Daily Mashriq

میڈیسن کمپنیوں کا صحت سے کھلواڑ

میڈیسن کمپنیوں کا صحت سے کھلواڑ

ایک عالمی مائیکرو بائیولوجسٹ اور ایڈز کے علاج پر تحقیق کرنے والے بڑے ڈاکٹر رابرڈ گلو نے کہا کہ ہمیں زبردستی مجبور کیا گیا کہ ایڈز کے وائرس ایچ آئی وی کو پیدا کریں اور خفیہ ہتھیار کے طور پر افریقہ کی نسل کشی کیلئے استعمال کریں۔ اگر ہم غور کریں تو دنیا اور بالخصوص غریب اور ترقی پذیر ممالک میں ادویہ سازی کے بین الاقوامی وقومی ادارے، کمپنیاں، ڈاکٹر حضرات، نرسز، مددگار عملہ اور ابلاغ عامہ کے ذرائع ایک طاقت ور مافیا بن چکا ہے جو علاج اور شفا کے نام پر انسانی جانوں کیساتھ کھیل رہے ہیں۔ اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو مملکت خداداد پاکستان میں ادویہ سازی کی صنعت میں ملک کے ایم این اے، ایم پی اے اور سیاستدان شریک ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ادویات بنانے والی کمپنیوں میں 48فیصد کمپنیاں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین اسمبلی اور رہنماؤں کی ہیں جبکہ 23فیصد کمپنیاں پرائیویٹ ہسپتالوں کے مالکان اور بڑے ہسپتالوں میں لگے ہوئے اہم عہدوں پر فائز ڈاکٹرز یا ان کے قریبی عزیز واقارب کی ہیں جو نہ صرف بلاضرورت ادویات مہنگی کرتے ہیں بلکہ ادویات کی مارکیٹ میں قلت پیدا کرکے اس کو بلیک میں بیچتے یا ان کی قیمتیں بڑھاتے ہیں۔ ڈرگ مافیا نہ صرف دوائیوں کے نرخ بڑھاتے ہیں بلکہ یہی ملکی اور بین الاقوامی کمپنیاں نئی نئی بیماریاں مختلف طریقوں سے پیدا کرکے نئی مارکیٹ بناتے ہیں۔ پبلک لائبریری آف سائنس میڈیسن کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیماریاں پھیلانے والا ڈرگ مافیا ان کو فروغ دینے کیلئے کوشش کرتا ہے۔ جس کا مقصد دوائیوں کے نام پر زہر بیچ کر منافع کمانا ہوتا ہے۔ نیوکیسل آسٹریلیا یونیورسٹی کے ریسرچر کا کہنا ہے کہ ادویہ سازی کی مختلف کمپنیاں صحت مند لوگوں کو شک اور وسوسوں میں مبتلا کرکے ان کو بلاضرورت ادویات دیتی ہیں۔ بی بی سی سے نشر شدہ ایک رپورٹ کے خالق ڈیوڈ ہنری اور اے مونیہاں ان ڈاکٹروں اور ادویہ ساز کمپنیوں کو سخت ہدف تنقید بناتے ہیں جو لوگوں کو ترغیب دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ امریکہ میں 43فیصد عورتیں جنسی امراض میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ کولیسٹرول اور ہڈیوں کے سخت ہونے والی بیماری کو سنجیدہ اور مشکل بیماریوں کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے جو بالکل غلط ہے حالانکہ یہ سنجیدہ بات نہیں۔ اسی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بیماریوں کو ٹھیک کرنے والے مسیحا بیماریاں بانٹ رہے ہیں اور ادویہ ساز کمپنیوں کیلئے مارکیٹ وسیع کرنے میں مددگار بن رہے ہیں۔ باالفاظ دیگر عام طور پر ایک عام بیماری کو کارپوریٹ بیماری یعنی کاروباری بیماری میں تبدیل کیا جاتا ہے یعنی ایسی بیماری جس کی کوئی خاص نوعیت نہیں ہوتی مگر ادویہ ساز کمپنیاں اور ڈاکٹر حضرات میڈیا کی مدد سے ایک خاص منصوبے کے تحت چھوٹی موٹی بیماریوں سے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر دوائیوں کی مارکیٹ بنانے کیلئے ایک مہم چلاتے ہیں۔ اس قسم کی بیماریوں میں گنجا پن، معدے کی بیماری‘ ڈرنے کی بیماری اور ہڈیوں کا سخت ہوناشامل ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چھوٹی موٹی بیماریوں کو بڑھا چڑھا کر بڑی بیماریوں کی شکل میںثابت کرنے کیلئے طبی ریسرچ اداروں سے اس پر تحقیقی مقالے لکھوائے جاتے ہیں یا ریڈیو، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر اس قسم کی بیماریوں یا ایشوز پر ٹاک شوز کروائے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں بات بٹھائی جا سکے کہ آپ خطرناک مہلک قسم کے بیماریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر مزید غور کریں تو ادویات سازی کے شعبے میں سالانہ 240ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں اور ادویات سازی کی کمپنیاں ریسر چ اور تحقیق پر 145ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو ترقی پذیر ممالک میں ملیریا، دمہ، ٹائی فائیڈ بہت عام ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ ان امراض کی ریسرچ پر کچھ خرچ نہیں کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح دوسرے امراض سٹروک، ڈیپریشن اور دمے کی بیماریاں دنیا میں بہت عام ہیں مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اس کی تحقیق اور ریسرچ پر کچھ کام نہیں کیا جا رہا۔ فی الوقت ملٹی نیشنل کمپنیاں ترقی یافتہ ممالک کی بیماریوں پر زیادہ تحقیق کرتی اور توجہ دیتی ہیں کیونکہ اس تحقیق سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو کئی گنا فائدہ ہوتا ہے۔ دہلی سے چھپنے والے بزنس سٹینڈرڈ کے مطابق بین الاقوامی ادویہ سازکمپنیوںکی ادویات سے 438لوگ مر گئے تھے اور کئی بین الاقوامی شہرت کی حامل کمپنیوں کو جرمانہ کیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تحقیق کے مطابق صرف 2فیصد بچوں کو حفا ظتی ٹیکے لگانے چاہئیں یا ڈراپس دینے چاہئے مگر بدقسمتی سے وطن عزیز میں 80فیصد بچوں کو بندوقوں کے سائے میں حفاظتی ٹیکے اور ڈراپس لگائے جا رہے ہیں جو بالکل غلط ہے۔ ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی نہیں پتہ کہ بچوں کو ویکسین اور قطروں کے نام پر کیا پلایا جا رہا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی اور بین الاقوامی طور پر ملٹی نیشنل کمپنیاں انسانیت کے دشمن نہ بنیں۔ ڈبلیو ایچ او اور پاکستان کے وزارت صحت اور قومی اور صوبائی اسمبلی کو چاہئے کہ اس کیلئے ایک مؤثر حکمت عملی بنائیں۔

متعلقہ خبریں