Daily Mashriq


ہم جھوٹ پسند لوگ ہیں

ہم جھوٹ پسند لوگ ہیں

پاکستانی ایک جھوٹ پسند قوم ہے۔ ہمیں ہر وقت ' ہر لمحہ جھوٹ کی خواہش رہتی ہے۔ ہمیں وہ لوگ اچھے لگتے ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں۔ ہمیں وہ بات اچھی لگتی ہے جو بلا شبہ بلا شک صرف جھوٹ ہو۔ ہم جھوٹوں کو پسند کرتے ہیں اسی لئے تو جھوٹ بولنے والے سیاست دانوں کو ہم بلا جھجھک ووٹ بھی دیتے ہیں۔انہیں ہم اس ملک میں حکومت کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ انہیں ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ ان کے لئے راہوں پر پلکیں بچھاتے ہیں۔ جب میاں صاحب جو ملک کے وزیر اعظم ہیں ۔کہتے ہیں کہ جھوٹ کی سیاست خطرناک ہے تو دل کو یک گو نہ تسلی ہوتی ہے۔ ہمارا انتخاب بالکل درست ہے۔ ان لوگوں کو ہم نے اپنی پسند' اپنی ترجیحات کے ووٹ دے کر منتخب کیا ہے اور یہ مسلسل ہمارے اس انتخاب کو درست ثابت کرتے رہتے ہیں۔ وزیر اعظم جب کہتے ہیں کہ جھوٹ کی سیاست خطرناک ہے تو ان کی بات کی داد دینے کو دل چاہتا ہے۔ خوشی ہوتی ہے کہ انہیں کم از کم یہ احساس ہے کہ وہ اس ملک و قوم کے لئے کس حد تک قربانی دے رہے ہیں' کیسے خطرناک راستوں پر گامزن ہیں۔ انہیں اپنی پرواہ نہیں وہ صرف ہماری پسندیدگی کا خیال رکھتے ہوئے ایسی خطرناک راہیں اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ وزارت عظمیٰ سے فارغ ہو جائیں تو انہیں اس قوم کی جانب سے تمغہ شجاعت بھی ملنا چاہئے۔ وہ درست کہتے ہیں کہ منگل اور بدھ کو گوشت کابھی ناغہ ہوتا ہے مگر بعض سیاست دان بلا ناغہ جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ سیاستدان بھی بے چارے کیا کریں عوام میں مقبولیت کے لئے وہ اس حد تک جانے کو تیار ہیں کہ اپنی آخرت کا بھی سودا کرتے رہتے ہیں۔ بس میاں صاحب کے بیان پر مجھے اس حد تک اعتراض ہے کہ انہیں بعض کی جگہ اکثر کا حرف استعمال کرنا چاہئے تھا۔ ہمارے ملک کے اکثر سیاست دان بلا توقف' مسلسل جھوٹ بولتے ہی رہتے ہیں اور کیسے نہ بولیں سیاست دان تو بے چارے ادا کار ہوتے ہیں' تھیٹر کے اداکار' جہاں تماش بین بھی سامنے ہوا کرتے ہیں۔ جس جملے پر لوگ واہ کی آواز لگا دیں یہ وہی جملہ بار بار دہراتے ہیں۔ جس مزاح پر قہقہہ پڑے اسے دہرانے لگتے ہیں۔ جس بات پر تالی بجے' جس ٹھمکے پر داد ملے یہ ہر اس ادا کو دہراتے ہیں۔ ہم جھوٹ پسند قوم ہیں کیونکہ غربت نے ہمارے لئے زندگی دوبھر کر رکھی ہے۔ ہم اپنی اذیتوں سے گھبرائے ہوئے لوگ ہیں ۔ ا س جھوٹ کا سہارا لے کر ہم اپنی حقیقت کی ایذا رسانی سے پناہ چاہتے ہیں۔ اسی جھوٹ کی آڑ میں چند خوبصورتیوں کو اپنی جانب آتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ جھوٹ ہمیں سانس لینے کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ جھوٹ ہمیں خواب دکھاتے ہیں۔ یہ جھوٹ ہمارے لئے مستقبل کے سنہرے تانے بانے بنتے ہیں۔ ہمیں جھوٹ پسند ہے کیونکہ اس جھوٹ کے دامن میں ہمارے لئے امید ہے' خوبصورتی کی آس ہے۔ اس لئے ہمیں سیاست دان پسند ہیں جو جھوٹ بولیں،فریب بنیں' مکر کے جال ڈالیں۔ میں وزیر اعظم کی بات سے اتفاق نہیں کرتی کہ عوام جھوٹ سن سن کر تنگ آچکے ہیں۔ عوام تنگ آچکے ہوتے تو سیاستدانوں کو جھوٹ بولنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔ وہ ان کے جھوٹ پر منہ پھیر لیتے تو سیاستدان اپنے آپ خاموش ہوجاتے۔ میاں صاحب تو عمران خان کے بارے میں بات کر رہے ہیں حالانکہ عمران خان جیسے سیاستدان اسی لئے کامیاب نہیں ہوتے کہ ابھی ان کی جھوٹ بولنے کی عادت پکی نہیں ہوئی ہوتی۔ وہ اگر مارے باندھے کا جھوٹ بولتے بھی ہیں تو اس میں کچے پن کی بو آتی ہے۔ اسی لئے لوگوں میں ان کی بہت پذیرائی نہیں ہوتی۔ وہ خیبر پختونخوا میں تو حکومت بنا سکتے ہیں کیو نکہ اس صوبے کے لوگ سادہ لوح ہیں۔ بہت زیاد جھوٹ پسند نہیں کرتے۔

لیکن اس سے زیادہ ان کی حکومت ممکن ہی نہیں۔ وزیر ا عظم اور ان کے حواری ملک کے مرکزی نظام پر حکومت کر رہے ہیں۔ ترقی کے وعدے' اندھیروں کو روشنیوں میں بدلنے کے وعدے' خوشحالی کے وعدے' ایسی باتیں وہ نہ کریں تو بھلا حکومت کیسے کریں۔وہ درست کہتے ہیں کہ جھوٹ کی سیاست خطرناک ہے لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں لوگ ہی جھوٹ کو پسند کرتے ہوں' جھوٹ بولتے ہوں' دھوکہ دیتے ہوں ایسے لوگ حکمران نہ ہوں گے تو کون ہوگا۔ یہاں تو جھوٹ کا یہ عالم ہے کہ حکومت بھی جھوٹ بولتی ہے اور اپوزیشن جو ان کے جھوٹ کی نشاندہی کرتی ہے وہ بھی جھوٹ بولتی ہے۔ آصف زرداری اوربلاول کے دعوے بھی جھوٹ ہیں۔ میاں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کے دعوے بھی جھوٹ۔ وزیر اعظم کی اپنی زندگی کے کھلی کتاب ہونے کے دعوے بھی جھوٹ اور پیپلز پارٹی کے پاناما لیکس کی تحقیقات ہونے کا مطالبہ بھی جھوٹ۔ ثبوت اور شواہد تلاش کرنے کی باتیں بھی جھوٹ اور بدعنوانی کے خاتمے کے اعلانات بھی جھوٹ۔ سب جھوٹ ہے اور یہ سارا جھوٹ ہماری پسند کاہے۔ پاناما لیکس میں وزیر اعظم کو کوئی ڈر نہیں۔ پیپلز پارٹی کو بھی ڈر نہیں۔ کہیں سے کچھ ہونے والا بھی نہیں۔ ہماری کیفیت یہ ہے کہ جب تک کوئی سیاستدان ہمیں لوٹنا نہ شروع کرے ہمیں اس کے سچے کھرے سیاستدان ہونے پر یقین نہیں آتا۔ تبھی تو جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں ملتے اور جے یو آئی کو ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ تبھی تحریک انصاف کو پذیرائی نہیں ملتی لیکن مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو ملتی ہے۔ یہ ہمارا جھوٹ ہے' ہمارے اندر کا جھوٹ جو ہمارے حکمرانوں کی صورت میں مجسم ہے۔' مترشح ہے۔ وہ جن کے چہروں کے ہر ایک نقش میں جھوٹ جھلکتا ہے اور جن کے جھوٹ پر ہمیں یقین ہے ، مکمل یقین ۔ کاش کوئی وزیر اعظم کو جا بتلائے کہ آپ کو کسی سے کوئی ڈر نہیں ۔ آپ وہ ہیں جو یہ قوم آپ سے چاہتی ہے اور آ پ کو ''سب خیر'' کی نوید ہے ۔ سکون سے حکومت کیجئے ہماری ترجیحات نے آپ کے سر پر چھائوں کر رکھی ہے ۔

متعلقہ خبریں