Daily Mashriq


تجربہ کار یا سچی قیادت

تجربہ کار یا سچی قیادت

بڑے لیڈر یونہی نہیں بنتے ، ان کی باتیں ، ان کا طرز عمل انہیں بڑا بناتا ہے۔ افیون زدہ قوم کو عوامی جمہوریہ چین کے معتبر شہری بنانے والے عظیم رہنما ماؤزے تنگ نے ساٹھ کی دہائی میں ثقافتی انقلاب کی بنیاد رکھی تونوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ موجودہ نظام کے خلاف جدوجہد کریں۔ کیسی عجیب سوچ تھی کہ وہ اپنے قائم کردہ نظام کے خلاف نوجوانوں کو جدوجہد پراُکسا رہے تھے۔ ماؤ اس سیاسی اور بیوروکریٹک آرڈر کوتلپٹ کرنے کی بات کر رہے تھے جس کا چیف ایگزیکٹو ان کا اپنا مقررکردہ قریبی کامریڈ چواین لائی کے خلاف نہ تھے۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ انقلابی اقتدار کو قائم رکھنے اور انقلابی جذبے کو بیدار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مروجہ نظام کے خلاف قوت سے برسرپیکار ہوا جائے۔ ماؤ کی کال پر معاشی اور تعلیمی مواقع سے محروم مایوس نوجوانوں نے دفاتر کا گھیراؤ کر لیا اور سینکڑوں ملوں اور فیکٹریوں کو آگ لگا دی گئی۔ کہاجاتا ہے کہ ثقافتی انقلاب کے عروج میں ایک وقت وہ آیا جب تقریباً نصف ملین ریڈ گارڈرز نے پیپلز گریٹ ہال کا محاصرہ کیا اور وزیر اعظم چواین لائی عملی طور پر مقید ہو کر رہ گئے۔ ایک جانب سچی قیادت کی یہ مثالیں ہیں اور دوسری جانب انقلاب آفرین ارشادات گرامی ہیں جو قبلہ شہباز شریف کی طرف سے آئے دن سننے کو ملتے ہیں۔ مگر ان کی صرف باتیں ہی باتیں ہیں جو اس لیے کی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کا ہم نوا بن کر انہیں وقتی طور پر کُول ڈاؤن کیا جا سکے۔ گزشتہ آٹھ سالوں میں متعدد مواقع پر شہباز شریف نے ایسی باتیں کیں جن کو سن کر احساس ہوتا تھا کہ ابھی آنجناب وزارت اعلیٰ کو ٹھوکر ماریں گے اور عام لوگوں کے قائد بن کر کسی انقلابی مارچ کی قیادت کا اعلان کریں گے مگر آج تک یہ نوبت نہیں آ ئی ہے۔ طرفہ تماشہ یااصل حقیقت یہ ہے کہ آنجناب کووہ لوگ سخت ناگوار ہیں خواہ وہ ینگ ڈاکٹرز ہوں یانابینا حضرات جو سڑکوں پر آ کر اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرتے ہیں۔ جھوٹ اور منافقت ہماری قیادت کا شیوہ ہے۔ مصنوعی چہرے لیے مصنوعی باتیں کرنے کے یہ عادی بھی ہیں اور ماہر بھی۔ میں بھی اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بحیثیت قوم ہمیں تجربہ کار سے زیادہ ''سچی قیادت'' کی ضرورت ہے۔ تجربے کا متبادل مل سکتا ہے مگرسچائی کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ ماؤزے تنگ کا وہ جملہ ذہن میں آ رہا ہے جو انہوں نے نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میںکہا تھا۔

ماؤزے تنگ نے کہا کہ' 'جب ہم نے انقلاب کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا تو ہم صرف 23سال کے جوان لڑکے تھے جب کہ اس وقت کے حکمران بوڑھے اور تجربہ کار تھے۔ وہ زیادہ تجربہ اور مہارت رکھتے تھے لیکن ہمارے پاس ان سے زیادہ سچ تھا۔ تجربہ ہار گیااور جیت بالآخر سچ کی ہوئی۔ سانچ کو آنچ نہیں اور جھوٹ کو سات پردوںمیں چھپانا پڑتا ہے۔ مکروفریب جن معاشروں کا خاصہ ہیں ان کی بنیادیں جھوٹ پر استوار ہیں اور جہاں سچائی کا بول بالا ہے وہاں ''اطلاعات تک رسائی'' کے قوانین کا صحیح معنوںمیں اطلاق ہو رہا ہے۔ ہم نے بھی یہ قوانین گزشتہ دو تین سالوں میںبنائے ہیں مگر مجال ہے جومعلومات بہم پہنچانے میں ذرہ بھر بھی نیک نیتی ہو۔ ملکی اور غیر ملکی صحافی ، وفاقی حکومت کے قانون کو ایک اچھا قانون قرار دینے سے گریزاں ہیں چونکہ اس میں اطلاعات تک رسائی میں رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں۔ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے قدرے بہتر قانون بنایا ہے۔ لیکن وہاں پر بھی اطلاعات تک رسائی میں ابھی مشکلات آ رہی ہیں۔ ایک اچھی حکومت کے لیے قوم کا باخبر رہنا بہت ضروری عمل ہے۔گڈ گورننس اور بیڈگورننس کی وجوہات اور ان میں بنیادی فرق سمجھنا درکار ہو تو بس یہ بات سمجھ لیجئے کہ جہاں باخبر قوم ہو گی وہاں بیڈ گورننس زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکتی چونکہ عوامی دباؤ کے سامنے بری حکومت کا تادیر ٹھہرنا مشکل ہی نہیں ناممکنات میں سے ہے۔ آج کل پاکستان میں پانامہ کا ہنگامہ ہے۔ بدیہی طور پر یہ جھوٹ کی داستان لگتی ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے کئی جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔ بیانات میں تضاد ہے لیکن قانونی پیچیدگیوں میں مقدمے کوالجھایاجا رہاہے۔ جن ممالک میں سچ کی اہمیت ہے وہاں پانامہ لیکس میں نام آتے ہی ایک وزیراعظم استعفیٰ دے کر گھر چلا جاتاہے جب کہ دوسرے وزیراعظم اپنے والد گرامی کی آف شور کمپنی سے اپنی لاتعلقی ثابت کرنے کے لیے اپنی ٹیکس ریٹرن کے گوشوارے پارلیمنٹ میں پیش کرنے میں عافیت جانتے ہیں۔ دوسری طرف ہم ہیںجنہوں نے پانامہ انکوائری کمیشن ٹی او آر بنانے میں پہلے چھ ماہ ضائع کر دیے اوراب عدالت عظمیٰ میں مقدمے کو مختلف طریقوں سے الجھایا جا رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس سامنے آئے ہیں کہ سنی سنائی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور تماشہ یہ ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی فیملی اپنے دفاع میں قطری شہزادے کے جس خط کا سہارا لے رہی ہے اس میں سنی سنائی باتوںکے حوالے ہی ہیں۔ کوئی ٹھوس ثبوت یا مستند منی ٹریل ابھی تک میڈیا کے سامنے آئی ہے اور نہ ہی عدالت عظمیٰ میں کوئی ایسا ریکارڈ پیش کیاگیا ہے کہ جس کو مدنظر رکھ کر حکمران گھرانے کی بے گناہی پر یقین کیا جا سکے۔ یہ بحیثیت قوم ہمارے لیے اچھی صورت حال نہیں ہے۔ چونکہ جب اقتدار جھوٹ کے سہارے قائم رکھے جاتے ہیں تب اوپر سے لے کرنیچے تک پورا معاشرہ جھوٹ کے شیطانی چکرکی لپیٹ میں آ جاتا ہے ۔ دیکھ لیجئے آج پاکستان میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں