Daily Mashriq

پاکستان کے مفادات کا تحفظ ضروری ہے

پاکستان کے مفادات کا تحفظ ضروری ہے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کو یمن تنازع میں جھونکنے کی کوشش یا سازش نہیں ہو رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پاکستان کے وزیرخارجہ کا کہنا تھا aکہ جب حکومت میں آئے تو پاک سعودی تعلقات سردمہری کا شکار تھے۔ انہوں نے اس سرد مہری پر کوئی روشنی نہیں ڈالی، سعودی عرب ان ممالک میں سے ہے جس کے پاکستان کیساتھ ہمیشہ تعلقات شاندار رہے ہیں تاہم شاہ محمود قریشی کا کہنا درست ہے کہ سابقہ حکومت کے دور میں سعودی عرب کیساتھ تعلقات کچھ کھنچے کھنچے سے رہے جس کی ایک وجہ سامنے آئی کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے یمن تنازع کے موقع پر سعودی عرب کی جانب سے طلب کردہ تعاون یعنی پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجنے سے منع کر دیا تھا جس پر بحرین اور عرب امارات کی جانب سے شدید ردعمل بھی ظاہر کیا گیا تھا۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کے پہلے دورے کے بعد فرمایا تھا کہ پاکستان یمن کیساتھ تنازع میں مفاہمت کا کردار ادا کرے گا ان کے اس بیان سے یہی نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جو تعلقات کی خلیج پیدا ہوئی ہے اس سلسلے میں پاکستان کی طرف سے کچھ یقین دہانیاں نئی حکومت کی طرف سے کرائی گئی ہیں جس سے خلیج پاٹ دی جائے گی اور بہتری کی طرف قدم بڑھائیں گے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے پے درپے عرب ممالک کے کئی دورے کیے جس سے یہ اندازہ ہوا کہ عمران خان کا رجحان عرب ممالک کی طرف زیادہ ہے جبکہ عرب ممالک نے بھی ماضی قریب کے حالات کے مقابلے میں پاکستان کیساتھ گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور ان کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے رجحان میں بھی شدت سے دلچسپی محسوس کی گئی خاص طور پر سی پیک کے منصوبے میں شامل ہونے کی خبریں آتی رہی ہیں ۔بہرحال پاکستان کی موجودہ حکومت کیساتھ عرب ممالک کے روئیے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ عرب ممالک سابقہ حکومت یعنی نواز شریف کی حکومت یا نواز شریف سے کھنچی کھنچی سی تھی۔ اس کی کیا وجہ تھی اس بارے میں کوئی مصدقہ بات تو نہیں کہی جاسکتی لیکن یمن کے تنازع کو ہی اس معاملے میں مرکزیت حاصل رہی ہے۔ بہرحال فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کا تھا اور تحریک انصاف بھی اس امر کی مخالف تھی کہ پا کستان یمن کے مسئلے میں اُلجھے، چنانچہ عمر ان خان نے فوج بھیجنے کی مخالفت کی تھی۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ پا کستان کے عرب ممالک کیساتھ ماضی کی طرح خوشگوار تعلقات کی بحالی ہوئی بلکہ ماضی سے بھی زیادہ بہتر تعلقات کا اعادہ نظر آرہا ہے جو پاکستان کے مفاد میں ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ بن سلمان ایک بہت بڑے وفد کے ہمراہ پاکستان تشریف لائے ہیں جس کے بارے میں پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اس سے قبل اتنا بڑا سعودی وفد کبھی بھی پاکستان نہیں آیا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سعودی کمپنیوں کے سربراہان بھی ہمراہ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس دورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف معاہدوں کی یادداشت پر دستخط کی خبریں شامل ہیں جس کے مطابق سعودی عرب پاکستان میں دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم منصوبوں کیلئے مفاہمتی یادداشت یعنی ایم او یوز پر بھی پر دستخط کریں گے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ان ڈیموں کیلئے فنڈ دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ سعودی عرب کیساتھ بجلی کے پانچ منصوبوں کیلئے ایک ارب بیس کروڑ 75 لاکھ ریال کے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کئے جائیں گے۔ دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے 37کروڑ 50لاکھ سعودی ریال جبکہ مہمند ڈیم کیلئے 30کروڑ اور شونتر منصوبے کیلئے 24کروڑ 75لاکھ ریال فراہم کئے جائیں گے۔ اسی طرح سعودی عرب کی طرف سے جامشورو پاور پراجیکٹ کیلئے 15کروڑ 37لاکھ ریال فراہم کیے جائیں گے۔ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 13کروڑ 12لاکھ ریال فراہم کیے جائیں گے۔ اگر جائزہ لیا جائے تو سعودی عرب کی جانب سے یہ بہت بڑی سرمایہ کاری کا تعاون ہے۔ بہرحال حکومتی سطح پر جو بھی معاملات ہوتے ہیں اس پر مختلف طبقوں اور حلقوں کی طرف سے رائے زنی بھی کی جاتی ہے جو اپنے اپنے گمان کے مطابق اور اپنی سوچ کے مطابق ہوا کرتی ہے۔ شاہ محمود قریشی ایک بڑے عہدہ جلیلہ پر فائز ہیں منجھے سیاستدان ہیں، ماضی میں بھی پی پی پی کی حکومت کے دوران وزیر خارجہ رہے ہیں۔ خارجہ امور کو پرکھ سکتے ہیں۔ تاہم یمن کے حوالے سے بات ہو رہی ہے وہاں پر اس امر کا بھی ذکر ہو رہا ہے کہ امریکا سی پیک کے منصوبے کے معاملے میں الگ سی سوچ رکھتا ہے اور اس نے سی پیک کے منصوبے پر ناپسندیدگی کا اظہار بہت ہی کھلے انداز میں کیا ہے چنانچہ بعض حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ امریکا سی پیک کی راہ میں رکاوٹ ہے جس کی بڑی وجہ چین کے اثر ورسوخ کے پھیلاؤ کو قبول نہ کرنا ہے چنانچہ اس سلسلے میں وہ مختلف انداز میں کام کر رہا ہے تاکہ چین مشرق وسطیٰ تک اپنے پاؤں نہ پھیلا سکے چنانچہ پاکستان کی نئی حکومت کے قیام کیساتھ ہی امریکی روئیے میں بھی کافی لوچ پیدا ہوئی ہے اور عرب ممالک جو امریکہ کے زیراثر یا یوں کہہ لیجئے کہ اس کے قریب تر ہیں ان کے رویوں میں بھی پاکستان کیلئے گرم جوشی پیدا ہوئی ہے اور انہوں نے بھی بوریوں کے منہ کھول دینے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکہ بھارت کی خواہش کے مطابق سی پیک کا منصوبہ ختم تو نہیں کرا سکتا ہے اس لئے اس نے اپنی پالیسی میں تبدیلی پیدا کی ہے۔ چین کے اثرات کو کم کرنے کیلئے دوسروں کی زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی طرف رجحان پیدا کرنے کی سعی کی گئی تاکہ چین کے مقابلے میں سرمایہ کاری کہیں زیادہ ہو جس کا مقصد یہ ہے کہ سی پیک کے منصوبوں میں چین ہی صرف واحد پارٹنر نہ رہے (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں