Daily Mashriq

 عمران کی خواہش اور وزیر اعلیٰ کے الزامات

عمران کی خواہش اور وزیر اعلیٰ کے الزامات

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کا خیال ہے کہ تین ماہ کے لئے نیب کو ان کے دائرہ اختیار میں دیا جائے تو بڑے بڑے بدعنوان عناصر کو پکڑ کر دکھائیں گے جبکہ وزیر علیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ اے این پی اور پی پی پی نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کو بکرا منڈی بنایا ہوا تھا۔ ان جماعتوں نے بندر بانٹ اور خوب کرپشن کی۔ پارٹی کے قائد اور اسی جماعت کے وزیر اعلیٰ کے ان دو بیانات کو باہم یکجا کرنے سے بڑی دلچسپ صورتحال سامنے آتی ہے۔ قائد متمنی ہیں کہ بدعنوان عناصر کو پکڑا جائے اور وزیر اعلیٰ اس امر کا اعتراف کر رہے ہیں کہ گزشتہ دور حکومت میں صوبے میں بے پناہ کرپشن کی گئی۔ نیب وفاقی احتساب کا ادارہ ہے لیکن صوبائی حکومت اتنی تہی دست نہیں صوبائی حکومت کا اپنا احتساب کمیشن ہے۔ انسداد بد عنوانی کا ادارہ ہے' عدالتیں ہیں' محکمانہ طور پر تحقیقات کرکے ملوث سرکاری ملازمین اور ماضی میں ان پر دبائو ڈال کر غیر قانونی کام کرنے والوں کے خلاف مقدمات عدالتوں میں لے جانے کا قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ صوبائی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی میں معاملات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ غرض کئی ذرائع اور طریقہ کار موجود ہے لیکن دیکھا جائے تو سنجیدہ قدم اٹھانے ہی کی کسر ہے۔ عمران خان اور وزیر ا علیٰ چاہیں تو صوبے کی حد تک احتساب کی آرزو پوری کرنے میں کوئی امر مانع ہے۔ آخر صوبائی احتساب کمیشن میں محولہ الذکر عناصر کے خلاف کارروائی میں کیا امر مانع ہے۔ بدعنوان عناصر کے خلاف تحقیقات کا کم از کم آغاز تو ہونا چاہئے۔ ایک مرتبہ تحقیقاتی ٹیموں کو سنجیدگی کے ساتھ تحقیقات کی ذمہ داری تو تفویض کی جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔

متعلقہ خبریں