Daily Mashriq

پختون قیادت کا المیہ اور ممکنہ حل

پختون قیادت کا المیہ اور ممکنہ حل

ایک رات پہلے شروع ہونے اور اگلی صبح وقفے وقفے سے برسنے والی شدید بارش کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں پارٹی کے کارکنوں کی آمد اور برسی کے حوالے سے منعقد ہونے والے جلسے کو کامیاب بنانے کے بارے میں سوچا ہی نہیں جاسکتا۔ اس بارے میں پشاور سے شیرپاؤ جاتے ہوئے سینئر صحافی فرید خان اور راقم کے مابین تقریباً یہی گفتگو ہوتی رہی‘ پھر بھی امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا اور جب ہم عمرزئی میں شیر بہادر خان کے حجرے میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں رفتہ رفتہ اہم سیاسی رہنماء‘ پارٹی کے زعماء اور پشاور سے آنے والے صحافیوں کا انتظار کر رہے تھے تو وہاں بھی شامیانے کے نیچے آسمان سے برستی رم جھم کرتی بارش لمحوں میں رک جاتی اور پھر چھاجوں برستی اپنی شدت کا احساس دلاتی رہی۔ ہمارے کرم فرما جمیل مرغز نے جو خود اگرچہ قانون دان ہیں اور ایک روشن خیال دیرینہ سیاسی کارکن جبکہ ان کے کالم بھی سوچ کے نئے در وا کرتے ہیں‘ دو روز پہلے فون کرکے ہمیں آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی اس خواہش سے آگاہ کیا کہ اب کی بار حیات محمد خان شیرپاؤ شہید کی 44ویں برسی کے موقع پر ہم بھی تقریب میں شامل ہوں‘ پھر انہوں نے پارٹی کے ایک ترجمان طارق خان کو ہمارا نمبر دیا اور یوں 13فروری کو ہمارا شیرپاؤ جانے کا پروگرام فائنل ہوگیا جبکہ ہمارے ہمسفر سینئر صحافی فرید خان تھے اور یوں ہم جب عمرزئی پہنچے تو شامیانے میں چند افراد ہی موجود تھے۔ ہم اگرچہ اس قسم کے جلسوں اور سیاسی اجتماعات میں بوجوہ شرکت سے گریزاں رہتے ہیں مگر اس تقریب میں حاضری کے کئی کارن تھے‘ سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ شہید حیات خان سے بطور عامل صحافی ہمارے بہت ہی اچھے تعلقات تھے اور ریڈیو میں ملازمت اختیار کرنے سے پہلے ہم ایک بہت قومی سطح کے اخبار کے پشاور بیورو میں بطور سٹی رپورٹر ان کی تمام سیاسی سرگرمیوں کو اپنے اخبار کیلئے رپورٹ کیا کرتے تھے۔ شہید بہت ہی نفیس انسان تھے اور یاروں کے یار تھے جبکہ 1970ء کے عام انتخابات کے ہنگام ان کی پارٹی کی سرگرمیوں کو کوریج کے حوالے سے پشاور کو جو چند صحافی ان کو اہمیت دیتے تھے ان میں ہم بھی شامل تھے۔ یہ تعلقات بعد میں ان کے بطور گورنر صوبہ سرحد اور پھر وفاقی وزیر پانی وبجلی کے دور میں بھی جاری رہے حالانکہ تب ہم ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوچکے تھے۔ دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ 2018ء کے انتخابات کے بعد جس طرح مبینہ طور پر پختون قیادت کو اسمبلیوں سے باہر رکھنے کی سٹریٹجی سامنے آئی ہے اور اس صورتحال پر قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے جو مؤقف اختیار کیا اور حالات سے نمٹنے کیلئے پوری پختون قیادت کو ایک آواز ہونے کا پیغام دیا اس پر ہم اپنے کالموں میں پہلے ہی توجہ دلا چکے تھے اور ان کے پیغام کو مزید آگے بڑھانے میں بھی ہم نے اپنے کالموں کے ذریعے یہی کوششیں جاری رکھی ہیں‘ ہم نے پختون سیاسی رہنماؤں سے گزارش کی تھی کہ وہ اپنی اپنی انا کے خول سے باہر آکر اتحاد واتفاق کا عملی مظاہرہ نہیں کریں گے تو پھر ان کی حالت وہ ہوگی جس کی طرف شاعر نے توجہ دلاتے ہوئے بہت پہلے کہا تھا

نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستان والو

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

آفتاب احمد خان نے اس ’’گریٹ گیم‘‘ کو سمجھتے ہوئے جس طرح پختون قیادت کو فروعی اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کے پیغامات بھیجے اس کے مثبت نتائج گزشتہ روز حیات محمد خان شیرپاؤ کی برسی کے حوالے سے منعقدہ جلسے کے موقع پر نظر آئے جب سید عالم محسود‘ مختار باچا‘ افضل خاموش اور دیگر اہم رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں اسی بیانئے کو ہی اظہار خیال کیلئے ضروری گردانا اور اسے آگے بڑھایا۔ خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا‘ یہ نہ دیکھو کون کہتا ہے یہ دیکھو کیا کہتا ہے۔ اگرچہ ان کے اس مقولے میں بہت بڑا سبق پوشیدہ ہے تاہم یہاں تو جو کہتا ہے اس کی اپنی حیثیت بھی مسلمہ ہے اور عہد حاضر کی سیاسی قیادت میں وہ اس خطے خاص طور پر پختون خطے کے حوالے سے عالمی سیاست پر جس قسم کی عمیق اور گہری نظر رکھتے ہیں اور پاک افغان تعلقات کے حوالے سے ان کی ژرف نگاہی سے کسی کو بھی انکار نہیں‘ وہ ایک عرصے سے افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے جو تجاویز دے رہے ہیں ان کی اہمیت مسلمہ ہے اور اس وقت افغانستان میں قیام امن کیلئے عالمی سطح پر جو کوششیں ہو رہی ہیں ان میں جو سقم موجود ہیں یعنی جس طرح افغانستان کی حکومت کو باہر رکھنے کی سعی کی جا رہی ہے اس حوالے سے آفتاب شیرپاؤ کے تحفظات اپنی جگہ اہم ہیں کہ ان کے خیال میں اس سلسلے میں کابل انتظامیہ کو بقول ان کے مذاکرات سے باہر رکھنے سے خطہ ایک بار پھر خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ گزشتہ روز کے جلسے پر لگ بھگ یہی بیانیہ چھایا رہا جبکہ انہوں نے اپنے خطاب میں دیگر مسائل پر بھی بات کی اور کہا کہ پختون قیادت کو پارلیمنٹ سے دانستہ باہر رکھنے سے کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کی گزشتہ چھ ماہ کی کارکردگی کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ناتجربہ کار حکمرانوں کو عوام کے بنیادی مسائل کا ادراک ہی نہیں‘ باتیں تو اور بھی بہت سی ہیں جو اخبارات میں چھپ چکی ہیں اور ان کو دوبارہ تحریر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں تاہم ہمیں تو ان لوگوں کے جذبے کو سراہنا ہے جو شدید بارش اور نامہربان موسم میں بھی جلوسوں کی صورت میں جوق درجوق جلسہ گاہ آئے‘ ان کی خوش قسمتی سے جلسے کے وقت بارش تھم چکی تھی اور جیسے ہی جلسہ ختم ہوا بارش پھر شروع ہوگئی‘ یوں یہ جلسہ ایک یادگار تقریب بن کر عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

متعلقہ خبریں