے میران شاہ میں کسی کو بھی اپنی زمین پر عمارت تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے اور حکومت کی جانب سے تعمیر کی گئی نئی عمارتوں کے علاوہ آپ کو علاقے میں کوئی عمارت سر اٹھا کر کھڑی نظر نہیں آئے گی۔ علاقے کے کالج بند ہو چکے ہیں اور موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد ہے ۔ بجلی ناپید ہوچکی ہے اور موبائل فون بھی صرف کچھ علاقوں میں فعال ہیں لیکن ان علاقوں میں بھی انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں ہے۔ اِس وقت کا میران شاہ بہت خاموش ہے جو ماضی کے میران شاہ کے بالکل برعکس ہے۔ حالیہ برسوں اور ماضی قریب میں میران شاہ میں ہونے والی تباہی کی وجہ سے آج اس شہر اور علاقے کو تعمیرِ نو کے جامع منصوبے کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت نے میران شاہ میں کچھ چھوٹے پارک اور مارکیٹیں تعمیر کی ہیں جن پر حکومت کا اپنا کنٹرول ہے اور جب حکومت نے اپنی تعمیرات کے لئے تعمیراتی میٹریل پر ٹیکس کی چھوٹ دی تو بہت سے لوگوں نے علاقے میں تعمیراتی میٹریل منگوا لیا جو اس وقت سڑکوں کے کناروں پر پڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اس وقت میران شاہ کے لوگ یہی ایک کاروبار ہی کرسکتے ہیں جبکہ دوسرے کسی بھی کاروبار کی اجازت نہیں ہے۔عمارتوں کی تعمیر کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے درپہ خیل کے باسیوں نے شہر سے باہر جھونپڑیاں بنانی شروع کردی ہیں جو کہ آبی گزرگاہوں میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہیں۔ کوئی بھی کاروباری شخص اس علاقے میں سرمایہ کاری کرنے سے ڈر رہا ہے کیونکہ ان لوگوں کے دل میں حالات دوبارہ خراب ہونے اور علاقہ چھوڑ کر جانے کا خوف بیٹھ چکا ہے۔ جو لوگ اس علاقے سے نقل مکانی کرچکے ہیں ان کے پاس واپس آنے کے لئے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ مڈل ایسٹ میں اپنا خون پسینہ بہا کر تھوڑی سی جائیداد اور کچھ مویشیوں کے مالک اس وقت دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ۔ ٹپی اور اداک میں ہونے والے حالیہ واقعات نے بھی واپس آنے والے لوگوں کے خدشات میں اضافہ کردیا ہے اور بہت سے خاندان ایسے بھی ہیں جو دوبارہ اپنا علاقہ چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیںاورجو لوگ نقل مکانی نہیں کرسکتے وہ حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ علاقے میں موجود لوگوں کی زندگی کا انحصار اس قلیل امداد پر ہے جو این جی اوز کے ذریعے ان کو مل رہی ہے جبکہ حکومت اور دیگر عالمی امدادی ادارے رواج اور دیگرقوانین میں اصلاحات لانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔خیبر پختونخوا کے گورنر کو فاٹا کے علاقوں کا دورہ کرتے رہنا چاہیے اور وہاں لوگوں کو کاروبار اور ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کے لئے ایمرجنسی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ واپس آنے والے لوگوں پر عائد مختلف پابندیوں کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے اور حکومت کو اپنے فرائض کا ادراک کرتے ہوئے لوگوں کی زندگی آسان بنانے کے لئے کام کرنا چاہیے۔ (بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ