Daily Mashriq

پارلیمنٹ کی شاخِ نازک پر اقتدار کا آشیانہ

پارلیمنٹ کی شاخِ نازک پر اقتدار کا آشیانہ

ملک میں اس وقت آئینی طور پر پارلیمانی نظام رائج ہے۔ پارلیمانی نظام میں اختیارات کا اصل مرکز پارلیمنٹ ہوتی ہے اور پارلیمنٹ یہ اختیارات وزیراعظم کے ذریعے استعمال کرتی ہے۔ پارلیمانی نظام میں وزیراعظم ہی چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے۔ یہی ترتیب وفاق سے ہوتی ہوئی صوبوں تک چلتی ہے جہاں وزیراعلیٰ اختیارات کا حامل ہوتا ہے۔ وزیراعظم کی طاقت پارلیمنٹ میں مضمر ہوتی ہے اور وہ وہیں سے اپنے اختیارات کشید کرتا ہے۔ پارلیمنٹ کا کسٹوڈین اگرچہ سپیکر ہوتا ہے مگر اس کی عزت اور شناخت قائد ایوان سے ہوتا ہے۔ مضبوط اور فعال قائد ایوان کی شخصیت پارلیمنٹ نے مجموعی کردار پر منعکس ہوتی ہے۔ یہ الگ بات کہ ملک میں چیف ایگزیکٹوز نے کبھی اپنے الیکٹورل کالج یعنی پارلیمنٹ کو پرکاہ برابر اہمیت نہیں دی۔ وزرائے اعظم پارلیمنٹ، حتیٰ کہ اپنی پارلیمانی پارٹی اور کابینہ کو بائی پاس کرتے ہوئے فیصلہ سازی کیلئے اپنے ذاتی دوستوں، پسندیدہ اور تابع مہمل بیوروکریٹس پر مشتمل ’’پانچ پیاروں‘‘ کی ایک کچن کیبنٹ بناکر تمام فیصلے انہی کے مشوروں سے کرتے رہے ہیں اور پھر ان فیصلوں پر عمل درآمد کیلئے پارلیمنٹ کو محض ربرسٹیمپ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ یوں حکمرانوں کے چنیدہ اور پسندیدہ منتخب یا غیرمنتخب افراد پر مشتمل ایک ڈی فیکٹو یا متوازی کابینہ وجود میں آتی رہی ہے۔ حکمران جماعت عددی اکثریت کی بنیاد پر مخالف فریق کی رائے کو بلڈوز کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں فیصلے کراتی تھیں اور اپوزیشن محض شور مچاتی اور واک آؤٹ کرتی رہ جاتی تھی۔ کئی بار تو چیف ایگزیکٹو منتخب ہونے کے بعد واپس اپنے الیکٹورل کالج کا راستہ ہی بھول جاتا تھا۔ میاں نوازشریف نے گزشتہ دور میں بہت کم ہی پارلیمنٹ میں آنے کی زحمت گوارا کی۔ اس کا کیا کیجئے جس طرح عمران خان کے اپوزیشن اور احتجاج کے دنوں کے خودکشیوں اور ڈوب مرنے کے دعوے اب انہیں شرمسار کرنے کا باعث بنتے ہیں اسی طرح دوبڑی اپوزیشن جماعتوں کا حکومتی ماضی ان کا منہ چڑا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے دور میں مثالی جمہوریت سے گریز کرتے ہوئے شخصی سٹائل میں عددی قوت کے بل پر پارلیمنٹ کو چلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ جنرل مشرف کے بعد بحال ہونے والی جمہوریت کو میثاق جمہوریت کا مرض لاحق ہوگیا۔ بظاہر تو یہ جمہوریت کی مضبوطی اور آمریت کی راہ روکنے کا معاہدہ تھا مگر اس معاہدے میں ایک تیسرے اور انجانے خطرے نے حقیقی پارلیمانی اپوزیشن کے تصور کو محدودتر کرنا شروع کیا۔ جیو اور جینے دو کے اصول کی کچھ غلط انداز کی تشریح کرتے ہوئے فریقین نے ایک دوسرے کا محاسبہ اور محاکمہ پارلیمنٹ میں کرنے کی بجائے نرالی قسم کی مفاہمت اپنالی۔ یہ مفاہمت پارلیمانی نظام کیلئے زہرقاتل ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ جب اپنا کردار چھوڑ دے تو پھر اس خلاء کو کئی قوتیں اور ادارے پُر کرتے ہیں۔ میثاق جمہوریت کے نام پر شروع ہونے والی مفاہمتی سیاست نے بھی عدلیہ، نیب اور کچھ نادیدہ اداروں کیلئے گنجائش پیدا کی اور اسی روئیے کی وجہ سے کنٹینر سیاست کے میلے کی رونقیں بھی بڑھ گئیں۔ اب پی ٹی آئی کی حکومت کے بعد سے پارلیمنٹ کچھ غیر متعلق سی ہورہی ہے۔ حکومت شہبازشریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنا بیٹھی مگر اب یہ فیصلہ اسے ہضم نہیں ہورہا ہے۔ مقدمات کے باعث نیب شہباز شریف کو طلب کر رہی ہے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے شہباز شریف نیب کو طلب کر نے لگے ہیں۔ اسی بات کو بہانہ بنا کر حکومت شہباز شریف کو اس عہدے سے ہٹانا چاہتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ کھل کر شہباز شریف کی حمایت میں میدان میں آگئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ وفاق میں ایک اصول کے تحت شہباز شریف کی حمایت کرنے والی پیپلزپارٹی سندھ میں اسی اصول پر عمل کرنے سے مسلسل انکاری ہے اور اب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پی ٹی آئی کی حکومت کو بہت ذومعنی پیشکش کی ہے کہ اگر عمران خان میثاق جمہوریت میں شامل ہوجائیں تو سندھ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ ان کی جماعت کو دی جا سکتی ہے۔ میثاق جمہوریت کی یہ کونسی شکل ہے جس کی دعوت وزیراعلیٰ سندھ نے دی ہے۔ اگر تو یہ وہی میثاق جمہوریت ہے جس نے جمہوریت کی گنجائش کو مسلسل تنگ کرکے کئی اور اداروں کے کردار کو بڑھانے اور وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کیا تو ایسے میثاق جمہوریت کو بچانے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اس میثاق سے جمہوریت کو دور رکھ کر بچایا جائے۔ حکومتی عقاب اگر پارلیمنٹ کو غیر متعلق بنانے پر مصر ہیں تو اپوزیشن خود بھی نادانستگی میں شریک ہے۔ وہ یہ بات فراموش کر رہے ہیں کہ مقدمات اور الزامات کے باوجود ان کے استحقاق اور اس کے نتیجے میں ٹھاٹھ باٹھ اسی جمہوریت کے باعث قائم ہیں۔ وہ قیدسے نکل کر ایوانوں اور محلات میں اسی جمہوریت کی بدولت براجمان ہیں۔ یہ پارلیمانی نظام ہی ہے جس نے عمران خان کو قومی اسمبلی کے قائد ایوان کا مقام اور حیثیت دی ہے۔ عمران خان کو اسمبلی میں بے توقیر کرکے اپوزیشن حقیقت میں پارلیمنٹ کو ہی بے توقیر کر رہے ہوتے ہیں۔ عمران خان کی اسمبلی میں دو تقریروں کو ہنگامہ آرائی کی نذر کرکے انہوں نے پارلیمنٹ کو غیر متعلق بنانے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالاہے۔ عمران خان کی وزارت عظمیٰ بھی پارلیمنٹ کی شاخ پر کھڑی ہے۔ پارلیمنٹ غیر متعلق اور غیر موثر ہوگئی تو خزاں گزیدہ مرجھائی ہوئی شاخ پر قائم گھونسلے کا مستقبل کس طرح اچھا ہو سکتا ہے؟۔

متعلقہ خبریں