Daily Mashriq

 بی آر ٹی کے افتتاح کیلئے تازہ اصطلاح

بی آر ٹی کے افتتاح کیلئے تازہ اصطلاح

پشاور میٹرو بس منصوبے کے سافٹ افتتاح کی اصطلاح کے بعد علامتی افتتاح کا استعمال دلچسپی کا باعث اس لئے ہے کہ اس لفظ کے استعمال سے حکومت ازخود 23مارچ کو اس منصوبے کی تکمیل کے دعوے سے دستبردار ہوگئی ہے اب اس کے افتتاح کی نئی تاریخ 30جون قرار دیا جاسکتا ہے بشرطیکہ بار بار کی دی گئی تاریخ تکمیل کی طرح یہ تاریخ بھی آگے نہ بڑھے اور حتمی تاریخ بن کر شہریوں کیلئے خوشگوار حیرت کا باعث بنے۔ صوبے کے نئے چیف سیکرٹری کو متعلقہ حکام نے بریفنگ میں جو تفصیلات پیش کی ہیں اور منصوبے کی جن تفصیلات اور تکمیلی مدت سے آگاہ کیا ہے اس پر اطمینان کا اظہار نہ کرنے اور مشکوک گرداننے کی ایک سے زیادہ وجوہات ہیں جس میں سب سے معلوم وجہ متعلقہ حکام کے قول وفعل کا تضاد، ہر بار اور ہر اجلاس میں ایک نئے لفظ کا استعمال ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں بریفنگ کے دوران 23مارچ کو منصوبے کا ’’سافٹ افتتاح‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا جس کے معنی ومفہوم جو بھی تھے اب چیف سیکرٹری کو بریفنگ میں جزوی افتتاح کا مژدہ سنایا گیا اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ اس منصوبے کی مدت تکمیل کی جو تاریخ دی گئی تھی وہ گزشتہ سال یا شاید اس سے بھی قبل گزر چکی ہے۔ علامتی افتتاح کی مجبوریاں اور مثالیں دہشتگردی کیخلاف جنگ کے دوران قبائلی علاقہ جات کے منصوبوں کا گورنر ہاؤس پشاور میں افتتاح کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔ معلوم نہیں ایسی کیا رفتار پھر آن پڑی کہ بی آر ٹی کے علامتی افتتاح کی تاریخ دی جا رہی ہے کیا اس قسم کی لفظی شعبدہ بازیوں سے یہ بہتر نہ تھا کہ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں حکام عوام کو اس ضمن میں اعتماد میں لینے کیلئے واضح طور پر کہا جاتا کہ بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل ایک مرتبہ پھر اعلان شدہ تاریخ پر ممکن نہیں‘ حکمران بار بار تاریخیں دیکر بار بار عملی طور پر ناکامی سے دوچار ہونے کے جس کردار وعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں انہیں خود سوچنا چاہئے کہ کیا اس طرح وہ ازخود اپنے اعتماد اور اعتبار کو مذاق بنانے کا خود ہی ذریعہ نہیں بن رہے ہیں۔

ناکام اقدامات وا علانات کی بھلا کیا ضرورت؟

خیبر پختونخوا حکومت کے قبائلی اضلاع میں عدالتی نظام قائم کرنے کیلئے 907اسامیاں تخلیق کرنے کی منظوری کیساتھ قبائلی اضلاع میں عدالتی نظام کے قیام بارے عملی اور ٹھوس پیشرفت نظر آتی ہے۔ ان اسامیوں کی منظوری سے رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کو آگاہ کرنے سے اس پر مزید مہر تصدیق ثبت ہوگئی ہے اس کے باوجود قابل توجہ امر یہ ضرور ہے کہ حکومت نے اس امر کا عندیہ دے دیا ہے کہ قبائلی اضلاع میں عدالتی نظام کیلئے تخلیق کردہ اسامیوں پر آنے والے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے رقم دیگر شعبوں سے منتقل کی جائے گی۔ قبائلی اضلاع میں عدالتی نظام کے قیام کی ضروریات اور عملے کی تقرری تک کے مراحل کیلئے تقریباً سولہ ارب روپے کا تخمینہ خود حکومتی حلقوں کا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وہ کونسے شعبے ایسے ہیں جہاں فنڈز ووسائل اس قدر فاضل ہیں کہ وہاں سے سولہ ارب روپے کی منتقلی کی گنجائش ہے۔ یہ اس قسم کے اقدامات ہی ہیں جس کے باعث فاٹا انضمام کا مرحلہ ابھی تک اجلاسوں اور دعوؤں کی بجائے عملی طورپر ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ قبائلی اضلاع میں تھانوں کا قیام اور پولیس کا وجود ہی نہیں لیکن ایف آئی آر کے اندراج کا عمل عارضی اور متبادل انتظامات کے تحت شروع تو ہوچکا ہے لیکن مزید قانونی کارروائی کی کیا صورت ہوگی اس کا شاید انتظام نہیں۔ عبوری اور عارضی انتظامات وہیں ہوتے ہیں جہاں مجبوریاں لاحق ہوں جہاں امکانات اور عملدرآمد دونوں موجود ہوں وہاں اس قسم کی ڈنگ پٹاؤ پالیسیاں نہیں ہونی چاہئیں۔

لیڈی ریڈنگ کی روح سے معذرت کیساتھ

صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال میں یکے بعد دیگرے جگ ہنسائی پر مبنی حالات وواقعات اب ناقابل برداشت ہوگئے ہیں جس سے حکومت کا اعتماد اور عوام کا اعتبار بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ ابھی ہسپتال میں شرح اموات میں اضافہ اور سہولیات کی ناپیدگی کا قضیہ ذہنوں میں تازہ تھا کہ یہ مضحکہ خیز خبر سامنے آگئی کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے نرسری وارڈ کے ڈاکٹرز نے زندہ سلامت بچے کو مردہ ڈکلیئر کرتے ہوئے والدین پر قیامت ڈھا دی۔ موت کی خبر پر تدفین کے انتظامات ہوئے لیکن جنازے سے قبل بچے کے زندہ ہونے کی اطلاع دی گئی اور اس کے کئی گھنٹے بعد بچے کی لاش والدین کو حوالے کردی گئی جس کی وجہ سے پورا خاندان دن بھر بے یقینی کی صورتحال سے دوچار رہا۔ قارئین نے گزشتہ روز کی اشاعت میں تفصیلی خبر ضرور ملاحظہ کی ہوگی جس پر مزید تبصرے کی گنجائش نہیں سوائے اس کے کہ اس فرنگی کی خاتون کی روح ضرور تڑپی ہوگی جنہوں نے بڑے خلوص سے اس ہسپتال کا قیام ممکن بنایا تھا۔

متعلقہ خبریں