Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

تحریر وتقریر سوشل میڈیا پر گپ شپ سبھی پر پابندی ممکن ہے طاقت کے بل بوتے پر جسموں کی حرکیات پر بھی پابندی ممکن ہے مگر جس طرح پانی اپنا راستہ سنگلاخ چٹانوں سے لے کر اونچ نیچ والے مقامات میں ہر جگہ بنا لیتا ہے اور اگر نہیں بنا پاتا تو جوہڑ اور بدبودار بن کر احتجاج کرنے لگتا ہے اسی طرح اولاً اظہار اور خیالات اپنے لئے ہر حال میں راستے بنا لیتے ہیں اور جہاں ایسا نہ کرسکیں وہ بھی پانی کی فطرت اپنا لیتے ہیں۔ اظہار کا ایک طریقہ ہوتا ہے نہ ایک ذریعے تک محدود ہوتا ہے، اظہار کیلئے تو الفاظ اور ذریعے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ کچھ جذبات تو بغیر اظہار کے بھی جن سے ان کا اظہار مطلوب ہو ازخود پیغام ہی نہیں دیتے جوابی پیغام لے کے بھی آتے ہیں، آنکھوں ہی آنکھوں میں پیار کا پیغام لفظوں اور تحریر سے کہیں زیادہ موثر ہوتا ہے کہ نہیں؟ پیار کا اظہار لفظوں اور حروف کا بالکل بھی محتاج نہیں ہوتا، پیار کا پیغام تو بادصبا بھی لے جاتی ہے، کہئے بادصبا کو کوئی روک سکتا ہے! بادصموم کے آگے کوئی بند باندھ سکتا ہے؟ اظہار کے ذرائع، جذبات کے اظہار یہاں تک کہ نگاہوں ہی نگاہوں میں رابطہ Eye contact سب پر پابندی لگا دی جائے، پابند سلاسل کیا جائے، کال کوٹھری میں ڈال دیا جائے تو اس دل کا کیا کروگے جو دھڑکتا تو ایک کے سینے میں ہے اور اس کی دھڑکنیں سات سمندر پار سنائی دیتی ہیں۔ یہ تو فطرت کے طریقہ ہائے اظہار تھے خود حضرت انسان نے کتنے طریقہ ہائے اظہار ایجاد کئے۔ دنیا میں کتنی زبانیں اور بولیاں بولی جاتی ہیں اس کے درست اعداد وشمار تو کسی کے پاس بھی نہیں یہ سب کیا ہے مروج زبانوں اوربولیوں کے علاوہ حساس اداروں سے لے کر قافلہ عشاق تک ہر کوئی اپنی اپنی ضرورت کے تحت بولی نہیں بولتے ایک دوسرے کو پیغام نہیں دیتے شعراء کتنے اشارے کنائے اور استعاروں کا استعمال کرتے ہیں وہ تو جذبات کو لفظوں میں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جذبات الفاظ کا قالب ڈھال کر سامنے آکر دل کو چھو لینے والی مسکان دے جاتی ہے۔ ذومعنی الفاظ کا استعمال کرکے لوگ تو قانون کے شکنجے کو بھی مات دے جاتے ہیں، ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ قسم کے لفظی قالب لئے الفاظ کی زنجیروں کو کسی ستم گر حکمران اور ریاست نے اگر پابجولاں کرنے کی کبھی سعی کی تو کیسی کیسی مزاحمت کیسے کیسے ذرائع کیسے کیسے طریقے اور کس درجے کی ہمت و مزاحمت تاریخ کا حصہ ہیں۔ حبیب جالب اور فیض احمد فیض کا کلام پڑھئے انہوں نے حکومت وقت وریاست اور آمران وقت کا تو نام بھی نہ لیا۔ جالب ظلمت (شب‘ تاریکی) کو ضیا (روشنی) ظلمت کو ضیاء کیا لکھنا‘ صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا کی نظم سنا گئے۔ فیض خون دل میں انگلیاں ڈبو گئے آج نہ ضیا ہے‘ نہ جالب اور نہ فیض مگر ظلمت کو ضیا اور خون دل میں ڈبوئی انگلیوں کا چرچا اسی طرح ہے اور ضیاء کی باقیات کا طعنہ بھی اب باقی نہیں رہا۔ لگتا ہے مزاحمتی صحافت‘ مزاحمتی ادب اور مزاحمتی سیاست کے نئے باب کھلنے والے ہیں۔

متعلقہ خبریں