Daily Mashriq


ہر الزام پاکستان پر!

اس کے باوجود کہ پاکستان نے قندہار خود کش حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا تھا اسی واقعے کو بنیاد بنا کر کابل میں شر پسندوں کا پاکستانی سفارتخانے پر این ڈی ایس کے سابق سربراہ کی قیادت میں حملہ قابل مذمت اور افسوسناک ہی نہیں بلکہ اپنی داخلی سلامتی کے تحفظ میں ناکامی کا الزام پاکستان کے سر تھوپنے کی بھونڈی کوشش بھی ہے۔ پاکستان 'چین اور روس اس سعی میں حال ہی میں مشاورتی اجلاس منعقد کرچکے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے کس طرح سے کابل کی مدد کی جائے افغان حکومت اور امریکہ کو یہ خیر خواہی بھی منظور نہیں شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اب افغانستان میں امریکہ کے لئے اپنا پیر جمائے رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہاہے۔ جن مقاصدکے حصول کے لئے امریکہ نے افغانستان کا رخ کیا تھا ان میں بری طرح ناکامی تو کوئی راز کی بات نہیں الٹا افغانستان میں امریکہ کی شکست کے باعث عالمی سطح پر بھی اس کا کردار متاثر ہونے لگا ہے۔ سپر پاور ہونے کے دعویدار کسی ملک کی پچپن ممالک کے لائو لشکر سمیت افغانستان جیسے چھوٹے ملک میں قیام امن میں ناکامی اور واپسی کوئی معمولی امر نہیں بلکہ اس کے عالمی اثرات مرتب ہوئے۔ نیز اس کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ مزید سامنے آتے جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن اور استحکام امن کابل کے بعد پاکستان کے مفاد میں ہے۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان قربت کی بجائے غلط فہمیوں میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ افغانستان کی حکومت اور افغان عوام کا یہ تاثر اس ملک اور اس کے باسیوں کے لئے نہایت تکلیف دہ ہے جہاں لاکھوں افغانوں کو دہائیوں سے پناہ دی گئی اور اب بھی لاکھوں افغان نہ صرف پاکستان میں مقیم ہیں بلکہ وطن واپسی کو تیار نہیں۔ افغانوں کی بڑی تعداد مشکل وقت میں پاکستان کے تعاون اور دست گیری کی معترف ہے لیکن دوسری جانب اس افسوسناک حقیقت سے بھی صرف نظر ممکن نہیں کہ افغانوں کا ایک طبقہ نہ صرف پاکستان کے حوالے سے اچھے جذبات نہیں رکھتا بلکہ ان کی دانست میں ان کی لا متناہی مشکلات کے پس پردہ پاکستان کا ہاتھ ہے حالانکہ پاکستان کی مسلسل سعی چلی آرہی ہے کہ افغانستان کا مسئلہ حل ہو۔ افغان گروپوں اور کابل حکومت کے درمیان معاملات طے پاجائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تخت کابل پر بیٹھنے والا ہر حکمران تخت نشینی کے بعد جب تک امریکہ کی راگ الاپنے اور بھارت سے مشاورت و اعانت لیتے رہیں گے اس وقت تک وہاں کے معاملات میں تبدیلی نہیں آسکتی۔ اگر افغانستان واقعی پاکستان سے نالاں ہے اور بالفرض محال پاکستان ہی اس کی مشکلات کا باعث ہے اور افغان حکومت پاکستانی تائید و حمایت کے بغیر اپنے مسائل کا حل خود نکال سکتی ہے تو انتظار کس بات کا ؟ اس کو چاہئے کہ وہ داخلی طور پر اپنے مسائل کا حل نکالے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر پاتی تو کم از کم پاکستان کو خواہ مخواہ مطعون کرنے سے باز رہے۔ جہاں تک قندھار خود کش حملہ سمیت دیگر واقعات کا تعلق ہے ان سے پاکستان اور پاکستان کے کسی محترم ادارے کا تعلق جوڑنا محض اپنے عوام کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں۔ افغانستان میں پاکستانی شہریوں سے پاکستان میں افغان مہاجرین کی طرح کا سلوک نہیں کیا جاتا بلکہ این ڈی ایس مسلسل پاکستانی شہریوں کو ہراساں کرتی رہتی ہے۔ اچانک ان کی دستاویزات' کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ اور موبائل ڈیٹا سبھی کچھ چیک کیاجاتا ہے۔ پاکستان کے سفارتی عملے کو اس قدر زچ کردیاگیا ہے کہ وہ سفارتی کمپائونڈ تک محدود ہو کر رہ گیاہے۔ اس کے باوجود افغانستان کے طول و عرض میں جب کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو الزام پاکستان پر دھر دیا جاتا ہے۔ قندھار حملے میں متحدہ عرب امارات کے پانچ سفارتکار بھی جاں بحق ہوئے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گرم جوشی کے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ یوں تو کسی بھی ملک کے سفارتی عملے اور انسانی جان کا ضیاع افسوسناک امر ہے لیکن کسی برادر اسلامی ملک کے سفارتکاروں کی ہلاکت کا خاص طور پر ہمارے لئے رنج دہ واقعہ ہونا فطری امر ہے۔ کابل میں شر پسندوں کو پاکستانی سفارتخانے پر دھاوا بولنے کا پورا موقع دیا۔ مشکل امر یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت کو اصولی طور پر سفارتی عملے اور سفارتخانے کی حفاظت کی ذمہ داری نبھانی چاہئے ۔ مگر یہاں الٹا معاملہ ہے کہ این ڈی ایس کے سابق سربراہ کی سرکردگی میںسفارتخانے پر حملہ کردیا جاتاہے جس سے سرکاری سرپرستی کا تاثر لینا غلط نہ ہوگا۔ افغانستان میں سیکورٹی کی ابتر صورتحال کی ذمہ داری خود افغانستان کی حکومت پر عائد ہوتی ہے اس کی ذمہ داری دوسروں پر نہیں ڈالی جاسکتی اور نہ ہی اس کی بناء پرپاکستان کو مطعون کرنے کاکوئی جواز ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور جن سخت حالات سے پاکستان گزرا ہے۔ اور اب بھی گزر رہاہے اس میں افغانستان میں موجود راء کے نیٹ ورک کی سازشوں اور منصوبہ بندی کا بڑا حصہ رہا ہے۔ پاکستان کے بار بار توجہ دلانے اور مطالبات کے باوجود افغانستان اس پر توجہ نہیں دے رہا ہے۔ افغانستان بجائے اس کے کہ ان کی روک تھام کرے الٹا بھارت کی بولی بولنے لگا ہے۔ بعید نہیں کہ افغانستان میں حالات خراب کرکے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی سوچی سمجھی سازش کے تحت راء کا ان واقعات میں ہاتھ ہو اس طرح کے منصوبے کا کھوج اس وقت لگانا ہی ممکن نظر آتا ہے کہ افغانستان پاکستان پر انگشت نمائی کی بجائے ان واقعات کی ٹھوس بنیادوں پر تحقیقات کرے اور ان واقعات کی تہہ تک پہنچنے کی سعی کرے۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے افغان حکومت کو داخلی سیکورٹی پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ متحارب گروپوں سے گفت و شنید اور معاملات پر بھی توجہ دینی چاہئے تاکہ داخلی چیلنجوں میں کمی لا کر دیگر حالات سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کرسکے۔

متعلقہ خبریں