Daily Mashriq


پختون قیادت کا شکوہ اور معروضی حقائق

پختون قیادت کا شکوہ اور معروضی حقائق

قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے جاری اور گزرے ہوئے حالات کے پس منظر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جو بات کہی ہے اس کا سیاسی پس منظر اپنی جگہ لیکن اس سے مکمل انکار کی گنجائش نہیں کہ پختونوں کو حقوق دینے اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکومت اور ریاست سے توقعات کا اظہار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پختون خطہ گزشتہ چار دہائیوں سے کشت وخون کا شکار ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پختونوں کے زخموں پر مرہم لگانے میں مزید تاخیر نہ کی جائے کیونکہ اگر ان کے مصائب اور مشکلات کو نظرانداز کیا گیا تو اس سے نہ صرف ان کی مایوسیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ ریاست سے بھی وہ مزید متنفر ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی سے پختون سماجی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پختون قیادت کو دانستہ طور پر پارلیمنٹ سے باہر رکھا گیا ہے اور سوال اٹھایا کہ اس اقدام سے کیا پیغام مقصود ہے۔ گزشتہ روز ہی اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے اجلاس میں ایک گروپ سے مذاکرات اور ان کے تحفظات دور کرنے کا جو عندیہ دیا گیا ہے وہ اپنی جگہ اس امر کا اظہار ہے کہ خود حکومت اور حکومتی اداروں کو بھی اس خطے کی محرومیوں اور یہاں پائی جانے والی بے چینی کا احساس وادراک ہے اور وہ ان کے حل کی خواہاں ہے۔ محولہ گروپ اگر سو فیصد نوجوانوں پر مشتمل نہیں تو اس کی غالب ترین اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے جس کی قیادت بھی کسی پیر مغاں کے نہیں ناتجربہ کار فرد کے پاس ہے۔ اس گروپ کی سرگرمیوں سے تحرک کی جو شکل ابھر رہی ہے اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ علاوہ ازیں ان کے لفظی وتحریری مطالبات کسی طور بھی آئینی دائرہ کار اور قانونی حدود وقیود سے باہر نہیں فی الوقت اگر گرگ باراں دیدہ قوم پرست سیاستدانوں کی بجائے اس گروپ کے پاس علم قیادت قرار دیا جائے تو خلاف حقیقت نہ ہوگی اب اس گروپ کے تحفظات اور مطالبات پر مذاکرات کے فیصلے کی بیل کب اور کیسے منڈھے چڑھتی ہے اس بارے یقین سے اس لئے کچھ کہنا مشکل ہے کہ حکومتی عندیہ کے باوجود ایسا ہونے کا امکان بوجوہ کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ جہاں تک پختونوں کی محرومیوں کا تعلق ہے ایک خاص گروپ کے تناظر سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو پختونوں کیساتھ ہونے والی معاشی ناانصافی اور پختونوں کے علاقوں کے وسائل پر خوداختیاری کا نہ ہونا وفاق کا صوبے کیساتھ معاندانہ رویہ یہ سب کچھ جذباتی نوجوانوں کے جذبات کے اظہار کا محض وقتی اظہار نہیں بلکہ ان محرومیوں کے پس پردہ ہر دور حکومت اور ہر حکمران کے دور میں ہونے والی وہ ناانصافیاں ہیں جن سے کسی کو انکار نہیں باقی ادوار کو ایک طرف رکھ کر اگر خیبر پختونخوا سے بنیاد کھڑی ہونے پر مرکز میں حکومت حاصل کرنے والی موجودہ قیادت وحکومت کا پختونوں کیساتھ رویہ دیکھا جائے تو محرومی کا خوابیدہ احساس پوری شدت سے اجاگر ہوتا ہے اس پر دکھ اور افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ذاتی طور پر یقین دہانی اور وعدوں کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت کو بجلی کے خالص منافع کے اربوں روپے کے بقایاجات کی ایک قسط بھی نہ تو دی گئی ہے اور نہ ہی اس کا امکان ہے۔ حقدار کا حق تسلیم کرنے کے بعد اسے حق کی ادائیگی کی بجائے کمیٹی کا قیام چہ معنی دارد؟ جہاں تک پختون قیادت کو پارلیمنٹ سے دانستہ باہر رکھنے کی بات ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ محولہ محرومیوں کی ذمہ داری سے پختونوں کی سیاست اور قیادت کرنے والے جغادر سیاستدان سیاسی جماعتیں کسی طور بھی بری الذمہ نہیں۔ ماضی کی پختون قیادت ہو یا ماضی قریب میں پختون قوم پرستی کا علم اُٹھانے والے یا موجودہ سبھی کو اس صوبے پر حکمرانی اور مرکز میں حکمران جماعتوں کا حصہ بننے کے ایک یا اس سے زائد مواقع ملے ہیں لیکن اس وقت مصلحت یا پھر اگر اسے سودے بازی گردانا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا سے کام لیا گیا جو لوگ اخلاص کیساتھ پختونوں کا مقدمہ لڑتے رہے انہوں نے تو الزام برداشت کئے مگر پختونوں کی آواز بنے رہے جب وہ نہ رہے اور قیادت تبدیل ہوئی تو مصلحت پسندوں اور مفاد پرستوں کو پختونوں سے زیادہ اپنی فکر تھی۔ ایسے میں بجائے اس کے کہ پارلیمنٹ سے آؤٹ کئے جانے کی شکایت کی جائے اگر صوبے کی جملہ سیاسی جماعتیں اپنے کردار وعمل کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں تو شاید کوئی سبق سیکھا جاسکے۔ ہمارے تئیں صوبے کے حقوق کا جہاں معاملہ ہو وہاں حکمران جماعت دینی جماعت اور قوم پرست جماعت کی تقسیم کی بجائے اگر صوبائی حقوق اور عوام کو ان کے وسائل دلانے کا وتیرہ اختیار کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اس وقت بھی صوبے کی حکومت اس ضمن میں جملہ سیاسی قیادت کی حمایت اور مدد درکار ہے خواہ حکومتی عناصر اس کا اظہار کر پائیں یا نہیں حزب اختلاف کی جماعتوں کو حکومتی مجبوریوں کا ادراک کرتے ہوئے بجلی کے خالص منافع اور وسائل کے حصول کے مطالبے کیساتھ ازخود آگے آنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں