Daily Mashriq

سابق وزیر قانون پنجاب کے قتل میں ملوث ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

سابق وزیر قانون پنجاب کے قتل میں ملوث ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

گجرات: سابق وزیر قانون پنجاب چوہدری محمد فاروق کے قتل میں ملوث ملزم پولیس مقابلے کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کو عدالت میں سماعت کے بعد ملزم کو جیل منتقل کیا جا رہا تھا کہ اسی دوران ملزم کے ساتھیوں نے حملہ کر دیا اور پولیس مقابلے کے دوران ان کی ایک گولی انہی کے ساتھی کو جا لگی۔

ملزم کی شناخت اورنگزیب کے نام سے ہوئی ہے جبکہ پولیس کو اس کی لاش کے پاس سے ایک اور لاش ملی ہے جو مبینہ طور پر انہی کے کسی ساتھی کی ہے۔

گجرات پولیس کے ترجمان کے مطابق اورنگزیب عرف رنگا کے سر پر 50لاکھ روہے کا انعام تھا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر قانون سمیت قتل کی متعدد وارداتوں اور دیگر بھیانک جرائم میں ملوث ہونے پر ان پر فرد جرم عائد کی تھی۔

وہ 2012 میں کوٹ لکھپت جیل سے فرار ہو گئے تھے اور انہیں چند دن قبل ہی دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس نے انہیں سرائے عالمگیر میں واقع عدالت میں پیش کیا تھا اور جب قیدیوں کی وین عدالت سے واپس آ رہی تھی تو کھاریاں اور سرائے عالمگیر کے درمیان رکھ پبی سرکار کے علاقے میں کچھ نامعلوم ملزمان نے حملہ کردیا جس سے اورنگزیب فرار ہو گیا۔

وہ جنگلات میں بھاگنے میں کامیاب ہو گئے لیکن پولیس نے وہاں ان کا محاصرہ کر لیا۔

اس کے بعد پولیس اور ملزمان کے درمیان مقابلہ ہوا جس کے اختتام پر پولیس کو جنگل سے دو لاشیں ملیں جن میں سے ایک اورنگزیب کی تھی۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ دونوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

29دسمبر 2002 کو سرائے عالمگیر کے علاقے دندی دارا میں سابق وزیر قانون چوہدری محمد فاروق پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس وہ ، ان کے دو مسلح گارڈ اور ہیڈ ماسٹر موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔

متعلقہ خبریں