Daily Mashriq

پولیس کا نظام۔۔ بمقابلہ نیا پاکستان

پولیس کا نظام۔۔ بمقابلہ نیا پاکستان

میں آج سے کالموں کا ایک ایسا سلسلہ شروع کر رہا ہوں جو آپ کو پرانے پاکستان کی سیر کروائے گا اور ہم سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ نئے پاکستان کے آرکیٹیکٹ اس ضمن میں کیا نیا کام کر رہے ہیں۔

حال ہی میں لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے تحت قائم پولیس ریفارمز کمیٹی نے اپنی رپورٹ تیار کی ہے، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں نے اپنے حق کو جس طرح استعمال کیا وہ یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ پولیس میں سیاسی مداخلت اور اُسے اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول کرنے کی ہوس پوری بے تابیوں کیساتھ قائم رہی۔ اس رپورٹ کی فائنڈنگز اور سفارشات میںکالم کے آخری حصے میں شیئر کروں گا پہلے پرانے پاکستان والوں کا حال جان لیں۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اس ضمن میں سب پر بازی لے گئی۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد سندھ حکومت نے آؤ دیکھا نہ تاؤ جھٹ سے پولیس آرڈر2002ء کو ختم کر دیا اور اس کی جگہ انگریز دور کا بنایا ہوا پولیس ایکٹ1861ء ایک بار پھر نافذ کر دیا۔ اب کون نہیں جانتا کہ 1861ء کے پولیس ایکٹ کے عزائم کیا تھے۔ مقامی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے انگریز نے جو پولیس ایکٹ متعارف کرایا اس کے مقاصد اس کے سوا کیا تھے کہ ہندوستانیوں کو دباؤ میں رکھنے کیلئے پولیس کو استعمال کیا جائے۔ اس نظام کی برائیوں میں سب سے بڑی برائی کنٹرولڈ انوسٹی گیشن اور پولیس کے احتساب کا ناقص میکنزم ہے۔ اس نظام میں پولیس عوام کی خادم اور مددگار ہونے کی بجائے ان کی حاکم تھی اور آج بھی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کو اُس دور میں لے جانا چاہتی ہے جب عوام اور حاکموں کا تعلق رعایا اور آقا والا تھا۔ ان حکمرانوں سے آپ کیا توقع کرتے ہیں کہ یہ پاکستان کو کہاں لے کر جائیں گے۔ انگریز کے جانے کے بعد یہ ہمارے لئے ان کے جانشین بن کر حکومت کرنا چاہتے ہیں اور ثبوت کے طور پر ان کا یہ اقدام ہمارے سامنے موجود ہے۔ پاکستان کے معروضی حالات اور عوام کی تکالیف کو مدِنظر رکھتے ہوئے پولیس کے نظام میں جو اچھی ریفارمز141سال بعد تجویز کی گئیں وہ انہیں قبول نہ ہوئیں اور ان کی نگاہ کا مرکز انگریز کا بنایا ہوا قانون بنا چونکہ اس قانون کی وجہ سے یہ سندھ کے عوام کو طویل عرصہ تک محکوم بنا کر رکھ سکتے ہیں۔

اب آئیے دوسری جماعت مسلم لیگ ن کے طرزعمل کی طرف اور دیکھئے کہ انہوں نے عوام کی تکالیف کے ازالے کیلئے پنجاب میںکیا کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں پولیس آرڈر 2002کو برقرار رکھا گیا یعنی یہ نظام اُن کی نظر میں اتنا برا نہ تھا ورنہ پیپلز پارٹی کی بجائے جنرل مشرف کے وضع کردہ پولیس کے نئے نظام سے ان کو زیادہ تکلیف ہو سکتی تھی۔ اس بات کا قطعاً مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے پولیس آرڈر2002ء کو صحیح ’’لیٹر اینڈ سپرٹ‘‘ میں نافذ کیا۔ امر واقع یہ ہے کہ لیگی اقتدار نے اس پولیس آرڈر کی اُن شقوںکو عملاً مفلوج کر دیا جو عوامی تکالیف کے ازالے کیلئے قانون میں رکھی گئی تھیں۔ پولیس آرڈر2002ء کی سب سے اہم خوبی پولیس کو ’’اکاؤنٹیبل‘‘ بنانا اور اس پر عوامی چیک رکھنا ہے۔ پنجاب کے حکمرانوں نے جن کے لہجے‘ عوام کی ہمدردی کی باتیں کرتے ہوئے گلوگیر ہو جاتے ہیں اپنے عوام کو یہ اختیار دینا گوارہ نہیں کیا۔ پنجاب کے تمام اضلاع میں پبلک سیفٹی کمیشن اس لئے نہ بن سکے چونکہ پنجاب کے جمہوریت نواز لوکل گورنمنٹ الیکشنز کروانا نہ چاہتے تھے۔ بعد ازاں جب یہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے مجبور ہوئے تو انہوں نے 2013ء میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ دیا اور الیکشن2015ء میں جا کر منعقد کروائے۔ 2015ء میں بھی مرحلہ وار الیکشن کا ڈول ڈالا گیا تاکہ یہ سال بھی ضائع ہو جائے۔ 2015ء کے سال انتخابات ہوتے رہے جبکہ 2016ء کا تمام سال مختلف حیلے‘ بہانوں سے گزارا گیا۔ بالآخر جنوری2017ء میں ضلع کونسلوں کے چیئرمینوں اور میونسپل کارپوریشنوں کے میئر حضرات سے حلف لیا گیا اور بلدیاتی ادارے فنکشنل ہو سکے۔ اس تاخیر کے باوجود اگر پبلک سیفٹی کمیشن بن جاتے تو پنجاب کے حکمرانوں کی نیت پر شک کی گنجائش کم ہو جاتی مگر اگلے ڈیڑھ سال میں بھی اس کارِخیر کی طرف توجہ نہ دی گئی۔ یہ تھے پنجاب کے حکمران اور یہ تھے ان کے اعمال۔ یہ لوگ پاکستان کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھتے تو ان کاموں کو بھی سرانجام دیتے جنہیں جنرل مشرف کے پولیس آرڈر2002ء میں چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ پنجاب کے عوام کا پالا ایک خدمت گار اور مددگار پولیس سے پڑتا جو حقیقی معنوں میں اپنے آپ کو عوام کا خادم سمجھتی لیکن یہ پرانے پاکستان والوں کا ایجنڈا نہیں ہے۔ سندھ اور پنجاب کے سابق حکمرانوں کی ذہنیت ایک طرح کی ہے۔ یہ عوام کو دبا کر رکھنا چاہتے ہیں اور قطعاً نہیں چاہتے کہ عوام آزاد فضا میں سانس لیں۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف اس لحاظ سے بہتر رہی کہ اس نے پولیس ایکٹ2017ء کی صورت میں اپنے تئیں اصلاح احوال کی کوشش کی۔ پولیس ایکٹ 2017ء کی خاص بات وہ کمٹمنٹ ہے جس کا اظہار ایکٹ کے ابتدائیے میں کیا گیا ہے۔ پولیس کو غیر سیاسی اور اکاؤنٹیبل بنانا جہاں حکومت کی ترجیح بنی وہیں اعلیٰ کارکردگی کے حصول کیلئے پولیس کو آپریشنل‘ انتظامی اور مالیاتی خودمختاری دینے کو ناگزیر سمجھا گیا۔(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں